Global Editions

موبائل فون کے ذریعےبیماریوں کے خطرات کی پیش گوئی

کس طرح آپکا تفصیلی جینیاتی پروفائل آپ کو بیماریوں کے خطرے کی پیش گوئی اور آپ کی صحت کو بہتر بنانے کے بارے میں بتا سکتا ہے۔

2018 کے آغاز میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ 12 ملین سے زائد لوگوں نے ڈائریکٹ ٹو کنزیومر جینٹیک ٹیسٹ سے ڈی این اے کا تجزیہ کروایا تھا۔ کچھ مہینوں بعد یہ تعداد 17 ملین ہو گئی۔ دریں اثنا، جینیاتی اور ڈیٹا سائنسدان جینیاتی اعداد و شمار کو ہمارے لئے مفید بنا رہے ہیں جیسا کہ لوگوں کو دل کا دورہ پڑنے کے بارے میں پہلےبتانا یا ان خواتین کی شناخت جو چھاتی کے کینسر کے خطرے پر ہیں باجود اس کے کہ ان کے خاندان میں ایسی کوئی بیماری نہیں ہےیا بی آر سی اے جین میوٹیٹیشن نہیں ہے۔

متوازی ترقی نے ہماری چیزوں کو تلاش کرنے اور ڈیٹا کے حجم کو محسوس کرنے کے اندازکو ڈرامائی طور پر تبدیل کر دیا ہےجبکہ اس وقت سمارٹ فونز ڈیٹا کےحقیقی پورٹل بنتے جا رہے ہیں جہاں سے ہم ڈیٹا تک رسائی لیتے ہیں اور باخبر فیصلے کرتے ہیں۔

اکٹھے یہ چیزیں ہمارے جینیاتی معلومات کو حاصل کرنے اور استعمال کرنے میں تبدیل کردیں گی۔ ڈاکٹروں کے ہدایات پر باضابطہ طور پر ٹیسٹ کرانے کی بجائے، لوگ اپنی صحت کے بارے میں فیصلے کرنے میں تیزی سے ڈیٹا کا استعمال کریں گے۔

کچھ استثناء کے ساتھ، جینیاتی ٹیسٹ صرف بیماریوں کی غیر معمولی شکلوں کی شناخت کرتے ہیں۔یہ ٹیسٹ ایک ہی جین میں غیر معمولی متغیرات کی شناخت کرتے ہیں جو بیماری کی وجہ بنتے ہیں۔

لیکن بہت ساری بیماریاں ایک جین میں متغیرات کی وجہ سے نہیں ہوتیں۔ اکثر جینیاتی لیٹرز میں ایک یا زیادہ تبدیلیاں مجموعی طور پر عام بیماریوں جیسے دل کادورہ، ذیابیطس، یا پروسٹیٹ کینسر جیسے خطرات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اس قسم کی تبدیلیوں کے لئے ٹیسٹ حال ہی میں ممکن ہوئے ہیں اور یہ آپ کا “پولی جینک” خطرہ سکور بناتے ہیں۔ آپ کی ماں اور باپ کی وراثت سے مختلف قسم کے مجموعہ کے پولی جینک کے خطرے کے سکور حاصل کیے جاتے ہیں اور ان خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں جو آپ کے والدین میں سے کسی کو نہیں ہوتے۔ آپ کے پولی جینک سکور ایک ناگزیر قسمت کی نشاندہی نہیں کرتے ہیں۔بہت سارے افراد میں 80 اور 90 کی دہائی میں خطرات ہوتے ہیں جبکہ ان کو یہ بیماری نہیں ہوتی۔  پھر بھی یہ اسکور اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ہم کچھ بیماریوں کو کیسے دیکھتے ہیں اور ان کے لگنے کے خطرے کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

ایک پولی جینک خطرے کا سکور آپ کو بتا سکتا ہے کہ آپ چھاتی کے کینسر کے زیادہ خطرے پر ہیں اور آپ کو اس کو زیادہ سنجیدگی سےسکریننگ کی ضرورت ہے۔

ایک نایاب قسم کی بیماری کی شکل کے جینیاتی ٹیسٹ کا نتیجہ عام طور پر سادہ ہاں یا نہیں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، پولی جینک سکور بہت کم خطرہ سے بہت زیادہ خطرے کے امکانات کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ چونکہ وہ عام آبادی کے جینوم لیٹرز کے مجموعے سے حاصل ہوتے ہیں، اس لیے وہ ہر کسی سے متعلق ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس معلومات کو مناسب طریقے سے استعمال کرنے کا ایک طریقہ تلاش کریں گے؟ کیا وہ ہمارے طرز زندگی میں تبدیلیوں کے بارے میں مطلع کر سکتا ہے، یا ہمیں ادویات یا سکریننگ کی طرف اشارہ کرسکتا ہے جو ہمیں صحت مند رہنے کے امکانات کو بہتر بنا سکے ؟

کولیسٹرول کو کم کرنے والی ادویات بہت اچھی کیس سٹدی ہیں۔ان کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ 95 فیصد لوگوں کو دل کے دورہ یا سٹروک میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا ماسوائے اس کے کہ وہ لیب سے اچھی کولیسٹرول لیول کی رپورٹ لے لیتے ہیں۔ ہم پولی جینک سکور سے غیر ضروری کولیسٹرول کے ٹیسٹ کو کم کر سکتے ہیں جو کہ نہ صرف مہنگےہیں بلکہ ان سے ذیابیطس کے خطرات ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اگر آپ کودل کے دورہ کا خطرہ کا سکور 20فیصد ہے تو آپ کولیسٹرول کی دوا کا ڈبل فائدہ ہے جس کی باٹم لائن 20فیصد ہے؛ یہ افراد اپنا لائف سٹائل تبدیل کرکے بڑا فائدہ لے سکتے ہیں( سگریٹ نوشی ترک کرکے، زیادہ ورزش کرکےیا زیادہ سبزیاں کھا کر)۔ لہٰذ آپ پولی جینک سکور سے نہ صرف کولیسٹرول کی دوا لینے کے بارے میں جان سکتے ہیں بلکہ اپنے لائف سٹائل میں بھی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ (اور فن لینڈ میں ایک حالیہ بڑے پیمانے پر کئے گئے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دل کے دورہ کے بڑے خطرات والے سکو ر کےلوگوں نے لائف سٹائل میں تبدیلی سے زیادہ فوائد حاصل کئے ہیں۔)

اور یہ صرف آپ کی دل کی بیماری کے بارے میں نہیں ہے۔ ایک پولی جینک خطرے کا سکور آپ کو بتا سکتا ہے کہ آپ چھاتی کے کینسر کے زیادہ خطرے پر ہیں اور آپ کو زیادہ تیزی سے سکیننگ کرانے کی ضرورت ہوتی ہے اور کچھ لائف سٹائل کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ یہ آپ کو بتا سکتا ہے کہ آپ کلون کینسر کے زیادہ خطرے پر ہیں، اور اس وجہ سے آپ کو سرخ گوشت سے بچنا چاہئے۔ یہ آپ کو بتا سکتا ہے کہ آپ ذیابیطس کی قسم 2 کے زیادہ خطرہ پر ہیں، لہذا آپ کو اپنا وزن دیکھنا چاہیے۔

ابھی تک ثبوتوں کے باوجود کہ پولی جینک سکور اہم ہیں، حال ہی تک کوئی ایسی سروس موجود نہیں تھی جو لوگوں کو ان کا اپنا سکور کا تعین کرنے کی اجازت دے ۔ہم نے اس مسئلہ کے لئے فری موبائل ایپ مائی جین رینک(MyGeneRank) بنانے کی کوشش کی ہے جو لوگوں میں جینیاتی ڈیٹا سےدل کے دورہ اور سٹروک کے خطرے کا اندازہ لگاتی ہے۔یہ لوگوں کے پولی جینک خطرات کی روشنی میں ان کے رویوں پر اثرات کا جائزہ لینے کے لئےکلینیکل ٹیسٹنگ کی اجازت دیتی ہے ۔ یہ کام ایپ لوگوں کی خود کی طرف سے بتائی گئی معلومات اور سمارٹ فونز سے منسلک موبائل سینسرز کے ذریعے لیے گئے ہیلتھ ڈیٹا سے کرتی ہے۔

اب بھی کچھ مسائل اور تنازعات ہیں جن سےہمیں نمٹنے کی ضرورت ہے۔ سب کو اس تک برابررسائی ایک اہم تشویش ہے کیونکہ اس طرح کے مطالعہ جات کی اکثریت یورپی آبادی پرکی گئی ہے۔ اب تک یہ بات سامنے آئی ہے کہ جتنی پیش گوئی زیادہ مضبوط ہوتی جا رہی ہے، وہ دوسری آبادی کے ساتھ کم ٹھیک ثابت ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ، جینیاتی خطرے سے متعلق معلومات کچھ لوگوں کو فکر مند یا پرغلط سوچ پر لے جا سکتی ہیں (یا دوسروں کوجعلی ٹھیک ہونے کااحساس دے سکتی ہے)۔ پچھلے مطالعہ جات سے پتہ چلتا ہے کہ جینیاتی خطرے کے بارے میں معلومات ان نفسیاتی حالات پر کم سے کم اثر انداز ہوتی ہے۔ لیکن ان میں سے بہت سارے مطالعہ جات تب کیے گئے جب پولی جینک عوامل میں خطرات کم تھے۔ جیسے جیسے ہم لوگوں کوجینیاتی خطرے پر پہچاننے کی صلاحیت میں اضافہ کر رہے ہیں، یہ مسائل زیادہ اہم ہوسکتے ہیں۔

ایک اور چیلنج یہ ہے کہ لوگوں کو اس بات پر قائل کرنا کہ اگرا ن کا خطرے کا سکور کم ہے تو ان کو طبی خدمات لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کو یہ یقین دلانےکی ضرورت ہوگی کہ ان کو بغیرضرورت کے علاج معالجہ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان کاخطرے کا سکور کم ہے۔ لوگ تباہ کن واقعات کے امکانات کو اپنے اوپر حاوی کر لیتے ہیں لہٰذا ہمیں اسے تجارتی بنیادوں پر لانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ اس کے صحت پر اثرات کا جائزہ لے سکیں۔
اور آخر میں رازداری رکھنے کے خدشات ہیں۔ ہمیں جینیاتی امتیازی سلوک کو روکنے کی ضرورت ہو گی تاکہ لوگ اپنی جینیاتی معلومات سے فائدہ لے سکیں۔ اور لوگوں کو اس بات کے لئے فکر مند نہ ہونا پڑے کہ کہ انشورنس کمپنیاں اس معلومات تک رسائی حاصل کریں گے اور اپنی قیمتوں میں اضافہ کر دیں گی یا کوریج سے انکار کر دیں گی۔

آپ اپنے جینیاتی خطرے کے سکور کو تبدیل نہیں کر سکتے ہیں۔ لیکن آپ اس خطرے کو دور کرنے کے لئے طرز زندگی اور طبی خدمات لےسکتے ہیں۔ ہم خواتین کے لئے چھاتی کے کینسر کی اسکریننگ کو تیز کر سکتے ہیں اور دل کی بیماری والے لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں کہ اس بات کا فیصلہ کریں کہ ان کو کولیسٹرول کم کرنے والی دوا لینے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ ہم پولی جینک رسک انفارمیشن کو ٹریک کرکے مؤثر صحت کے مشورہ لے سکتے ہیں۔
مستقبل قریب میں آپ کےسمارٹ فون میں ایسی ٹیکنالوجی ہوگی جو آپ کو فزیولوجیکل، جینیاتی، ماحولیاتی اور رویے کی خصوصیات کی نگرانی کرکےدے گی۔ اور یہ معلومات مجازی میڈیکل کوچ اور مصنوعی ذہانت کے نظام سے منسلک ہوسکتی ہیں اور آپ کو صحت کے بارے میں مطالبہ پر بہترین مشورہ دے سکتی ہیں۔

تحریر: علی تورخامانی اور ایرک ٹوپول (Ali Torkamani and Eric Topol)

Read in English

Authors

*

Top