Global Editions

بھارت میں الیکٹرک سکوٹرز سڑکوں پر فراٹے بھرنے کو تیار

برقی گاڑیوں کا ملک کی آٹو مارکیٹ میں ایک چھوٹا شئیر ہے لیکن الیکٹرک سکوٹر اور رکشہ شاید اس صنعت میں تبدیلی کا آغاز کریں۔

مارچ کے آغاز میں، بنگلور کے دفتر کی عمارت کے پارکنگ گیراج میں، میں ایک سکوٹر ماڈل آتھر 450 (Ather 450)کے پیچھے بیٹھا جو کہ سفید باڈی والا دو پہیے کا الیکٹرک سکوٹر ہے۔

میں نے بدقسمتی سے آرتھر انرجی کے عملے میں سے ایک کے کندھے کو پکڑ لیا جس کو ٹاسک دیا گیا تھا کہ غیر ملکی صحافی کو سکوٹر کی رفتار اور ہینڈلنگ دکھائے۔

نوجوان آدمی نے سکوٹر کوپارکنگ میںرفتار دی اور اسے زیرو سے لیکر40کلومیٹر) پچیس میل) فی گھنٹہ کی رفتار سے 3.9سیکنڈز میںسپیڈ دی۔ وہ ہمارے ابتدائی سطح پر واپس لوٹنے سے پہلے، کئی فلورز تک پہنچا اور کچھ بریکیں بھی لگائیں۔میں نے اعلان کیا،ـ”میں اسے لےلوں گا”۔

بھارت کے چھ سالہ پرانے سٹار ٹ اپ آتھر نے 4.8بلین روپے(70ملین ڈالر) گذشتہ گرمیوں سے لیکر اب تک اکٹھے کر لئے ہیں۔

یہ کمپنی انڈیا کی مٹھی بھر الیکڑک گاڑیوں کی کمپنیوں میں سے ایک ہے جو قوم کے ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں تبدیلی لا رہی ہیں۔ دو پہیوں والی گاڑیاں بھارت کی سڑکوں پر تقریباً 80 فیصد ٹریفک بناتی ہیں اور نسبتاً چند افراد اپنی ذاتی گاڑیوںکے مالک ہیں۔ دوسری صورت میں وہ سائیکل ، ٹرینیں، بس، آٹو رکشہ اور ریلوے سروسز کا استعمال کرتے ہیں۔

ایک حکومتی تھنک ٹینک این آئی ٹی آئی ایوگ(NITI Aayog) نے گزشتہ سال ایک رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ چھوٹی اور عوامی برقی گاڑیوں کی پیداوار بھارت کے لئے گیسوں کااخراج، فضائی آلودگی اور پیٹر ولیم کی درآمدت کو کم کرنے کے لئے واضح راستہ فراہم کرتی ہے۔ صحیح ٹیکنالوجیز، حکمت عملی اور پالیسیوں کے ساتھ، یہ ایک گھریلو صنعت بنانے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے جو کہ اگلی نسل کے لئے صاف بسوں کے ساتھ ساتھ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی پیداوار کے ساتھ عالمی سطح پر مقابلہ کرسکتے ہیں۔

آنے والے دہائیوں میں بھارت میں ٹرانسپورٹ کی وجہ سے گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہو گا کیونکہ قوم کی ابھرتی ہوئی معیشت دوکروڑ لوگوں کو گاڑیوں خریدنے کے قابل بنائے گی۔ کارنیگی میلون یونیورسٹی میں بیٹریوں اور الیکٹرک گاڑیوں پر توجہ مرکوز کرنے والے اسسٹنٹ پروفیسر وینکاٹ ویسوناتھن کہتے ہیں کہ گاڑیوں کی پہلی خریداری میں سے ایک بہت بڑا حصہ دو پہیوں والی گاڑیوں کا ہو گا جو کہ ایک دہائی میں سڑکوں پر ہونگی۔ان کا کہنا ہے کہ اس موقع پر کمپنیوں کے لئے اہم ہے کہ وہ اس طبقے کے لئے گاڑیوں کا پرکشش متبادل الیکٹرک گاڑیوں کی صورت میں کریں۔

رقم اور پالیسی
جیسا کہ یہ آج ہے، بھارت میں الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ چھوٹی ہے، نئی گاڑیوں کے لئے ہر سال ہزاروں کی ڈیمانڈہے اور دو پہیوں والی گاڑیوں کی کئی لاکھ ڈیمانڈ۔

اس صورتحال میں یہ ایک ارب تیس کروڑ لوگوں کے لئے ناکافی ہےجہاں دوسو ملین رجسٹرڈ گاڑیاں ہیں۔

لیکن وفاقی حکومت کی کوششوں سےدوپہیوں والی برقی گاڑیوں کی تیاری میں تیزی آچکی ہے اور ان کی تعداد گذشتہ سال دو گنا ہوئی ہے۔ 2017 میں حکومت نے اعلان کیا کہ 2030 تک تمام نئی گاڑیاں بجلی پر منتقل کرنےکی ضرورت ہوگی۔ حکومت کو آٹو انڈسٹری کی تنقید کے بعد یہ تعداد 30 فیصد کرنی پڑی لیکن اس چیز سے صنعت میں برقی گاڑیوں کے بارے میں سوچ پیدا ہوئی ہے۔

آتھر کے چیف ایگزیکٹو ترون مہتا کہتے ہیں، “حکومت برقی گاڑیوں کی طرف بڑا زور لگا رہی ہے۔” “لہذا سپلائرز نے میمو حاصل کر لیا ہے کہ برقی گاڑیاں ہی مستقبل ہیں اور کسی کو اس منصوبے کے آگے آنے کی ضرورت نہیں۔”

بھارتی حکومت کے اس اعلان کے بعدچین کی بی وائی ڈی، جنوبی کوریاکی ہنڈائی، جاپان کی سوزوکی اوربھارت کے آٹو میکر اشوک لیلینڈ، مہندرا اینڈ مہندرا، اور ٹاٹا موٹرز سمیت کئی کمپنیوں نے بھارتی مارکیٹ کے لئے الیکٹرک کاریں، دو پہیوں والی گاڑیاںیا رکشے بنانے شروع کر دئیے ہیں۔دوپہیوں والی گاڑیاں بنانے کےاضافی سٹارٹ اپس بھی ابھر آئے ہیں جن میں اوکنوا سکوٹرز، 22سکوٹرز اور اریکسا انرجیز شامل ہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ حکومت نے حال ہی میں اپنے مقاصد کے لئے کافی فنڈ اور سخت پالیسیوں کے ساتھ اس منصوبے کی حمایت کی ہے۔ مارچ کے آغاز میں حکام نے برقی گاڑیوں کی خریداری اور اعلی کوالٹی کی بیٹریوں (لیتھیم آئن ناکہ لیڈ آکسائیڈ)، عوامی بسوں ، تین پہیوں والی گاڑیوں اور ذاتی
استعمال کے لئے دو پہیوں والی گاڑیوں کے لئے 1.5بلین ڈالرز کی رعائت کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

حکومت کے پبلک ٹرانسپورٹ کو بدلنے کے اس منصوبے کا اطلاق ہائر انڈ کاروں پر نہیں ہوتا۔

چلنے پرادائیگی کریں

مشرقی بنگلور میںوسیع پیمانے والے ٹیکنالوجی کے ضلع میں سن موبیلیٹی کے ہیڈکوارٹرز کی پارکنگ میں، ایک ڈرائیور ایک نارنجی اور سیاہ رکشہ کمپنی کے “کوئیک انٹرچینج اسٹیشن” پر لاتا ہے جس میں لیتھیم بیٹری کے لاکرز ہیں۔

ایک کریڈٹ سے بھری چابی لگانے کے بعد،ایک چھوٹا سا سیاہ دروازہ کھلتاہے جس سے وہ ایک سبز ہینڈل کے ساتھ ایک تازہ بیٹری نکالتا ہے اور تقریباً ایک کوخالی کو واپس کر دیتا ہے۔ یہ آدمی اپنی بیٹری کو اپنی سیٹ کے ساتھ داخل کرتا ہے،اس عمل کو اپنی دوسری بیٹری کے ساتھ دہراتا ہے ۔اور دومنٹ سے کم وقت میں اپنے مکمل طور پر چارج رکشہ کو چلاتا ہے۔

2017 ء میں سن موبیلٹی کو بھارت میں برقی گاڑیوں کے ایک بانی چیتن مینی نے شریک بانی کے طور پر بنایا تھا۔ 1994 میں انہوں نے ریوا الیکٹرک کار کمپنی قائم کی جس کو نو سال بعد بالآخر مہندرا اینڈ مہندرا نے حاصل کیا۔

لیکن اس صنعت میں ان کے ابتدائی تجربے نے انہیں اس بات کا یقین دلایا کہ برقی کاروں کا امریکی ماڈل بھارت میں نہیں چلے گا کیونکہ بھارتی صارفین میں قیمت مسئلہ ہے۔اس قوم میں لیتھئیم آئن سے چلنے والی بیٹریوں پر پرئمیم زیادہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک سٹینڈرڈ بیٹری آسانی سے ایک آٹو رکشہ کی قیمت کو دوگنا کرسکتی ہے۔

مینی کا کہنا ہے کہ “اگر بیٹری کی قیمتوں میں کمی بھی آتی ہے تو بھی یہ ہندوستان کے لئے بہت مہنگی ہونگی۔” “لہذا ان مسائل کو حل کرنا بہت مختلف ہے۔”
انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بیٹری کے تبادلے والے ماڈل پر سوئچ ہونے سے ماڈل سٹکر شاک والا ماڈل ختم ہو جاتا ہے جس سے گاڑیوں کی رینج، گھر پر چارج کرنے کا وقت اور بیٹری کی لائف میں معاملات بہتر ہوتے ہیں۔

سن موبیلٹی نے ایک سٹینڈرڈ بیٹری تبدیل کروانے کاپلیٹ فارم تیار کیا ہے جو کہ کوئی بھی تین پہیوں، سکوٹرز یا بسیں تیار کرنے والا اپنا سکتا ہے یا پہلے گاڑیوں کی فلیٹ رکھنے والے مالکان نسبتًا تیزی سے ریٹروفٹ عمل کے ذریعہ اس کو شامل کرسکتے ہیں۔

150 افراد والی کمپنی نے کم از کم 10کمپنیوں کے ساتھ ڈیل کی ہوئی ہے جو کہ نئی گاڑیوں کوان کے بنے ہوئے نظام سے لیس کرتی ہیں۔ یہ کمپنی انڈیا کے سب سے بڑے فلیٹ آپریٹر سمارٹ ای کو (SmartE) دہلی میں 500 موجودہ آٹو رکشوں کو تبدیل کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، سن موبیلٹی نے ملک کی سب سے بڑی تجارتی گاڑیوں کے مینوفیکچررز میں سے ایک اشوک لی لینڈ کے ساتھ شراکت داری کی ہے اور کمپنی کی سرکٹ ایس لائن کی برقی بسوں کے لئے بیٹری ٹیکنالوجی اورسویپنگ سٹیشن فراہم کر رہی ہے۔

مینی نے امید کی ہے کہ اگلے مارچ تک کمپنی کم از کم 400 سویپنگ اسٹیشن چلائے گی اور ان میں سے ہر ایک پر تقریباً 200 سویپ روزانہ کی بنیاد پر ہو سکیں گے۔ بیٹریاں لاکرز ایک چھوٹے شفاف شمسی توانائی کےپینل کے ساتھ چلنےوالی شفاف چھت کے نیچے واقع ہے جو جزوی طور پر واپس کی گئی بیٹریاں دوبارہ چارج کرتی ہے۔ بسوں کے لئے علیحدہ روبوٹ سویپنگ سسٹم بھی کمپنی کی پارکنگ میں ڈبسوں کے لئے علیحدہ روبوٹ سویپنگ سسٹم بھی کمپنی کی پارکنگ میں ڈسپلے پر ہے اوریہ تین منٹ میں گاڑیاں کی بڑی بیٹری کےپیک کو ہٹا اور تبدیل کرسکتا ہے۔

دو پہیوں سے چار تک

آتھر برقی گاڑیوں کے خریداروں کو ایک ایسے سکوٹر کے ذریعے اپنی طرف متوجہ کر نے کی کوشش کررہا ہے جو کہ تیز ، جدید اور مزیدار ہوں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ سکوٹر ماڈل450 اسی کلومیٹر(50 میل) فی گھنٹہ اور 75 کلومیٹر کی رینج تک چلتی ہے اور کم کشش ثقل گاڑی کی ہینڈلنگ کو بہتر بناتی ہے۔ یہ ایک ٹچ اسکرین سے لیس ہے جو کہ بیٹری چارج کی سطح بتاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سمت کا بھی بتاتا ہے اور عوامی مقامات پر چارجنگ کی سہولت جیسا کہ کیفے، دکانیں اور دیگر سماجی مقامات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔انٹری لیول کی 340 سکوٹر ماڈل ایک چارجنگ کیبل کے ساتھ ہوتی ہے جس کو گھر کے عام ساکٹ میں لگایا جا سکتا ہے جبکہ کمپنی 450 سکوٹر ماڈل کے لئے کمپنی چارج پوائنٹ اور خریداروں کے لئے دوسرے فیچر نصب کرے گی۔

آتھر توانائی

کمپنی کے ابتدائی ماڈل بھارتی سکوٹر میں پائیدار ہیں اور ان کی قیمت پیٹرول سے چلنے والے ویسپا سے زیادہ ہے:450سکوٹر ماڈل کی قیمت 124,750بھارتی روپے یا 1800ڈالر ہے جبکہ سکوٹر ماڈل340کی قیمت109750بھارتی روپے یا1590ڈالر ہے۔

اس کے باوجود مہتا کہتے ہیں کہ برقی سکوٹرز اوسط سالانہ ایندھن کی لاگت میں تقریباً17000 بھارتی روپے (Dollar245) کی بچت کرتے ہیں۔ کمپنی کم قیمت والے ماڈل بھی ساتھ ساتھ متعارف کروانے کاا رادہ رکھتی ہے۔  مہتا کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی جنوری سے گاہکوں کو سکوٹر فراہم کر رہی ہے لیکن وہ سیلز کے اعداد و شمار کو ابھی تک ظاہر نہیں کرتے۔

بھارت کے سکوٹرز اور رکشے ٹرانسپورٹ کے شعبہ کو صاف کرنے کے لئے بہت آگے لے جائیں گے۔ لیکن جہاں اس وقت بھارت کھڑا ہے اس کو گیسوں کے اخراج اور آلودگی کے خطرے سے بچنے کے لئے برقی مسافر بسوں کو امپورٹ یا پیداوار کرنے کی ضرورت ہو گی۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے اندازہ لگایا ہے کہ کاروں کی ملکیت میں باشندوں کے حوالے سے20گاڑیاںفی ہزار باشندےسے لیکر175گاڑیاں فی ہزار باشندے کی حد تک 2040تک اضافہ ہو گا۔ ریلوے، ایوی ایشن اور ٹرانسپورٹ کے دیگر طریقوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ساتھ یہ رجحان تقریبا ًٹرانسپورٹ میں ہونیوالے ایندھن میں وقت کے ساتھ اضافہ کریگا۔

لیکن اس شعبے میں تیز رفتار تبدیلی وفاقی پالیسیوں اور اچھی طرح سےفنڈ کئے گئے سٹارٹ اپس کے باوجود بہت مشکل ہے کیونکہ موجودہ فلیٹ کو تبدیل کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

بلومبرگ کی این ای ایف رپورٹ نے اندازہ لگایا ہے کہ 2030تک برقی گاڑیاں مارکیٹ میں سات فیصد ہوں گی جو کہ حکومت کے کم سے کم حدف سے بھی کم ہو گا(اگرچہ ان اندازوں میں حکومت کی نئی پالیسیوں کے باوجود بھی نظر ثانی نہیں کی گئی)۔

بھارت میں برقی گاڑیوں کی راہ میں اہم رکاوٹ گاڑیاں چارج کرنے کے پوائنٹس میں دشواری ہے۔ عوامی مقامات پرگاڑیوں کے چارجنگ کا ڈھانچہ بہت کم ہے اور شہریوں کے پاس گھروں میں چارجنگ سسٹم بہت ہی کم ہیں۔ اور ملک بھر کے کئی حصوں میں بجلی کی فراہمی بھی ٹھیک نہیں ہے۔

تحریر: جیمز ٹیمپل

Read in English

Authors

*

Top