Global Editions

زوم کے استعمال میں اضافہ تو ہورہا ہے، لیکن یہ کس حد تک محفوظ ہے؟

کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد لوگ گھر بیٹھ کر کام کررہے ہیں جس کے باعث ویڈیو کانفرنسنگ کی اس ایپلیکیشن کے استعمال میں اضافہ ہوگیا ہے۔ لیکن اس کے تحفظ اور پرائیوسی کے متعلق کئی سوالات کھڑے ہورہے ہيں۔

ویڈیو کانفرنسنگ پلیٹ فارم زوم دعوی کرتا ہے کہ وہ اینکرپشن کا بھرپور استعمال کرتے ہيں۔ تاہم ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ اپنی ایپ پر منعقد ہونے والی تمام میٹنگز کے ویڈيو اور آڈیو تک رسائی کرسکتا ہے۔ دوسری رپورٹ کے مطابق، زوم ہزاروں صارفین کے ای میل ایڈریسز اور تصویریں افشا کررہا ہے اور انجان لوگوں کو ایک دوسرے کو کال کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایپ ایک ہی ای میل ڈومین رکھنے والے صارفین کو ایک ہی کمپنی میں کام کرنے والوں پر مشتمل مجموعے کے طور پر تصور کررہا ہے۔ زوم نے بتایا کہ اس نے ان ڈومینز کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔

اور کیا ہورہا ہے؟ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ زوم نے ان کا ڈیٹا فیس بک پر شیئر کرنے سے پہلے ان کی اجازت حاصل نہيں کی، جس کی وجہ سے اب اس کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی شروع ہوگئی ہے۔ نیو یارک کی اٹرنی جنرل لیٹیشیا جیمز (Letitia James) نے ایک خط میں زوم سے بڑھتی ہوئی ٹریفک کے باعث ہیکرز کے خلاف تحفظ کی فراہمی کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ، زوم بامبنگ (Zoombombing) کا مسئلہ بھی کھڑا ہورہا ہے جس میں ہیکرز سکرین شیئرنگ فیچرز کا فائدہ اٹھانے کے لیے ان میٹنگز میں داخل ہورہے ہیں جنہيں بذریعہ پاس ورڈ محفوظ نہ کیا گیا ہو۔ اس کے جواب میں ایف بی آئی نے لوگوں کو زوم کی میٹنگز کے لیے پاس ورڈ متعین کرنے کے متعلق انتباہ دینا شروع کردیا ہے۔ ہم نے زوم سے اس سلسلے میں رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن انہوں نے اب تک جواب نہيں دیا ہے۔

یہ مسئلہ اس قدر اہم کیوں ہے؟ لوگ کرونا وائرس کی وبا کے باعث گھر سے ہی کام کررہے ہيں اور ویڈیو کانفرنسنگ کے لیے سب سے زيادہ زوم کا ہی استعمال کررہے ہيں۔ اسے دفتری ویڈیو کالز سے لے کر جم کی ورزش تک، ہر قسم کی سرگرمی کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ بلکہ اسے حکومتی میٹنگز کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے اور برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے غلطی سے ایک کابینہ کی میٹنگ کی آئی ڈی عام کردی تھی۔

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

Read in English

Authors

*

Top