Global Editions

جرائم کی تفتیش کے لیے ڈیٹا مائننگ کی جدید تکنیک

ماضی میں امریکہ میں انٹیلی جنس ایجنسیوں اور دیگر حکومتی اداروں میں معلومات کے تبادلے ، تعلقات کار، باہمی تعاون کا نظام بالکل موجود نہیں تھا۔ اس کا احساس امریکی حکام اور مقتدر حلقوں کو11/9سانحے کے بعد ہوا ۔ تب انٹیلی جنس ایجنسیوں اور دیگر حکومتی اداروں میں معلومات کے تبادلے ، تعلقات کار، باہمی تعاون کا نظام بتدریج تشکیل دیا گیا ۔ معلومات شیئرنگ کی راہ میں ریاستی اور وفاقی قوانین کی ان دیکھی دیواریں حائل تھیں،جنھیں دور کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا لیکن امریکیوں نے بحیثیت ایک قوم اس کام کو سرانجام دیا۔ اس فیچر میں ان تمام رکاوٹوں اور انھیں بتدریج دور کرنے کی کوششوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

لوگ طویل عرصے سے پریشان ہیں کہ ٹیکنالوجی ان کی نجی زندگی کو تباہ کررہی ہے۔ آج سب ہی فیس بک کا شور مچا رہے ہیں لیکن 1890ء میں ولیم برانڈس اور ان کے ساتھی سیموئل وارن نے اس وقت کے میڈیا مثلاً ٹیبلائیڈ اور سستی فوٹوگرافی والے اخبارات کی عام افراد کی نجی زندگی میں مداخلت پر بات کرنا شروع کردی تھی۔ دونوں وکلاء نے عام قانون کے طور پر پرانے اصول‘‘رازداری کا حق’’ کا قانونی نقطہ نظر سے جائزہ لیا۔ برانڈس اور سیموئل نے اس وقت نجی زندگی کے تحفظ کے قانون کی بنیاد ڈال دی تھی۔ تاہم اسے امریکی آئین یا بل آف رائیٹس میں شامل نہ کیا جاسکا۔ اٹھارویں صدی میں عام آدمی کی نجی زندگی کو قانونی طور پر بہت کم تحفظ حاصل تھا لیکن اس دور میں نجی یا ذاتی زندگی کا نام اتنی شدت سے سامنے نہیں آیا تھا۔ اس دور کے شہریوں کے گھر کئی کئی میل دور تھے اور درمیان کھیت اور جنگل پڑتے تھے۔ اس دور میں بھی یہ تصور عام تھا کہ دیواریں دراصل آنکھوں کو متجسس کرتی ہیں کہ ان کے پیچھے کیا ہے؟

اٹھارویں صدی میں جب قومی پوسٹل سروس نے کام شروع کیا تو نجی معلومات پھیلنے کا حلقہ وسیع ہوتا گیا، معلومات کی روائتی حفاظتی ٹیکنالوجیز ناکام ہوگئیں۔ اب محض خطوط کو سیل بند کرنا کافی نہیں رہا تھا مثلاً اگر کوئی شخص خط یا پارسل بھیجتا تھا تو اسے یقین نہیں تھا کہ مطلوبہ شخص ہی اسے کھولے گا۔ لہٰذا سپریم کورٹ کی طرف سے 1878ء میں اپنے حکم کے ذریعے خطوط اور پارسل کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا گیا۔ امریکہ میں چوتھی آئینی ترمیم کے ذریعے خط کتابت میں رازداری کو قانونی حق تسلیم کیا گیا۔ جب برانڈس اور وارن نے نیا قانون تجویز کیا تو اس میں دراصل انفرادیت، آزادی، سالمیت اور انسانی وقار کو فوقیت دی گئی تھی۔

ماضی کی پوسٹل سروس سے لے کر موجودہ دور کی ای میل تک، خط کتابت کے تحفظ کا پیٹرن بار بار دہرایا جاتا رہا۔ معلومات کے تحفظ کے لیےنئی ٹیکنالوجیز میں پرانی تکنیک یعنی دیواریں تعمیر کرکے، بند دروازوں یا خط کتابت کو  سیل بند کرنے کو ہی استعمال کیا گیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جس طرح معلومات کا نیٹ ورک پھیل رہا تھا اس کے لیے پرانا قانونی ماڈل ناکافی تھا۔ برانڈیس اور وارن نجی زندگی کی معلومات کے تحفظ کے لیےقائم دیواروں کے باوجود فکر مند تھے۔ وہ جانتے تھے کہ پولیس کسی وارنٹ کے بغیر چاردیواری میں داخل نہیں ہو سکتی کیوں کہ قانون ان اشیاء کا تحفظ کرتا ہے جو چاردیواری کے اندر ہوں لیکن ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ معلومات تک رسائی آسان ہوتی گئی جس سے قانون میں ابہام پیدا ہو گیا کیوں کہ قانون کے تحت بند دروازہ کھولنے دیوار کے پیچھے سے سُن گُن لینے ، خط کی سیل توڑنے یا نجی ٹیلی فون سننے کے لیےوارنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ جائزہ لیں تو نجی زندگی کو لاحق خطرات دراصل معلومات کے جدید بہاؤ کی وجہ سے ہیں ۔ گزشتہ پچاس سالوں سے معلومات کے بہاؤ سے جو ماحول بنا ہے اس کی وجہ سے ذاتی معلومات کا تحفظ محض دیواروں تک محدود نہیں رہا۔ وہ قانونی نظام جو نجی زندگی کی معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیےبنایا گیا، اب اس میں ذاتی معلومات کو تحفظ دینے کی صلاحیت نہیں ہے ۔ ان تمام منفی نکات کے باوجود ہمیں براڈ کاسٹنگ یا جاسوسی کی خاص ٹیکنالوجیز کے بارے میں فکر مند نہیں ہونا چاہیے، مثلاً فیس بُک کو ہی لے لیں جس نے حکومتوں کو معلومات کے سمندر میں سے اپنی مطلوبہ اطلاعات نکالنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ اس میں اہم چیز خصوصی ٹیکنالوجیز کا فروغ نہیں بلکہ معلومات کے بہاؤ کے مختلف راستے ہیں۔

راجر کلارک نے 1980ء میں معلومات کی نگرانی کے لیے ڈیٹا کی چھان بین(Data veillance)کی اصطلاح گھڑی جس نے ڈیٹا کی نگرانی کرنے والوں کے لیے ذاتی معلومات کو نادر اور قیمتی بنا دیا کیوں کہ ڈیٹا مائننگ کا تصور معلومات کی کمی یا قلت کے ماحول میں کام نہیں کرتا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ چیز ڈیٹا نہیں کہلاتی جسے ریکارڈ یا منظم نہ کیا گیا ہو۔ آج کے دور میں بہت زیادہ ذاتی معلومات ریکارڈ اور جمع کی جارہی ہیں، انھیں منظم کیا جارہا ہے، انھیں چھان بین کے عمل سے گزارا جارہا ہے، انھیں معلومات کے وسیع ذخائر میں پھینکا جارہا ہے ۔یہ سب کچھ اب ایک کاروبار بن چکا ہے۔ مثال کے طور پر ڈیٹا بیس کی کمپنی ایگزیم میں 96فیصد امریکیوں کے ڈیٹا بیس کی 15سو درجہ بندیاں کی گئی ہیں۔ ان کے پاس ڈیٹا کو کمپیوٹر میں جمع کرنے کا نیٹ ورک اور ڈیٹا ذخیرہ کرنے کا سستا نظام بھی موجود ہے جس کا مطلب ہے کہ ہر وہ چیز جسے ریکارڈ کیا جاسکے اسے غیر معینہ مدت کے لیےذخیرہ کرتے ہیں، اس کی چھان بین کرتے ہیں اور مطلوبہ معلومات کو محفوظ کرلیتے ہیں۔ اس لیے جب ہم ذاتی معلومات کے تحفظ اور نگرانی کی بات کرتے ہیں تو یہ بات ناممکن ہو جاتی ہے کہ ہم جارج اورویل کی خیالی دنیا کے نظریے کو بھول جائیں جس میں وہ ہر شے کو ہی غلط اور برا بتاتا ہے اور جہاں دنیا بغیر دیواروں کے ہے۔ جہاں پر ٹیلی ویژن کے ذریعے آپ کی نگرانی کی جارہی ہے اور مائیکروفونز آپ کی ہلکی سی آواز کو بھی ریکارڈ کرلیتے ہیں تاہم جارج اورویل نے ڈیٹا ویلنس کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ امریکی آئین کی چوتھی ترمیم میں حکومتی مداخلت سے اس امر کو تحفظ دیا گیا ہے کہ جس کے بارے میں امریکیوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ ہماری خط کتابت تو نہیں پڑھی  جارہی یا ہمارے گھروں کی تلاشی تو نہیں لی جارہی۔

معاشرے میں جرائم کی تفتیش کے لیےڈیٹا مائننگ ایک اچھی مثال ہے۔ کسی ملزم کے ساتھیوں سے اس کے جرائم کی تفتیش پولیس کا ایک قدیم حربہ ہے لیکن اس میں پیسہ، وقت اور کوششیں صرف ہوتی ہیں۔ قانونی طور پر یہ بہت پیچیدہ عمل ہے۔ ایسی تحقیقات عموماً ابتدائی شک کی بنیاد پر کی جاتی ہیں لیکن اب ڈیٹا کا حجم بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔ جس سے تحقیق کی اب ایک نئی قسم متعارف ہو گئی ہے وہ یہ ہے کہ کسی مشتبہ شخص کے رویے کے پیٹرن اور ساتھیوں سے تحقیقات کی بجائے مشتبہ شخص کے مکمل ڈیٹا سے مطلوبہ معلومات اکٹھی کرلی جائیں۔ موضوع کی بنیاد پر ڈیٹا کی تلاش کے مقابلے میں پیٹرن کی بنیاد پر ڈیٹا مائننگ ریورس کام کرتی ہے۔ کسی مجرم کے تعلقات کی بجائے ڈیٹا مائنر اس کے پروفائل میں مماثلت اور کوائف کی چھان بین کرتا ہے۔ ڈیٹا ویلنس سے لوگوں اور ان کے ساتھیوں سے متعلق عام طور پر دستیاب ریکارڈ سے گہری معلومات پر مبنی جامع خلاصہ میسر آجاتا ہے۔

اس قسم کی چھان بین کے لیے پرائیویسی کا دفاع غیر ضروری ہوتا ہے۔ امریکی آئین کی چوتھی ترمیم صرف دو یا اس سے زیادہ افراد کے درمیان ہونے والی بات چیت کو تحفظ دیتی ہے لیکن تحریر یا آلات سے کی گئی ریکارڈنگ چوتھی ترمیم کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔ اسی لیے بڑے پیمانے پر ڈیٹا جمع کرنے اور اسے فروخت کرنے پر بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں پر پابندی عائد نہیں کی گئی۔ سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے کہ دو افراد کی کسی مواصلاتی کمپنی کے ذریعے کی گئی بات تیسرے فریق کی ملکیت بن جاتی ہے جو اسے اپنی مرضی کے مطابق حاصل کرسکتا ہے، ذخیرہ کرسکتا ہے اور پھیلا سکتا ہے۔جب معلومات کو ذخیرہ کرنا، اسے منظم کرنا اور رسائی حاصل کرنا آسان نہ تھا، تو پرائیویسی کے مضمرات بہت کم تھےلیکن جب سے حکومتی تجزیہ کاروں نے ٹیلی کمیونیکیشن کی کمپنیوں کے ڈیٹا کے تجزیہ کی طرف توجہ دی تو قانونی پیچیدگیوں کے بغیر معلومات حاصل کرکے ان کا عملی تجزیہ کرنا آسان ہو گیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے انٹیلی جنس کی بنیاد پر پولیسنگ کے نظام میں بڑے عرصے سے دلچسپی ظاہر کررہے ہیں لیکن پیٹرن کی بنیاد پر ڈیٹا مائننگ، ڈیٹا کی بنیاد پر پیش گوئی کرنے والے تجزیے کا استعمال نائن الیون کے بعد کیا گیا۔ امریکہ میں 11/9کمیشن نے الزام لگایا تھا کہ 11ستمبر 2011ء کا سانحہ اداروں کے آپس میں معلومات کی شیئرنگ نہ ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔ انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنی معلومات ایک دوسرے سے خفیہ رکھتی تھیں۔ خفیہ ایجنسیوں میں اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے بارے میں جس کو جو معلومات تھیں۔ وہ انھوں نے ایک دوسرے سے چھپا کر انتہائی خفیہ رکھیں۔ گزشتہ دس سالوں میں امریکہ میں اس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے مربوط انٹیلی جنس سسٹم، قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تعاون، دہشتگردی کے خلاف مشترکہ اقدامات ، ملکی سکیورٹی ایجنسیوں میں ہم آہنگی ، تعلقات کار اور باہمی تعاون کو فروغ دیا گیا تاکہ دہشتگردی کے خلاف موثر اقدامات کیے جائیں۔ جس کے بعد وفاقی اور ریاستی ایجنسیاں کارکردگی اور افعال میں بہتری لے آئیں۔ قبل از وقت جرائم کے ہونے کا اندازہ لگا کر پولیس کے حرکت میں آنے کو ممکن بنایا۔ انھوں نے نہ صرف وسیع تر معلومات سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ کار ڈھونڈ لیا ہے بلکہ اطلاعات کے نظام کو پھیلا دیا ہے۔

امریکہ میں جاسوسی ایجنسی کو مرکزیت حاصل نہیں ہے۔ کانگرس نے 2002ء میں ‘‘تمام ذرائع پر مشتمل دہشت گردی کے خلاف موثر اطلاعاتی مرکز بنانے کا حکم دیا جو تمام ایجنسیوں سے ڈیٹا اکٹھا کرکے اس کا تجزیہ کرنے کے تمام وسائل استعمال کرے گا۔ اسی سال محکمہ دفاع کی ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی (DARPA ) نے ڈیٹا جمع، ڈیٹا مائننگ اور رازداری کے تحفظ کے لئے "ٹوٹل انفارمیشن اویئرنیس" پروگرام کے تحت نئی ٹیکنالوجی تیار کرنے کا اعلان کیا۔ ٹی آئی اے نامی پروگرام ایک مرکزی ایجنسی کی طرف سے مرتب کیا گیا تھا۔ آئی ایس ای کے پروگرام منیجر کشمندرا پال (Kshemendra Paul) کا کہنا ہے کہ ادارے کا مقصد خود کو مضبوط کرنا نہیں بلکہ ڈیٹا سنٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی انٹیلی جنس اداروں کو معلومات فراہم کرنا ہے۔ آئی ایس ای نے تمام سرکاری اداروں میں باہمی تعاون اور تعلقات کار کو مربوط اور مضبوط بنایا۔ اب کسی بھی ایجنسی کی طرف سے جرم یا دہشتگردی یا اس سے متعلق منصوبوں کی رپورٹ فائل کی جائے تو وہ تمام ایجنسیوں اور متعلقہ اداروں کو بھیج دی جاتی ہے۔ تمام ایجنسیاں ایک سادہ سائن کر کے مرکزی ڈیٹا سنٹر سے معلومات حاصل کرسکتی ہیں۔ امریکہ میں آئی ایس ای کے تحت 2016ء میں 7216فیوژن سنٹر قائم کیے گئے ہیں جن میں وفاقی، ریاستی اور مقامی حکومتوں کے نمائندے معلومات حاصل کرکے نہ صرف آپس میں شیئر کرتے ہیں بلکہ نجی کمپنیوں اور غیر ملکی حکومتوں کو بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ سارا کام ایک ویب سائٹ "دی فیوژن سنٹر"کے ذریعے سرانجام دیا جاتا ہے۔ اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیےیہ فیوژن سنٹرز اپنے اپنے دائرہ عمل میں تمام جرائم اور ممکنہ خطرات کا ڈیٹا حاصل کرکے ایجنسیوں کو شیئر کرتے ہیں۔ لہٰذا فیوژن سنٹرز زیادہ سے زیادہ ڈیٹا جمع کرکے ان کی چھان پھٹک کرتے ہیں، جس کے بعد اس ڈیٹا کی معلومات کے حوالے سے چھان پھٹک کی جاتی ہے۔ مین ہٹن انسٹی ٹیوٹ کے ایک پیپر میں بتایا گیا ہے کہ فیوژن سنٹر میں معلومات مرتب کرتے وقت جب خطرے (Threat)کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس کا مطلب تمام ایسے قدرتی یا انسانی افعال و واقعات ہیں جس سے شہریوں، املاک اور حکومتی اداروں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ جب کہ فیوژن سنٹر میں معلومات(Information) کی اصطلاح کا مطلب ایسی اطلاعات اور معلومات ہیں جو مناسب استعمال کے لیےمحفوظ کی جائیں۔ فیوژن سنٹر کا نظام جاننے کی ضرورت اور شیئر کرنے کی ضرورت کے نظریات کا مجموعہ ہے۔ یہاں پر کسی بھی قسم کی معلومات کا کسی واقعہ سے تعلق قائم ہو رہا ہو تو ایجنسیوں کو فراہم کردی جاتی ہیں۔

اپنے ایک مضمون میں ڈینیل سٹرون اور فرینک پاسکل نے اپنی رائے دی ہے کہ فیوژن سنٹر سے فرد کی قانونی اور نجی زندگی کو خطرہ لاحق ہے کیوں کہ فیوژن سنٹرز حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے روائتی احتساب سے بچنے کے لیےریاستی اور وفاقی قوانین کو استعمال کرتے ہیں۔ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ ایجنسیوں کے باہمی تعاون میں کوئی رکاوٹ یا دیوار نہیں ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ پرائیویسی ایکٹ 1974ء واضح کرتا ہے کہ وفاقی ایجنسیاں کون سی معلومات اپنے پاس رکھ سکتی ہیں لیکن ریاستی ایجنسیاں اس قانون کے دائرہ عمل میں نہیں آتیں۔ لہٰذا وفاقی ایجنسیاں بھی ان سے معلومات حاصل کرسکتی ہیں۔ اسے نیٹ ورک کی کمزوری یا خلا کہا جاسکتا ہے۔ رابرٹ او ہیرو جونیئر اخبار واشنگٹن پوسٹ میں فیوژن سنٹر کے طریقہ کار کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ مراکز ٹریفک ٹکٹس، پراپرٹی ریکارڈ، چوری سے متعلق رپورٹس، ڈرائیونگ لائسنس، امیگریشن ریکارڈ، ٹیکس انفارمیشن، پبلک ہیلتھ ڈیٹا، کریمنل جسٹس ذرائع، کار رینٹل ریکارڈ، کریڈٹ کارڈ رپورٹ، پوسٹل اور شپنگ ریکارڈ، یوٹیلٹی بلزرپورٹس، گیمنگ ڈیٹا، انشورنس کلیمز، ڈیٹا بروکرز کے ڈوزیئرز اور اس طرح کے دیگر ذرائع سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ معلومات کے اس دور میں اب ہر طرح کی انفارمیشن تک رسائی ممکن ہو چکی ہے۔ آئی ایس ای نشاندہی کرتی ہے کہ اہم اور حساس انفراسٹرکچر دہشتگردوں کا اولین ہدف ہوتا ہے۔ امریکہ میں اس وقت پرائیویٹ سیکٹر 85فیصد حساس بنیادی ڈھانچے اور وسائل کو استعمال کررہا ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ آئی ایس آئی کس قسم کی معلومات فراہم کرتا ہے کیوں کہ فیوژن سنٹر زکا اپنا کوئی مرکزی ڈیٹا سنٹر نہیں ہے بلکہ یہ اداروں کو معلومات تک رسائی اور رہنمائی کرتے ہیں۔ اس طرح آئی ایس آئی ایسا ذریعہ ہے جس سے بغیر کسی رکاوٹ کے معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔ سٹرون اور پاسکل کہتے ہیں کہ معلومات شیئرنگ کی راہ میں دیواریں کھڑی کرنے کی لاحاصل کوشش کی بجائے اس پورے نیٹ ورک کا احتساب کرنے سے معلومات شیئرنگ کے نظام کو مکمل طور پر بےضرر کیا جاسکتا ہے۔ اگر نئے دور میں زندہ رہنے کے لیےنجی معلومات کی حفاظت ضروری ہے تو ہمیں نئی ٹیکنالوجی اور نئے قوانین کی ضرورت ہو گی۔

آرون بیدی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے میں پرائیویسی، پبلسٹی اور ادب پڑھاتے ہیں اور اسی پر اپنے بلاگ "زنگوزوگو" میں بھی لکھتے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے انٹیلی جنس کی بنیاد پر پولیسنگ کے نظام میں بڑے عرصے سے دلچسپی ظاہر کررہے ہیں لیکن پیٹرن کی بنیاد پر ڈیٹا مائننگ ، ڈیٹا کی بنیاد پر پیش گوئی کرنے والے تجزیے کا استعمال نائن الیون کے بعد کیا گیا۔

تحریر: آرون بیدی (Aaron Bady)

Read in English

Authors
Top