Global Editions

ٹوئٹر 24 گھنٹوں میں غائب ہوجانے والے ٹوئیٹس کی ٹیسٹنگ کررہا ہے

ٹوئٹر ”سٹوری“ (story) کی طرح کا ایک نیا فنکشن متعارف کرنے والا ہے جس میں سنیپ چیٹ کی طرح آپ کے ٹوئیٹس 24 گھنٹوں کے بعد غائب ہوجائيں گی، لیکن ابھی سے ہی اس کے غلط استعمال کے متعلق خدشات جنم لے رہے ہيں۔

خبر: ٹوئٹر نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ برازیل میں ”فلیٹس“ (fleets) نامی فیچر کی ٹیسٹنگ کررہا ہے جس میں ٹوئیٹس ایک علیحدہ ٹائم لائن میں نظر آئيں گے اور 24 گھنٹے بعد غائب ہوجائيں گے۔ ٹوئٹر کے پراڈکٹ مینیجر کیوون بیک پور نے متعدد ٹوئیٹس کے ذریعے تصدیق کی کہ ٹوئٹر انسٹاگرام اور سنیپ چیٹ کی طرح کا سٹوری فیچر متعارف کرنے والا ہے۔ یہ کوئی نئی خبر نہیں ہے۔ دی ورج (The Verge) کے مطابق ٹوئٹر ایک سال سے زائد عرصے سے اس فیچر کی ٹیسٹنگ کررہا ہے، لیکن اس کی اندرونی ٹیسٹنگ کو خفیہ رکھا گیا ہے۔

اس فیچر کو کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے؟ آپ ایپ کے اوپر موجود سٹوری کی صف میں جمع کے آئیکن پر کلک کر کے اپنی فلیٹ لکھ سکتے ہيں۔ آپ تصویروں، ویڈيوز اور ٹیکسٹ کا استعمال کرسکتے ہيں، بشرطیکہ فلیٹ کی لمبائی 280 حروف سے زيادہ نہ ہو۔ پوسٹ کرنے کے بعد یہ فلیٹ 24 گھنٹوں تک موجود رہتی ہے۔ فلیٹ کو ری ٹوئیٹ نہيں کیا جاسکتا، لیکن اس کے جواب میں ایموجیز (emojis) پوسٹ کرنا ممکن ہے۔ اگر آپ ٹیکسٹ کی شکل میں جواب دینے کی کوشش کریں گے تو آپ کو پوسٹ کرنے والے کے ان باکس میں پیغام بھیجنے کا اختیار پیش کیا جائے گا۔ فلیٹس 24 گھنٹوں بعد غائب ہوجائيں گی۔

یہ فیچر ان افراد کے لیے ہے جو عارضی سوشل میڈیا کی پوسٹس بنانا چاہتے ہيں۔ ٹوئٹر کے علاوہ دوسری کمپنیاں بھی سٹوری کا فیچر متعارف کرنے کی کوششیں کررہی ہیں۔ اس کی سب سے اچھی مثال لنکڈ ان (LinkedIn) ہے جس نے حال ہی میں سٹوری فنکشن متعارف کرنے کے متعلق اعلان کیا تھا۔ سٹوری کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پوسٹس 24 گھنٹوں میں غائب ہونے کی وجہ سے صارفین کو دوسروں کے ساتھ ایک غیرمستقل طریقے سے بات کرنے کا موقع ملتا ہے۔

کیا اس فیچر کے باعث سائبر ہراس میں اضافہ ہوگا؟ یہ فکر بجا ہے لیکن اس وقت اس سوال کا جواب نہيں دیا جاسکتا۔ ٹوئٹر پر ہراس سے وابستہ ٹول کی بیٹا ٹیسٹنگ کرنے والی ایک کمپنی کی بانی ٹریسی چو (Tracy Chou) کا خیال ہے کہ ٹوئیٹس غائب ہونے کی وجہ سے ثبوت حاصل کرنا یا لوگوں کو جواب دہ ٹھہرانا ناممکن ثابت ہوگا۔ وہ کہتی ہيں کہ ”اس پلیٹ فارم پر پہلے بھی یہ مسئلہ کھڑا ہوچکا ہے۔ ہراساں کرنے والے افراد اس قدر چالاک ہیں کہ وہ اپنی ٹوئیٹس صرف تھوڑی دیر کے لیے رکھتے ہيں تاکہ ان کے مطلوبہ افراد کو نظر آجائے۔ اس کے بعد وہ انہيں حذف کردیتے ہيں۔“

تحریر: تانیہ باسو (Tanya Basu)

Read in English

Authors

*

Top