Global Editions

کورونا وائرس کے باعث ماحولیاتی تبدیلی کو کس طرح نقصان پہنچ سکتا ہے؟

کرونا وائرس کے باعث ماحولیاتی تبدیلی کے لیے فنڈنگ کم ہوجائے گی، لیکن درحقیقت ایسا ہی ہونا چاہیے۔

کرونا وائرس کے باعث ہوائی جہاز کے سفر پر پابندیاں عائد ہوچکی ہيں اور بین الاقوامی تجارت میں مداخلت ہورہی ہے۔ اس کے نتیجے میں گرین ہاؤس گیسز کے اخراجات میں قابل قدر کمی ہونے کا امکان ہے۔

تاہم یہ تصور کرلینا کہ تیزی سے پھیلنے والے کرونا وائرس کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کم ہوجائيں گے، سراسر غلط ہوگا۔

پہلے بھی مالی مندی، وباؤں اور جنگوں کے باعث کاربن کی آلودگی کی کمی آئی ہے، لیکن جیسے ہی صورتحال بحال ہوئی، گرین ہاؤس گیسز کے اخراجات میں دوبارہ اضافہ ہوگیا۔ دوسری طرف اگر کرونا وائرس عالمی وبا کی شکل اختیار کرلے اور مالی تباہی کی وجہ بنے تو سیاست دانوں کی توجہ اور مالی امداد ماحولیاتی تبدیلی سے ہٹ جائيں گی۔

اس بات سے انکار نہيں کیا جاسکتا کہ ہمیں اس وبا کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے اپنی توجہ کا مرکز بنانے اور اس کے لیے بڑی تعداد میں وسائل وقف کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن دوسری طرف، ماحولیاتی تبدیلی سے وابستہ مسائل کو، جن کی وجہ سے آگے چل کر کہیں زیادہ سنگین نتائج سامنے آسکتے ہيں، نظرانداز کرنا  بہت بڑی بے وقوفی ہوگی۔

کرونا وائرس کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلی کی کوششوں کو کس طرح نقصان پہنچ سکتا ہے؟ اس کی کچھ مثالوں پر نظر ڈالتے ہيں:

  • اگر مالی مارکیٹیں بند ہوجائيں تو کمپنیوں کے لیے موجودہ اور نئے شمسی اور ہوائی توانائی اور بیٹری سے چلنے والے پراجیکٹس کے لیے سرمایہ کاری حاصل کرنا نہایت مشکل ثابت ہوگا۔
  • حال ہی میں روس اور سعودی عرب کے درمیان مقابلے اور کرونا وائرس کی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتوں میں اچانک کمی نظر آئی۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی مانگ میں کمی ہوگی اور پیٹرول پر چلنے والی گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیسلا کے کاروباری حصص کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی تھی۔
  • بجلی سے چلنے والی گاڑیوں اور گرڈ سٹوریج کے پراجیکٹس میں استعمال ہونے والے بیشتر شمسی پینلز، ونڈ ٹربائنز اور لیتھیم آئن بیٹریاں چین میں بن رہے ہيں اور چینی کمپنیوں کے مطابق انہیں سپلائی سے وابستہ مسائل کے علاوہ تخلیق کاری میں کمی کا سامنا ہے۔ اس سے کئی قابل تجدید توانائی کے بیرون ملک پراجیکٹس متاثر ہوئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ چین کے ساتھ تجارت پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کررہی ہے اور اگر ایسا ہوجائے تو ان چینی پراجیکٹس میں مزید خلل اندازی ہوگی۔
  • مالی اور صحت سے وابستہ مشکلات کے باعث عوام کی بھی توجہ ماحولیاتی تبدیلی سے دور ہوسکتی ہے۔ پچھلے چند سالوں سے ووٹروں کی ماحولیاتی تبدیلی میں دلچسپی بڑھ رہی ہے اور دنیا بھر کے نوجوان اس مسئلے کے خلاف آواز اٹھا رہے ہيں، جس سے سیاست دانوں پر دباؤ پڑ رہا ہے۔ لیکن اگر کرونا وائرس کے باعث بے روزگاری اور بیماری عام ہوجائيں گی تو لوگوں کی توجہ ماحولیاتی تبدیلی سے ہٹ کر روزمرہ ضروریات پوری کرنے اور سیونگز برقرار رکھنے کی طرف چلی جائے گی۔

تاہم کرونا وائرس کے باعث ماحولیاتی تبدیلی کی کوششوں کو فائدہ بھی پہنچ سکتا ہے۔

یورایشیاء گروپ (Eurasia Group) کے ایک تجزیہ کار کے مطابق اگر تیل کی قیمتیں اسی طرح گرتی رہيں تو ممکن ہے کہ توانائی کی بڑی کمپنیوں کے لیے صاف توانائی زیادہ منافع بخش ثابت ہوگی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ ممالک مالی بحران کے جواب میں اپنی معیشت سنوارنے کے لیے ایسے اقدام کریں جن کے نتیجے میں صاف توانائی کی صنعت کو بھی فائدہ پہنچے۔

اس کے علاوہ، اگر کرونا وائرس کے باعث لوگ ہوائی جہاز اور بحری جہاز کا سفر ہمیشہ کے لیے ترک کردیں یا مستقل طور پر گھر سے بیٹھ کر کام کرنے کی عادت اپنا لیں تو ممکن ہے کہ کاربن کے اخراجات کی یہ کمی مستقبل میں بھی برقرار رہے گی۔ اگر ہم ایک وبا کے جواب میں اپنی عادات تبدیل کرسکتے ہيں تو کوئی وجہ نہيں ہے کہ ہم ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمنٹنے کے لیے اپنی طرز زندگی نہیں تبدیل کرسکتے۔

تاہم نیو یارک یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف اینوائرنمنٹل سٹڈیز (Department of Environmental Studies) کے کلینکل ایسو سیٹ پروفیسر گرنٹ ویگنر کے مطابق کرونا وائرس کے باعث ماحولیاتی تبدیلی کی کوششوں کے نقصانات اس کے فوائد سے کہیں زيادہ ہيں۔ وہ کہتے ہيں کہ ”چین میں اخراجات اس وجہ سے کم ہوئے ہیں کیونکہ معیشت پوری طرح تباہ ہوچکی ہے، لوگ ایک انجان بیماری سے مررہے ہيں، اور غرباء ادویات اور کھانے پینے کے اشیاء حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ بننے والے اخراجات میں کمی کی اتنی بھاری قیمت نہیں ادا کی جاسکتی۔“

گلوبل وارمنگ کا مسئلہ حل کرنے کا مقصد عالمی پیمانے پر اموات اور پریشانی کا خاتمہ ہے۔ کرونا وائرس کے طویل المیعاد نتائج کچھ بھی ہوں، اس سے بڑی تعداد میں لوگ بیمار بھی ہوں گے اور اپنی جان سے ہاتھ بھی دھوئيں گے۔ یہ صورتحال کسی بھی طرح سے قابل قبول نہيں ہوسکتی۔ اسی لیے اس وقت ہماری ترجیحات میں کرونا وائرس کی وبا کی روک تھام اور صحیح علاج کی فراہمی سرفہرست ہونے چاہیے۔

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors

*

Top