Global Editions

تھری ڈی پرنٹرز سے اب بالوں کا حصول بھی ممکن

ٹیکنالوجی کی دنیا ویسے ہی عجائبات کی دنیا ہے۔ جہاں نت نئی ایجادات اقوام عالم میں بسنے والوں کو حیران کرتی رہتی ہیں۔ اسی تناظر میں ایک اہم ایجاد تھری ڈی پرنٹر سے بالوں کا حصول ہے۔ گنجے پن کا خاتمہ چاہنے والے ابھی زیادہ خوش نہ ہوں کیونکہ اس تکنیک سے ابھی صرف کھلونے ہی تیار کئے جا رہے ہیں۔ تھری ڈی پرنٹگ ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے تکنیک کاروں نے مختلف کھلونوں اور برشزمیں استعمال ہونے والے مختلف اقسام اور موٹائی کے تھری ڈی پرنٹرز سے حاصل ہونے والے بالوں کی کامیاب پیوند کاری کی ہے۔ جس سے مستقبل میں اس جہت میں مزید تجربات اور منازل کے حصول کی راہیں کھل گئی ہیں۔ کارنج میلن (Carnegie Mellon) یونیورسٹی کے ریسرچرز نے مصنوعی بالوں کے ایسے ریشے تیار کرنے کا طریقہ دریافت کیا ہے جسے تھری ڈی پرنٹرز سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے کو FURBRICATION کا نام دیا گیا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت چیز یا کھلونا چاہے وہ پلاسٹک کا ہو یا کسی دھات کا پر مصنوعی ریشے یا بال لگانا مقصود ہو کا تھری ڈی پرنٹر سافٹ وئیر کی مدد سے بالکل ویسا ہی گرافک خاکہ تیار کرتا ہے، پھر دھات یا پلاسٹک کی نچلی سطح پر ایک سے دوسری جانب باریک تہہ تیار کرتا ہے اور پھر ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اور سافٹ وئیر کی مدد سے اسی باریک تہہ پر شطرنج کی بساط کے خانوں کی طرح مطلوبہ ہدف کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ تھری ڈی پرنٹرز سے مصنوعی ریشے یا بال حاصل کرنے کی ریسرچ میں شامل ایک طالب علم گیراڈ لیپٹ کا کہنا ہے کہ تھری ڈی پرنٹر سے بالوں کے حصول کے لئے پگھلے ہوئے پلاسٹک کا بال یا ٹکڑا پرنٹر میں داخل کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں پرنٹر ہیڈ جو تھری ڈی پرنٹر کا ہی ایک حصہ ہوتا ہے کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ مطلوبہ ہدف پر پیوند کاری کے لئے بالوں کو پرنٹ کرے۔ تھری ڈی پرنٹر سافٹ وئیر کی مدد سے پگھلے ہوئے پلاسٹک کے باریک اور نرم ریشے پرنٹ کرتا ہے جسے مطلوبہ ہدف پر لگا دیا جاتا ہے۔ بال لگائے جانے کے بعد حسب ضرورت تراشے بھی جا سکتے ہیں۔ اس تکنیک کی کامیاب آزمائش کے بعد تکنیک کاروں نے مختلف سائز، موٹائی کے بالوں کے گچھے بھی پرنٹ کئے ہیں جس سے مختلف اقسام کے برشسز بھی تیار کئے جا سکتے ہیں۔ تکنیک کار اس حوالے امریکی ریاست نارتھ کیرولینا میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس میں اس تکنیک کا عملی تجربہ بھی کریں گے۔ اب جبکہ تھری ڈی پرنٹرز کا حصول ایک عام آدمی کی دسترس میں ہے جسے چند سو ڈالرز میں حاصل کیا جا سکتا ہے سے امید بندھ گئی ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو انسانیت کی فلاح و بہبود اور مزید ترقی کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تحریر: کیلب گارلنگ ( Caleb Garling)

Read in English

Authors
Top