Global Editions

سردی کے موسم میں کرونا وائرس مزيد زور پکڑے گا۔ آپ اپنے تحفظ کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟

سردی میں اضافے کا مطلب ہے کہ لوگ اپنا زيادہ تر وقت گھروں اور دفاتر کے اندر ہی گزاریں گے۔ عمارتوں میں بہتر ہواداری کا انتظام اور ہوا کی فلٹریشن کرونا وائرس کے سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کریں گے۔

شمالی نصف کرہ میں سردی کا موسم سر پر ہے، لیکن دنیا کے کئی ممالک میں، خاص طور پر امریکہ میں، covid-19 کم ہونے کے بجائے مزید زور پکڑتا جارہا ہے۔ اس سے دو خدشات سامنے آتے ہيں۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ کئی ممالک میں covid-19 کی طرح سانس کی نالی کو متاثر کرنے والے نزلے اور زکام کے وائرسز زیادہ بیماری پھیلاتے ہيں۔ امریکہ میں پچھلے سال موسم خزاں اور موسم سرما میں موسم گرما اور بہار کے مقابلے میں نزلے کے 40 گنا زیادہ کیسز سامنے آئے تھے۔ متوسط درجہ حرارت رکھنے والے ممالک میں سردی کے موسم میں عام طور پر نزلے اور زکام کے کیسز میں 10 گنا اضافہ نظر آتا ہے۔ (اس کے برعکس، گرم ممالک میں یہ اضافہ برسات کے موسم میں ہوتا ہے۔)

دوسری بات یہ ہے کہ 1918ء کے ہسپانوی فلو کے دوران (یہ اب تک کی واحد وبا ہے جس میں موجودہ کرونا وائرس سے زیادہ امریکی جانبحق ہوئے تھے اور جس کا شمار انسانی تاریخ کی مہلک ترین وباؤں میں ہوتا ہے) موسم خزاں اور سردی میں مرنے والوں کی تعداد موسم گرما کے مقابلے میں جانبحق ہونے والوں سے پانچ گنا زيادہ تھی۔

نیو یارک شہر میں دفاتر میں کام کرنے والی خواتین 1918ء کی وبا کے دوران ماسکس پہنی نظر آرہی ہيں۔ کریڈٹ : نیشنل آرکائیوز

اگر کرونا وائرس اسی طرح جاری رہا تو امریکہ کی صورتحال تو بہت زیادہ تاریک دکھائی دے رہی ہے۔ اب تک دو لاکھ افراد اس مرض کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہيں۔ اگر ہم 1918ء کی ہسپانوی فلو کے اعداد و شمار کی بنیاد پر فرض کریں کہ سردیوں میں شرح اموات میں چار گنا اضافہ ہوگا، تو اس کا مطلب ہے کہ مزید تین لاکھ افراد موت کا شکار ہوں گے۔

یہ پیشگوئی کس حد تک سچ ثابت ہوگی؟ یونیورسٹی آف مینیسوٹا میں سینٹر فار انفیکشس ڈزیز ریسرچ اینڈ پالیسی (Center for Infectious Disease Research and Policy) کے ڈائریکٹر مائیکل آسٹرہولم (Michael Osterholm) کا کہنا ہے کہ اس وقت اس کے بارے میں کچھ نہيں کہا جاسکتا۔ ان کے مطابق پیشگوئی تو کرنا ممکن ہے، لیکن حقیقی اعداد و شمار کا انحصار کئی عناصر پر ہے جنہیں نہ تو ماڈلز میں شامل کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی سائنسدانوں کا ان پر کسی قسم کا اختیار ہے۔ حکومت کی پالیسی تبدیل ہونے، عوام کی حفاظتی تدابیر کی تعمیل کرنے، اور ویکسین تیار ہونے اور عام ہونے کی صورت میں ان اعداد و شمار میں تبدیلی ممکن ہے۔

اس کے باوجود بھی سائنسدان آنے والے چند مہینوں کے دوران کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی پیشگوئی کرنے کی کوشش کررہے ہيں۔ لیب میں منعقد ہونے والے مطالعوں کی بنیاد پر انہيں اب یہ معلوم ہوگیا ہے کہ یہ وائرس درجہ حرارت میں کمی اور ہوا میں نمی کے اضافے سے کس طرح متاثر ہوتا ہے، اور بند کمروں میں کس طرح پھیلتا ہے۔

ان سیمولیشنز پر کام کرنے والے کمپیوٹیشنل بائیولوجسٹ، سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی آف بیسل سے وابستہ رچرڈ نہر (Richard Neher) بتاتے ہيں کہ نتائج زيادہ خوش آئين نہيں ہیں۔ وہ کہتے ہيں کہ ”ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ سردی میں اس وائرس کا پھیلاؤ مزید بڑھ جائے گا۔“

تاہم ان کی ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ موسم سرما میں کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ لوگ یہ اقدام کرنے کے لیے کس حد تک تیار ہوں گے؟ اس کے بارے میں کچھ نہيں کہا جاسکتا۔

سردی کے دنوں میں کرونا وائرس کس طرح پھیلے گا؟

ماضی میں ایسا بہت کم ہوا ہے کہ وبا کی وجہ بننے والے کسی نئے وائرس نے سردیوں میں زیادہ شدت اختیار کی ہو۔ پچھلے 250 سالوں میں سانس کی نالی کو متاثر کرنے والی 10 وبائیں آئی ہیں۔ ان تمام وباؤں کی دوسری لہر چھ مہینے بعد شروع ہوئی، لیکن صرف تین دفعہ ایسا ہوا ہے کہ یہ دوسری لہر سردی کے موسم میں آئی ہو۔ 1918ء کا ہسپانوی فلو ان میں سے ایک وبا تھی۔

کیا covid-19 بھی ہسپانوی فلو کی طرح سردیوں میں زیادہ زور پکڑے گا؟ اب تک اس کے متعلق زيادہ معلومات حاصل نہيں ہوسکی ہے۔ سائنسدانوں کی کوشش تو یہی تھی کہ انہيں یہ بات معلوم ہوجائے۔ کرونا وائرس 2019ء میں اس وقت شروع ہوا جب چین میں سردی کے موسم کی ابتداء ہوئی تھی، اور اب اسے ایک سال ہونے کو آیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سائنسدانوں کو متوسط درجہ حرارت رکھنے والے اور گرم ممالک کے تین موسم، شمالی نصب کرہ میں موسم گرما، اور جنوبی نصف کرہ میں موسم سرما کے دوران اس کے پھیلاؤ کے متعلق تفصیلی ڈیٹا حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔

تاہم اب تک کوئی رجحان سامنے نہیں آيا ہے۔ اٹلی میں مارچ میں جب گرمی کا موسم شروع ہورہا تھا، اس وقت یہاں وائرس بہت تیزی سے پھیل رہا تھا۔ اس دوران امریکہ کے شہر بوسٹن میں درجہ حرارت 10 ڈگری سیلسیس (40 ڈگری فاہرنہائیٹ) سے کم اور ہیوسٹن میں درجہ حرارت 32 ڈگری سیلسیس (90 ڈگری فاہرنہائیٹ) سے زيادہ تھا، لیکن ان دونوں شہروں میں کرونا وائرس چوٹی پر تھا۔ جون اور جولائی میں جب جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا میں سردی کا موسم تھا، اس وقت کرونا وائرس عروج پر تھا، اور امریکہ میں گرمی کے اضافے کے ساتھ کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد بھی بڑھتی گئی۔ سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ گرم ممالک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار کم ہوگی، لیکن بھارت اور برازیل کا شمار اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں ہورہا تھا۔

اگر سائنسدان یہ سمجھنے میں کامیاب ہوتے کہ نزلہ کسی ایک موسم میں کیوں زيادہ پھیلتا ہے، تو ان کا کام بہت آسان ہوتا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ان کے پاس یہ معلومات نہيں ہیں۔ وائرل امراض کے پھیلاؤ کا مطالعہ کرنے والی ورجینیا ٹیک کی ریسرچر لنسی مار (Linsey Marr) بتاتی ہيں کہ اگر نزلے کے وائرسز سردیوں میں زیادہ نقصاندہ ہوتے ہيں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہيں کئی سال تک زور پکڑنے کا موقع ملا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ کسی ایک موسم میں زيادہ پھیلنے کا تعلق لوگوں میں عارضی طور پر پیدا ہونے والی قوت مدافعت سے ہو۔ مار کہتی ہيں کہ ”نئے وائرسز میں یہ رجحان نظر نہيں آتا۔“

اگر یہ ثابت ہوجائے کہ کرونا وائرس کسی خاص موسم میں زيادہ پھیلتا ہے، تو بھی یہ نہيں کہا جاسکے گا کہ وہ دوسرے موسموں میں کم پھیلے گا۔ اس وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں سماجی دوری، ماسکس پہننے اور بھیڑ بھاڑ سے بچنے جیسے اقدام کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے، اور ان پر عمل نہ کرنے کے باعث کرونا وائرس امریکہ میں گرمی کا موسم ہونے کے باوجود بھی تیزی سے بڑھتا رہا۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا مطالعہ کرنے والے جان ہاپکنس یونیورسٹی کے ماحولیاتی سائنسدان بینجامن زیٹچک (Benjamin Zaitchik) کہتے ہيں کہ ”اس کا مطلب یہ نہيں ہے کہ کرونا وائرس موسم کے حوالے سے حساس نہيں ہے۔ اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں اور لوگوں کے اقدام کے وجہ سے ہم موسم کے ساتھ اس کے تعلق کا تعین نہيں کر پائے ہیں۔“

تاہم یہ ممکن ہے کہ سردی کے موسم کے باعث کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوگا، جس کے تباہ کن نتائج سامنے آسکتے ہيں۔ جرنل آف دی امیریکن میڈیکل ایسوسی ایشن (Journal of the American Medical Association) میں شائع ہونے والے ایک مطالعے کے مطابق covid-19 کے تقریباً 20 فیصد مریض سانس کی کسی دوسری بیماری کا شکار تھے، جس کی وجہ سے ان کی طبیعت زيادہ خراب ہورہی تھی۔

کیا مجھے اپنے گھر میں ایئر پیوریفائیر لگوانا چاہیے؟ میں نے سنا ہے کہ یہ وائرس بہت چھوٹا ہے اور ایئر پیوریفائیرز اس کے خلاف تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہيں۔

اگر آپ کے گھر میں نصب ایئر کنڈیشننگ یا ہیٹنگ کے سسٹمز میں اچھا فلٹر نہ ہو تو ہم آپ کو اپنے گھر میں پیوریفائیر لگوانے کا مشورہ دیں گے۔ تاہم خیال رکھیں کہ اسے HEPA کی طرف سے منظوری حاصل ہو یا اس کی MERV ریٹنگ 12 یا 13 سے زیادہ ہو۔ یہ فلٹرز تنہا وائرسز کو تو نہيں پکڑ پاتے، لیکن کرونا وائرس اکثر پانی کے قطرات کے ذریعے پھیلتا ہے، جو اس فلٹر میں پھنس جاتے ہيں۔

میری معلومات کے مطابق کرونا وائرس اس وقت زيادہ پھیلتا ہے اگر ہوا میں نمی کا تناسب کم ہو۔ کیا مجھے اپنے گھر میں ہیومڈیفائیر لگوانا چاہیے؟

ہمارا خیال ہے کہ اس سے زیادہ فائدہ نہيں ہوگا۔ آپ کو ہر گھنٹے بعد اپنے ہیومڈیفائیر میں پانچ کلوگرام پانی بھرنا ہوگا، اور اکثر گھروں کے لیے بنائے جانے والے ہیومڈیفائیرز کی گنجائش اس سے بہت کم ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہوا میں نمی کا تناسب اس قدر بڑھانا سانس کے دوسرے امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔

میرے دفتر میں ہوا کی فلٹریشن بھی ہوتی ہے اور خوب گردش بھی۔ کیا مجھے پھر بھی ماسک پہننے کی ضرورت ہے؟

جی ہاں۔ آپ کے دفتر کا فلٹریشن کا نظام کتنا ہی اچھا ہو، وہ آپ کو لوگوں کے کھانسنے اور چھینکنے کے خلاف تحفظ نہيں فراہم کرسکتا۔

اس سال نزلے کے کیسز میں کتنا اضافہ ہوگا؟

اب تک اس کا تعین نہيں ہوسکا ہے۔ امریکہ میں نزلے کے کیسز میں اضافہ نہیں ہوا ہے، لیکن ابھی تو سردی کا موسم شروع ہوا ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہيں ہوسکا ہے کہ اس سال نزلے کا ویکسین ماضی کے مقابلے میں کتنا موثر ثابت ہوگا۔ خوش آئین بات یہ ہے کہ مئی سے ستمبر کے درمیان، جب جنوبی نصف کرے میں سردی کا موسم تھا، وہاں نزلے کے کیسز کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ کرونا وائرس کے روک تھام کی حفاظتی تدابیر، یعنی ماسکس پہننا اور سماجی دوری اختیار کرنا، نزلے کے خلاف بھی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

زیٹچک کہتے ہيں کہ نزلے اور covid-19 کیسز کی بیک وقت تعداد بڑھنے سے ہسپتالوں پر بہت زيادہ بوجھ بڑھ جائے گا۔ وہ کہتے ہيں کہ ”ہمارے پاس اتنے زيادہ کیسز سے نمٹنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، دونوں امراض کی علامات ملتی جلتی ہونے کے باعث ڈاکٹروں کے لیے ابتدائی تشخیص کرنا بھی مشکل ہوجائے گا۔“
جنوبی نصف کرہ میں مئی اور ستمبر کے درمیان، یعنی سردی کے موسم میں، اس سال نزلے کے کیسز بہت کم تھے۔ بلکہ کچھ ممالک میں نزلے کا ایک بھی کیس سامنے نہيں آیا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ ماسکس پہننے اور سماجی دوری اختیار کرنے سے نزلے پر قابو پانا بھی ممکن ہوا۔ اگر لوگ اسی طرح حفاظتی تدابیر پر عمل کرتے رہے تو ممکن ہے کہ شمالی نصب کرہ میں بھی نزلے کے کیسز کی تعداد میں زيادہ اضافہ نہ ہو۔

یونیورسٹی آف کولوریڈو کے ماحولیاتی کیمسٹ ہوزے لوئیز جیمینیز (Jose-Luis Jimenez) کا کہنا ہے کہ covid-19 میں چھوٹے سے اضافے سے بھی بہت سنگین نتائج سامنے آسکتے ہيں۔ کسی بھی وائرس کے پھیلاؤ کا حساب لگاتے وقت اس کے افزائش نو کے نمبر کی بات کی جاتی ہے، جسے ظاہر کرنے کے لئے R کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس پیمائش کے ذریعے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک متاثرہ شخص کتنے افراد کو بیمار کرسکتا ہے۔ اگر R ایک سے کم ہو تو اس کا مطلب ہے کہ بیماری کم ہورہی ہے، لیکن 1 سے زيادہ ہونے کا مطلب ہے کہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔

جیمینیز بتاتے ہيں کہ اگر سردی کا موسم شروع ہونے سے پہلے covid-19 کا R ایک کے قریب ہو تو چھوٹے سے اضافے سے بھی یہ R ایک سے زيادہ ہوجائے گا۔ ان کے مطابق کیسز کی تعداد میں 10 فیصد اضافہ کافی ہے۔

ان کے مطابق اس سال سردیوں میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ ہی ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موسم سرد ہونے کے باعث زيادہ لوگ گھروں اور دفاتر کے اندر ہی رہيں گے، جس سے اس مرض کا پھیلاؤ مزید تیز ہوجائے گا۔ تاہم فلوریڈا اور ٹیکسس جیسی ریاستوں میں، جہاں گرمی زيادہ ہوتی ہے، لوگ سردی کے موسم میں گھر سے زيادہ باہر نکلتے ہيں، اور یہاں وائرس کا پھیلاؤ کم ہونے کا امکان ہے۔

کانٹیکٹ ٹریسنگ پر جاپان میں منعقد ہونے والے ایک مطالعے کے مطابق کرونا وائرس کا اندر رہنے کے باعث پھیلنے کا امکان باہر رہنے کے مقابلے میں 19 فیصد زيادہ ہے۔ اس کے علاوہ، لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن (London School of Hygiene and Tropical Medicine) نے 1،500 ایسے کیسز کا مطالعہ کیا، جن میں کسی ایک شخص نے ایک ہی جگہ پر بڑی تعداد میں دوسرے لوگوں کو بیمار کیا ہو۔ انہیں یہ معلوم ہوا ان میں سے صرف تین کیسز ایسے تھے جو باہر رہنے کی وجہ سے پھیلے تھے۔

کئی علاقوں میں گرمیوں کے موسم میں اس قسم کی سرگرمیاں ہوتی ہيں، لیکن سردی میں یہ ممکن نہيں ہوتا۔ کریڈٹ : اے پی

سانس کی نالی کو متاثر کرنے والے زيادہ تر وائرسز گھر اور دفاتر میں بند ہونے کی وجہ سے زيادہ تیزی سے پھیلتے ہيں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ اندر کا درجہ حرارت باہر کے مقابلے میں زيادہ ہوتا ہے۔ باہر کی ٹھنڈی ہوا جب گھر میں داخل ہوتی ہے تو وہ گرمی کی وجہ سے پھیلنا شروع ہوتی ہے اور اس کی نمی کی گنجائش میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم نمی کی مقدار میں اضافہ نہیں ہوتا، جس سے نمی کا تناسب کم ہوجاتا ہے۔ ییل یونیورسٹی کے ایک مطالعے اور ایک تجربے اور سویٹزرلینڈ میں منعقد ہونے والے ایک مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس صورتحال کے باعث نہ صرف نزلے کا وائرس ہوا میں زيادہ دیر قائم رہتا ہے، بلکہ جسم کی اس وائرس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی کم ہوتی ہے۔

ایم آئی ٹی، ہارورڈ، ورجینیا ٹیک، اور یونیورسٹی آف کنیکٹیکٹ کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ معمولی نزلے کی طرح کرونا وائرس بھی اس قسم کی صورتحال میں زيادہ تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہوا میں نمی کا تناسب 40 فیصد سے کم ہوتے ہی اس وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات میں بہت زيادہ اضافہ ہونا شروع ہوجائے گا۔ امریکہ میں سردی کے موسم میں ہوا میں نمی کا تناسب اکثر 15 فیصد سے کم رہتا ہے، جبکہ گرمیوں میں یہی تناسب 50 سے 70 فیصد کے درمیان رہتا ہے۔

ہم خود کو کس طرح محفوظ رکھ سکتے ہيں؟

وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے متعلق زیادہ معلومات حاصل ہوئی ہيں۔ پہلے یہ کہا جارہا تھا کہ یہ وائرس کسی متاثرہ شخص کی ناک یا منہ سے گرنے والے متاثرہ ذرات کے باعث پھیلاتا ہے۔ تاہم اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ وائرس کئی گھنٹوں تک ہوا میں رہ سکتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ لوگ خالی کمرے میں رہنے کے باوجود بھی اس کا شکار ہوسکتے ہيں۔ اس کے علاوہ متاثرہ افراد ماسکس پہننے اور 20 فٹ یا اس سے زيادہ کا فاصلہ برقرار رکھنے کے باوجود بھی یہ بیماری پھیلا سکتے ہيں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کرونا وائرس بہت دور تک پھیل سکتا ہے اور یہ مزید زور پکڑتا چلا جاتا ہے۔

سانس کی نالی کو متاثر کرنے والے دوسرے وائرسز اس حد تک نہیں پھیل سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی عوامی صحت کے افسران کو اس بات کا اعتراف کرنے میں کافی دیر لگی کہ covid-19 کا وائرس ہوا میں لمبے عرصے تک رہ سکتا ہے۔ جولائی تک عالمی ادارہ صحت یہ بات تسلیم کرنے سے کترارہا تھا، اور امریکہ کے سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول (Centers for Disease Control) نے حال ہی میں اپنی ویب سائٹ پر اس کے متعلق اپڈیٹ جاری کی ہے۔

نہر بتاتے ہيں کہ ہوا میں نمی کا تناسب کم ہونے کے باعث اس خطرے میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”میرا خیال ہے کہ سردی میں اس وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوگا، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہوا میں موجود پانی خشکی کی وجہ سے سوکھ جائے گا، اور وائرس کو پھیلنے کے لیے زيادہ جگہ مل جائے گی۔“

ماہرین کا خیال ہے کہ ایئر ہیومڈیفائیرز سے کچھ خاص فرق نہيں پڑے گا۔ جیمینیز کہتے ہیں کہ ”کسی بھی کمرے میں ایک ایک گھنٹے کے وقفے کے بعد پانچ کلوگرام کے قریب پانی درکار ہوگا۔ یعنی صرف ایک ہیومڈیفائیر سے کام نہيں چلے گا۔ آپ کو کئی ہیومڈیفائیرز لگانے پڑیں گے اور ہر ایک میں بار بار پانی بھرنا ہوگا۔ یہ ہر ایک کے بس کی بات نہيں ہے۔“

ماہرین کا خیال ہے کہ ایئر ہیومڈیفائیرز سے زيادہ بہتر ہواداری کی ضرورت ہے۔ اس سے کرونا وائرس متاثرہ افراد سے دور ہوجائے گا اور بند کمرے میں زور نہيں پکڑ پائے گا۔

تاہم ہیٹنگ، وینٹی لیشن اور ایئرکنڈیشننگ کے انجنیئر رابرٹ بین (Robert Bean) بتاتے ہيں کہ ہر گھر اور ہر دفتر میں نظام ہواداری ایک جیسا نہيں ہوتا۔ ان کے مطابق ایسے کئی کیسز سامنے آئے ہيں جن میں کسی ایئرکنڈیشنر کے باعث گندی ہوا کمرے سے نکلنے کے بجائے کمرے میں ہی گردش کررہی تھی، جس کے باعث لوگ بہت زيادہ بیمار ہوئے۔ اس کے علاوہ، کرونا وائرس گھروں میں موجود ہیٹنگ اور ایئرکنڈیشننگ کے سسٹمز میں کافی دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔

باہر کی ہوا اندر متعارف کرنے سے وائرس کے پھیلنے کے امکانات کم کیے جاسکتے ہيں۔ بین بتاتے ہيں کہ پائپس میں لیکس کی وجہ سے اکثر باہر کی ہوا گھر میں داخل ہوتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ، بعض ہوا داری کے سسٹمز کو بھی اس طرح بنایا جاتا ہے کہ گھر کی ہوا باہر پھینکی جائے اور باہر کی ہوا اندر لائی جائے۔ تاہم بین کے مطابق زیادہ تر سسٹمز میں 20 فیصد سے زيادہ ہوا باہر سے نہيں آتی۔ یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے آسٹرہولم کا خیال ہے کہ یہ شرح کافی نہيں ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”جب تک باہر سے زيادہ ہوا اندر نہيں آئی گی، اندر کی ہوا میں وائرس کا تناسب بڑھتا ہی چلا جائے گا۔“ اس کا سب سے اچھا حل تو یہی ہے کہ کھڑکیاں کھول دی جائيں، لیکن سردیوں میں لوگ ایسا نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ، کئی دفتری عمارتوں کی کھڑکیاں کھولی نہيں جاسکتیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہوا کی گردش کے ساتھ ساتھ اس کی فلٹریشن بھی نہایت ضروری ہے۔ تاہم مار کا کہنا ہے کہ اکثر عمارتوں میں لگائے جانے والے فلٹرز وائرسز کی روک تھام نہيں کرپاتے۔

جیمینیز کہتے ہيں کہ جن عمارتوں کے ہیٹنگ اور ایئرکنڈیشننگ سسٹمز میں اچھے فلٹرز نصب نہ ہوں، وہاں محض چند سو ڈالر کی رقم خرچ کرکے ایک چھوٹا سا پیوریفائیر لگوایا جاسکتا ہے، جو ہر آدھے گھنٹے کے بعد بند کمروں کی ہوا عمارت کے باہر بھیج سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس سے کرونا وائرس پھیلنے کے امکانات کافی حد تک کم ہوجائيں گے۔

تاہم نہر کا کہنا ہے کہ اس قسم کے فلٹرز سردیوں میں زیادہ کارآمد نہيں ثابت ہوں گے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”اتنے کم وقت میں ہر بلڈنگ میں اس قسم کا سسٹم لگانا ممکن نہيں ہے۔“ اس کے علاوہ، یہ سسٹمز کمرے میں بیٹھے کسی شخص کے کھانسنے یا چھینکنے کے باعث پھیلنے والے وائرسز کی روک تھام نہيں کر پائيں گے، اور اسی لیے ماسکس پہننا اور سماجی دوری اختیار کرنا بہت ضروری ہوگا۔

اگر ایئر ہیومڈیفائیرز میں فلٹرز لگے ہوں تو کچھ حد تک تحفظ ممکن ہے۔ کریڈٹ : گیٹی

آگے کیا ہونے والا ہے؟

آگے چل کر صورتحال کتنی خراب ہوسکتی ہے؟ سائنسدانوں کو اب تک یہ معلوم نہيں ہوسکا ہے کہ طبعیت خراب ہونے کے لیے وائرس کا کتنا ایکسپوژر درکار ہے، جس کی وجہ سے وہ اب تک یہ نہيں بتاسکتے کہ covid-19 سردیوں میں کس حد تک پھیل سکتا ہے۔

وائرسز کے ماہرین اکثر ”وبائی خوراک“ کی بات کرتے ہیں، جس کے ذریعے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انفیکشن کا شکار ہونے کے 50 فیصد امکان کے لیے وائرس کی کتنی مقدار کی ضرورت ہے۔ جاپانی ریسرچرز کی ایک تحقیق کے مطابق، جس میں جانوروں کے مطالعے کے علاوہ چین کی ایک عمارت میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا تجزيہ کیا گيا تھا، کرونا وائرس کی وبائی خوراک 300 ذرات کے قریب ہے۔ تاہم اس مطالعے میں یہ نہيں بتایا گیا کہ اس کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا۔ اس کے علاوہ، اس مقدار کی اب تک تصدیق نہيں ہوسکی ہے۔

جب تک ان اعداد و شمار کے متعلق سمجھ بوجھ میں اضافہ نہيں ہوتا، گھر اور دفاتر میں بند رہنے کی صورت میں وائرس کے پھیلاؤ کے متعلق کسی بھی قسم کی ٹھوس پیشگوئی ممکن نہيں ہے۔ اس کے علاوہ، ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کسی کمرے میں لوگ کہاں کھڑے ہيں اور ان کا آپس میں فاصلہ کتنا ہے۔ بین کہتے ہیں کہ ”کسی بھی کمرے میں ہوا کا بہاؤ کا کردار سب سے زيادہ اہم ہے۔“ ان کے مطابق اس کا اندازہ لگانے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ کمرے میں دھواں چھوڑ کر دیکھا جائے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔

بین کے مطابق کرونا وائرس اور اس کی وبائی خوراک کے متعلق معلومات کے نتیجے میں ایئرکنڈیشننگ اور ہیٹنگ کے انجنیئرز کے لیے اس قسم کے سسٹمز بنانا ممکن ہوگا۔ وہ کہتے ہيں کہ ”اب تک ہم صرف تُکّے ہی لگا رہے ہيں، جس سے کسی کو کوئی فائدہ نہيں ہوگا۔“ وہ مزید کہتے ہيں کہ ہم کتنے ہی فلٹر لگالیں اور ہواداری کے نظام کتنے ہی بہتر کرلیں، جب تک لوگ احتیاط سے کام نہيں لیں گے، اس وقت تک کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

تحریر: ڈیوڈ فریڈمین (David Freedman)

Read in English

Authors

*

Top