Global Editions

آپ کا اگلا پاس ورڈ اب آپ کی آستین میں

یہ سمارٹ فیبرک الیکٹرانکس یا بیٹریوں کے بغیر آپ کے فون میں نصب میگنیٹومیٹر کی طرح کے ایک آلے کی مدد سے ڈیٹا پڑھ سکتا ہے۔

اگر آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو چاہتے ہیں کہ ان کے کپڑوں میں بھی کسی نہ کسی قسم کے ٹیکنالوجی نصب ہو، لیکن آپ کو آج کل کے بے ہنگم الیکٹرانکس کچھ خاص پسند نہیں ہیں تو ابھی بھی امید کی کرن باقی ہے۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن کے ریسرچرز ایک میگنیٹومیٹر (magnetometer) کی مدد سے، جو آج کل کے فونز میں بہت عام ہے، پڑھے جانے والے ڈیٹا کو سٹور کرنے والے میگنٹائزڈ (magnetized) کپڑوں پر کام کرکے سمارٹ فیبرکس کی پیچیدگیاں کم کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی سے آپ کی چیزوں پر غائبانہ لیبلنگ کرنے کے علاوہ آپ کو پاس ورڈ یا کی کارڈ (key card) کی جگہ اپنے کپڑوں کا استعمال ممکن ہے۔ ان ریسرچرز نے فون کے اشاروں کو کنٹرول کرنے کے لیے دستانوں میں پروئے ہوئے میگنٹائزد دھاگوں کا استعمال کیا ہے، جس سے کپڑے پر کسی بھی قسم کی الیکٹرانکس یا بیٹریوں کی ضرورت ختم ہوگئی۔ اس مہینے کینیڈا کے شہر کیوبیک میں انسان اور کمپیوٹر کے انٹرفیسز پر ایک کانفرنس میں اس پراجیکٹ کے اوپر ایک پیپر پیش کیا گیا تھا۔

کنیکٹڈ (Connected) کپڑے کئی سالوں سے موجود ہیں، اور آرٹسٹس، سٹارٹ اپ کمپنیاں اور گوگل جیسی بڑی کمپنیاں ان کے گن گاتے رہے ہیں، لیکن یہ زیادہ مقبول ثابت نہیں ہوپائے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجوہات ان کی مہنگائی اور پائیداری کے مسائل ہیں۔

UW نیٹورکس (UW Networks) اور موبائل سسٹمز لیب (Mobile Systems Lab) کے ڈائریکٹر اور اسوسیٹ پروفیسر شیام گولاکوٹا (Shyam Gollakota) اور لیب میں زیرتعلیم جسٹن چین (Justin Chan) سمجھتے ہیں کہ ان کے کام سے سمارٹ کپڑوں اور اسیسریوں کو بہت فائدہ ہوگا، کیونکہ وہ کپڑوں کو ایسے دھاگوں سے میگنیٹائز کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو بہ آسانی دستیاب، کم قیمت اور آسانی سے چھپ جاتا ہے۔ کی ایک ہفتے کے اندر مقناطیسی فیلڈ کافی حد تک کم ہوگئی تھی، لیکن یہ بات جلد ہی سامنے آگئی کہ اس کپڑے کو دھونے، سکھانے اور استری کرنے کے بعد بھی اس پر اینکوڈ کیا گیا ڈیٹا ایک اینڈروائيڈ سمارٹ فون کی مدد سے پڑھا جاسکتا ہے۔

چین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی بہت پائیدار ہے اور اس دھاگے کو دوبارہ پروگرام بھی کیا جاسکتا ہے۔

ریسرچرز نے کپڑے کو اس دھاگے سے پرونے کے بعد میگنیٹس کی مدد سے اس میں مثبت اور منفی پولیرٹیز رکھنے والے 0 اور 1 کی مختصر سٹرنگز کی اینکوڈنگ کی۔ اس کے بعد انھوں نے فون میں اورینٹیشن کے لیے موجود میگنیٹومیٹر کی مدد سے ایک ایپ کے ذریعے اس فیبرک میں موجود ڈیٹا کو سمارٹ فون کے ذریعے پڑھنے کی کوشش کی۔ ایک ڈیمو ویڈیو میں میگنیٹومیٹر سے آراستہ بند دروازے کو ایک ایسی قمیض سے کھولتا ہوا دکھایا گیا ہے جس کی آستین میں میگنیٹومیٹر نصب تھا۔

میگنیٹائزڈ کپڑوں کے علاوہ، ان ریسرچرز نے ٹائی، بیلٹ اور بریسلیٹ جیسی اسیسریوں کے پروٹوٹائپ بھی بنائی ہیں۔

ان ریسرچرز کو اس دھاگے کو دستانوں میں پرونے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ ایک قریبی سمارٹ فون تین ڈائمنشنز میں مقناطیسی فیلڈ کی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے سوائپس اور ٹیپس جیسے اشاروں کی بھی نشاندہی کرسکتا ہے۔

آپ کے کپڑوں میں یہ ٹیکنالوجی نظر آنے میں وقت لگے گا۔ اس وقت میگنیٹائزڈ دھاگوں سے آراستہ دستانے چھ اشارے تو سمجھتے ہیں، لیکن ان کی درستی کی شرح صرف 90 فیصد ہے۔ گولاکوٹا کے مطابق جب اشاروں کی تعداد صرف چار ہو تو درستی کی شرح 99 فیصد ہوجاتی ہے۔

اس کے علاوہ، اس وقت میگنیٹائزڈ دھاگے کو آپ کی آستین میں پرو کر RFID کے ٹیگ کے طور پر تو استعمال کیا جاسکتا ہے، لیکن اس میں ڈیٹا کی فائلیں سٹور نہیں کی جاسکتی ہیں۔ گولاکوٹا کہتے ہیں وہ اور چین کپڑوں پر مزید ڈیٹا سٹور کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top