Global Editions

ایف بی آئی ایپل تنازع: جیت کسی کو بھی نہیں ملی

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور معروف سیلولر کمپنی آئی فون کے درمیان تنازع اگرچہ حل ہو چکا ہے اور ایف بی آئی نے آئی فون کے خلاف شکایت بھی واپس لے لی ہے تاہم اس کے باوجود اس حوالے سے اہم مسائل ابھی تک تشنہ اور حل طلب ہیں۔ اس تنازع کے بعد سمارٹ فونز میں صارفین کی ذاتی معلومات کو مزید محفوظ بنانے کے لیے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں اور صارفین کی ذاتی معلومات کو دبیز سیاہ پردوں کے پیچھے چھپایا گیا ہے تاہم اس عمل کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کسی بھی شرپسند یا قانون شکن عناصر کی سرکوبی کے لیے تمام ذرائع بروئے کار لانے کے صلاحیت کو کمزور کر دیا گیا ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ایسے معاملات کو حل کرنے کےلیے تکنیکی صلاحیتوں کی کمی ہے۔

چار دہائیاں قبل معروف ماہر معاشیات آرتھر آکون (Arthur Okun) نے اپنی مشہور تصنیف شائع کی، جس کا عنوان Equality and Efficiency: The Big Trade off تھا۔ اس تصنیف کا عنوان درحقیقت اس امر کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور توازن کو برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔ ہمارے انفارمیشن سسٹم کی حفاظت اور اس کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا موثر ہونا نہایت ضروری ہے کیوں کہ اگر یہ ادارے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر آمادہ نہ ہوئے تو دونوں کی کاوشوں کو بہت نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔
ایپل اور ایف بی آئی کے درمیان تنازع تو ایک سمجھوتے کے بعد ختم ہو گیا تاہم اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے صارفین کی معلومات کو خفیہ رکھنے کے لیے سرمایہ کاری کرنی ہے اور اس کی قیمت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور صلاحیتوں کو کم کر کے ادا کی جائیگی یا صارفین کی ذاتی معلومات کو افشا کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے ساکھ کی قربانی کا گھاٹے کا سودا کرنا ہے اور یہ ایک ایسی صورت حال ہے جسے قبول کرنا کسی بھی فر یق کے لیے ممکن نہیں ہے۔

ایسے تنازعات پر سمجھوتہ بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ مستقبل کو تابناک بنانے کے لیے صرف زبانی جمع خرچ یا نظریات کی ترویج ہی کافی نہیں ہوتی۔ مستقبل کو تابناک بنانے کے لیے ضروری ہے کہ باتوں کو عمل سے ثابت کیا جائے مگر یہ اس وقت مشکل ہو جاتا ہے جب سنجیدہ اور قابل ذکر افراد بھی معاملات کو طے کرنے کے بجائے تصادم یا الجھاؤ کی راہ اختیار کریں۔ ایسے معاملات عدالتوں میں طے نہیں ہو سکتے اور نہ قانون سازی ان مسائل کا حل ہے بلکہ ان کو حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کامسلسل جائزہ لیا جائے اور مسائل کا حل اس انداز میں تلاش کیا جائے کہ ہر فریق مطمئن ہو سکے۔

اس امر سے قطع نظر کہ اب تک ایف بی آئی اور ایپل کے درمیان تنازع کے بعد خطیبانہ بیانات میں ہر فریق جیت کے دعوے کر رہا ہے تاہم اب بھی یہ ممکن ہے کہ ایسے تنازعات کے لیے بامعنی قانون سازی اس طرح کی جائے کہ کوئی فریق بھی براہ راست متاثر نہ ہو۔ کانگریس اس مقصد کے لیے قواعد کا تعین کر سکتی ہےجس کے ذریعے یہ معلوم ہو سکے کہ کیا یہ ایسے حالات ہیں جن کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی مشتبہ صارف کے ذاتی اکاؤنٹ تک رسائی دی جائے اور اس ضمن میں حکومت سیلولر کمپنی سے خصوصی درخواست کر سکتی ہے جس میں ان معروضی حالات کا تذکرہ کیا جائے جس کے تحت ایسی کارروائی کو ضروری سمجھا جا رہا ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ نئی ٹیکنالوجیز کو بھی توازن برقرار رکھنے کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ایسے ذرائع تلاش کریں جن کی مدد سے وہ مطلوبہ نتائج حاصل کر سکیں۔ اس توازن کو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔

اس وقت ہر چوائس کسی نہ کسی رسک کے ساتھ منسلک ہے تاہم مستقبل کے لیے ایک سمجھوتہ ناگزیر ہے۔

تنازع کے بعد ہر فریق جیت کے دعوے کر رہا ہے تاہم اب بھی یہ ممکن ہے کہ ایسے تنازعات کے لیے بامعنی قانون سازی اس طرح کی جائے کہ کوئی فریق بھی براہ راست متاثر نہ ہو۔

تحریر : سوسن ہینایسسے (سوسن ہینایسسے بروکلین انسٹیٹیوٹ میں نیشنل سکیورٹی ان گورننس کے شعبے کی فیلو ہیں)

Read in English

Authors
Top