Global Editions

پاکستان میں خواتین کی مالی شمولیت

خواتین کی مالی شمولیت میں اضافہ کرنے کی کوشش کے دوران ان کی زندگیوں کے جنسی پہلو کو مدنظر رکھنا بہت ضروری ہے۔

پاکستان میں شہریوں کے ڈیٹا کے ریکارڈز، ٹیلی کمیونیکیشنز نیٹ ورک کے پھیلاؤ، اور سمارٹ فونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے مدنظر کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں ڈیجیٹل مالی سہولیات متعارف کرنے کا وقت آگیا ہے۔ ان تمام عناصر کے باوجود بھی، پاکستان میں مالی شمولیت کی شرح پورے جنوبی ایشیاء میں سب سے کم ہے۔ 2013ء اور 2017ء  کے درمیان سالانہ بنیاد پر محض 1.23 فیصد اضافے کے بعد یہ شرح 7.7 فیصد سے بڑھ کر 14 فیصد ہوگئی۔ اس کے برعکس بینک دولت پاکستان نے اپنی قومی حکمت عملی مالی شمولیت (National Financial Inclusion Strategy – NFIS) میں 2020ء تک 50 فیصد مالی شمولیت کا ہدف مقرر کیا ہے۔

خواتین میں یہ شرح اور بھی کم ہے۔ پاکستان کی 50 فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے، جس میں سے بیشتر خواتین کو مالی اداروں تک رسائی حاصل نہيں ہے۔ جہاں مردوں میں مالی شمولیت کی شرح 17 فیصد ہے، وہیں پر خواتین میں یہ شرح محض 2.9 فیصد ہے۔ حکمت عملی مالی شمولیت کی کوشش ہے کہ 2020ء تک اس شرح کو 25 فیصد تک بڑھایا جائے۔

پاکستان میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے موبائل پیسے کے سسٹمز میں سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ اس کے باوجود، 2017ء کی فنڈیکس (FINDEX) رپورٹ میں شامل Consultative  Group to Assist the Poor – CGAP  کے تجزیے کے مطابق ملک بھر میں صرف 3.7 کروڑ موبائل اکاؤنٹس موجود ہيں، جن میں سے محض 22 فیصد اکاؤنٹس خواتین کے ہیں۔ 2014ء اور 2017ء کے درمیان خواتین کے موبائل اکاؤنٹس کی تعداد میں صرف دو فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ مردوں میں اس اضافے کی شرح 13 فیصد رہی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خواتین کے مقابلے میں مردوں کے پاس موبائل والٹ موجود ہونے کا امکان پانچ گنا زيادہ ہے۔

خواتین کی مالی شمولیت میں اضافے کی کوشش کرنے سے پہلے اس بات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ پاکستانی معاشرے میں مالی مواقع کی دستیابی کا تعلق جنس سے ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق “جنس” سے مراد مردوں اور عورتوں کے درمیان ثقافتی اور سماجی طور پر تخلیق کردہ فرق ہے جس میں علاقے اور وقت، دونوں کے لحاظ سے تبدیلی آتی رہتی ہے۔ اس میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور مالی فیصلے کرنے کی صلاحیتیوں کے حوالے سے عورتوں کے متعلق تاثرات بھی شامل ہيں۔

لہٰذا پاکستان میں ڈیجیٹل مالی سہولیات کے استعمال میں اضافے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں صارفین کی روزمرہ زندگی کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔ انفراسٹرکچر، انوویشن، اور ضوابط کی اہمیت سے انکار نہيں کیا جاسکتا، لیکن ساتھ ہی اس بات کو بھی نظر انداز نہيں کیا جاسکتا کہ سہولیات اور مصنوعات کی تشکیل میں ہمدردی کا عنصر بھی بہت اہم ہے۔ اس کے لیے خواتین کی ضروریات اور صلاحیت کے علاوہ ان کے جنس کے اعتبار سے تقسیم شدہ ماحول کے متعلق سمجھ بوجھ حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔

اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم پاکستان میں خواتین کی مالی شمولیت میں اضافے کے لیے ایک انسانیت پسند ماڈل کی تجویز پیش کرتے ہيں جسے صارفین کی ضروریات کو سمجھنے کے بعد ان کے عین مطابق بنایا گيا ہو۔

صارفین کو سمجھنے سے مراد پہلے ان کے ماحول کو سمجھنا اور پھر اس ماحول میں دستیاب مواقع کے مطابق کام کرنا ہے۔ جہاں تک پاکستانی خواتین کا تعلق ہے، اس عمل کو مالی شمولیت کے تین پہلوؤں، یعنی ٹیکنالوجیکل، سماجی، اور مالی، کے نقطہ نظر سے دیکھا جاسکتا ہے۔

رہی بات موبائل فون رکھنے کی، تو پاکستان میں کئی خواتین اس سہولت سے محروم ہی ہیں ۔ موبائل فون کی ملکیت کے اعتبار سے خواتین اور مردوں کے درمیان فرق 37 فیصد ہے، جسے بین الاقوامی معیارات کے لحاظ سے بہت زیادہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو کم آمدنی کے طبقوں میں عام طور پر پایا جانے والا تاثر ہے کہ موبائل رکھنے سے خواتین کی، خاص طور پر ان خواتین کی جن کے شوہر نہ ہوں (جس میں کسی بھی عمر کی غیرشادی شدہ، طلاق یافتہ یا بیوہ عورتیں، سب ہی شامل ہيں)، چال چلن پر برا اثر پڑتا ہے۔ دوسری وجہ کا تعلق محدود آمدنی سے ہے، جس کے باعث موبائل فون رکھنا صرف گھر کے سربراہ ہی کے لیے ممکن ہے، جو اکثر مرد ہی ہوتا ہے۔ تاہم، لوگ بیشتر اوقات ان اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہيں جن کے مطابق اگر پاکستانی خواتین کے پاس موبائل فون نہ بھی ہو تو ان میں سے 70 فیصد کو فون تک رسائی تو ضرور حاصل ہے۔ لیکن یہ لوگ یہ بات بھول جاتے ہيں کہ اگر اجتماعی آلات پر استعمال کی جانے والی سہولیات کو صرف ایک ہی شخص کے لیے ڈیزائن نہ کیا جائے تو پرائیوسی کے تحفظ کا بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے۔

شمولیت میں ٹیکنالوجی کے استعمال کا دوسرا پہلو سہولیات کی اس طرح تشکیل ہے کہ کم آمدنی رکھنے والے صارفین انہیں استعمال کرنے پر آمادہ ہوجائيں۔ مالی شمولیت کے ماہر اگنیشیو ماس (Ignacio Mas) کا کہنا ہے کہ موبائل پیسے کی سہولیات میں استعمال میں اضافے کے لیے ضروری ہے کہ انہيں ایک جانی پہچانی شکل میں پیش کیا جائے اور صارفین کے موجودہ طور طریقوں میں زیادہ ردوبدل کرنے کی توقع نہ رکھی جائے۔ ہمارا مشورہ یہ ہے کہ اس کے علاوہ صارفین کی موجودہ ٹیکنالوجی پروفائل کا بھی خیال رکھا جائے اور ان سے انالاگ پراسیسز کے لیے درکار سرمایہ کاری کے علاوہ کسی دوسری چیز کو ضروری نہ ٹھہرایا جائے۔

موبائل پیسے کے پلیٹ فارمز کی ڈیجیٹائزیشن کی بنیاد رکھنے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ موبائل والٹس کے ذریعے ادائيگی کرتے ہوئے کم آمدنی رکھنے والے طبقوں کے موجودہ طور طریقوں کو ڈیجیٹل شکل دی جائے۔ مثال کے طور پر، بچت کی کمیٹیوں کو ڈیجٹائز کیا جاسکتا ہے۔ اکثر کمیٹیاں عورتوں پر مشتمل ہوتی ہيں، جن میں سے ایک عورت بچت میں اضافہ اور خطرات میں کمی لانے کے لیے بیک وقت کئی مختلف کمیٹیاں سنبھالتی ہے ۔ اس کی ایک مثال لبنیٰ کی سربراہی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی (آئی ٹی یو) سے وابستہ ماہرین پر مشتمل ٹیم کی تخلیق کردہ ڈیجیٹل کمیٹی ہے جسے پاکستان میں موجود کمیٹیوں کی ساخت کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس سسٹم میں ان گروپس کے فوائد تو شامل ہیں ہی لیکن ساتھ ہی ریکارڈز کی برقراری کی مشکلات بھی ختم ہوجاتی ہیں اور مالی اداروں کے لیے ٹرانزيکشنز کا ثبوت بھی دستیاب ہوجاتا ہے ۔

مالی سہولیات کے ڈیزائن میں بھی انسان پسند طریقے سے کام لینا ہوگا۔ ہماری تحقیق  کے مطابق کم آمدنی رکھنے والے چھوٹے پیمانے کے انٹراپرنیورز کی ایک مالی ضرورت ان کے اپنے گھر کی تعمیر ہے۔ حکومت پاکستان نے پانچ سال کے اندر اندر پچاس لاکھ گھروں  کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے لیے تعمیری قرضوں کی ضرورت پیش آئے گی۔ جب ہم نے ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں موجود ڈائنیمکس پر نظر ڈالی تو ہمیں معلوم ہوا کہ کم آمدنی رکھنے والے افراد کا رہن سہن تعمیراتی قرضے پیش کرنے والے مالی اداروں کے مثالی کلائنٹس کے خاکے سے بہت مختلف ہے۔ کم آمدنی رکھنے والے افراد ایک ہی وقت میں پورا گھر کھڑا کرنے کی سکت نہيں رکھتے۔ وہ پہلے زمین خریدتے ہيں اور پھر تھوڑا تھوڑا کرکے گھر بناتے ہيں، جس کے باعث انہيں اکثر کئی سال لگ جاتے ہيں۔ ہمیں ان طبقوں کی تحقیق کے دوران ایسے بھی خاندان ملے جن کے اپنے گھر تھے۔ ان افراد کو یا تو  گھر یا زمین ورثے میں ملتے ہيں یا وہ ورثے میں ملنے والی رقم میں کمیٹی کی رقم ملا کر گھر خریدتے ہيں۔ جن افراد کو ورثے میں کچھ نہيں ملا، وہ جیسے تیسے اپنے اخراجات میں کمی کرکے متعدد کمیٹیوں میں حصہ لے کر آہستہ آہستہ رقم جمع کرتے ہيں۔ گھر کی تعمیر میں کئی سال لگ جاتے ہيں اور اس دوران موسم کی خرابی کے باعث ان گھروں کے ڈھانچوں کو بہت نقصان بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں کم آمدنی رکھنے والے گھروں کی مالی سکت کے مدنظر نہ صرف مالی سہولیات بلکہ گھر کی تعمیر کے عمل میں بھی ترمیم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں تعمیراتی عمل کو زیادہ کم قیمت اور ماڈیولر بنانے کی ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہیے، جس طرح مغربی ممالک میں تھری ڈی پرنٹرز جیسی نت نئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے تعمیرات کی لاگت میں کمی لائی جارہی ہے۔

بینک اکاؤنٹس سے محروم افراد غیررسمی چینلز کے ذریعے اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کررہے ہيں۔ انسان دوست طریقہ کار اپنانے کا مطلب ہے کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ کم آمدنی رکھنے والے افراد کو کن چیزوں سے فائدہ ہوگا اور کن سے نقصان۔ اس کا مطلب ہے کہ ٹیکنالوجی پر مشتمل سہولیات تخلیق کرنے کے دوران اس بات کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ کم آمدنی رکھنے والے گھرانوں کے لیے ان کی سماجی معاونت بہت اہمیت رکھتی ہے، اور اس تحفظ کو ختم کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کرنا چاہیے۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ پاکستانی خواتین کے لیے مخصوص مقامات اور ان کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کی موجودگی کو سمجھ کر ایسی سہولیات تخلیق کرنے کی ضرورت ہے جن کی مدد سے ان مشکلات سے نمٹا جاسکے۔

صارفین کے ارادے کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں، اگر انہيں کوئی سہولت سمجھ نہيں آئے گی تو وہ اسے استعمال نہیں کرپائيں گے۔ مثال کے طور پر، ہماری تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ کم آمدنی رکھنے والی خواتین سود اور دیگر اخراجات کا حساب کرنے سے قاصر ہونے کے باعث قرضے لینے سے کتراتی ہيں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ مختلف چینلز کے ذریعے (چاہے وہ موبائل رقم کے ایجنٹس، قرضہ پیش کرنے والے افسران، کال سینٹرز، یا ایپلی کیشن انٹرفیس کی شکل میں ہو) موبائل رقم کے صارفین کو پیش کی جانے والی سہولیات کو ان کی صلاحیتوں اور خواندگی کے مطابق تشکیل کیا جائے۔

آخر میں ہم ڈاکٹر کینٹارو ٹویامو (Kentaro Toyamo) کی تھیوری دہرانا چاہتے ہیں جس کے مطابق اگر ڈیجیٹل مالی سہولیات تخلیق کرنے کے دوران سماجی، ثقاقتی، معاشی، اور ٹیکنالوجیکل عناصر پر جنس کے اثرات کو مدنظر نہ رکھا گیا تو ممکن ہے کہ خواتین کی شمولیت میں اضافے کے بجائے انہيں مزيد نظرانداز کردیا جائے۔

لبنیٰ رزاق آئی ٹی یو فِن ٹیک سنٹرکی ڈائریکٹر ہیں اور پاکستان میں ڈیجیٹل مالی سہولیات کے استعمال کے متعلق بھی تحقیق کررہی ہیں۔

سمیعہ ابتصام سیٹل میں واقع یونیورسٹی آف واشنگٹن میں سکول آف کمپیوٹر سائنس اور انجنیئررنگ کے پال جی ایلن (Paul G Allen) سکول سے پی ایچ ڈی جاصل کررہی ہیں۔ 2019ء میں ان کا نام گوگل وومین ٹیک میکر (شمالی امریکہ) کے سکالرز کی فہرست میں شامل کیا جاچکا ہے۔

تحریر: لبنیٰ رزاق، سمیعہ ابتصام

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top