Global Editions

وکی لیکس نے جولیان اسانج کو ایڈیٹر اِنچیف کے عہدے سے ہٹا دیا

جولیان اسانج جو 2006ء سے وکی لیکس کے ایڈیٹر ان چیف کے عہدے پر کام کر رہے تھے‘ کو اس عہدے سے ہٹا کر آئس لینڈ کی صحافی کرسٹن رفنسن کو ایڈیٹر ان چیف مقرر کر دیا گیا ہے۔ ایک ٹویٹ میں وکی لیکس کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ادارے کو جولیان اسانج سے گزشتہ چھ ماہ سے رابطہ کاری میں مسائل کا سامنا تھا تاہم وہ پبلشر کے طور پر منسلک رہیں گے۔ جولیان اسانج بنیادی طور پر ایک آسٹریلین کمپیوٹر پروگرامر ہیں۔ 2010ء میں وکی لیکس نے اس وقت شہرت حاصل کی جب اس نے افغانستان ‘ عراق ‘ امریکہ اور دیگر ممالک سے متعلقہ اہم سرکاری اور فوجی خفیہ دستاویزات افشا کیں۔جس کے بعد امریکی حکومت نے اسانج کے خلاف مجرمانہ تفتیش کا آغاز کر دیا۔ بعدازاں ان کے گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہوئے۔ سویڈن نے ان پر جنسی ہراسگی کے الزامات عائد کئے۔فی الوقت اسانج گزشتہ چھ برس سے لندن کی ایک عمارت میں نظر بند ہیں اور ان پر برطانیہ میں بھی مقدمہ چل رہا ہے۔ گزشتہ بارہ برس کے دوران وکی لیکس اپنی ویب سائٹ پر ایک کروڑ خفیہ سرکاری دستاویزات ریلیز کر چکی ہے۔ ان میں عراق میں ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر سے کی جانے والی فائرنگ کی ویڈیو بھی شامل ہے جس میں دو غیرملکی صحافی ہلاک ہو گئے تھے۔

Authors
Top