Global Editions

امریکی صدارتی انتخابات کو ہیکرزسے خطرہ۔۔۔۔۔؟

رواں سال نومبر میں منعقد ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں کیونکہ یہ انتخابات نہایت اہمیت کے حامل ہیں اس کے ساتھ ساتھ ان انتخابات کو متاثر کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ چند روز قبل ریاستی تعاون سے روس کے ہیکرز نے امریکی ریاست ایری زونا اور ایلی نوائے میں رائے دہندگان کی ڈیٹا بیس کو ہیک کرنے کی کوشش کی۔ ہیکرز کے ان حملوں سے سے واضح ہو گیا ہے کہ امریکہ میں رائے شماری کا نظام کس حد تک کمزور ہے اور ڈیٹا بیس کی حفاظت کے لئے مناسب سیکورٹی پروٹوکولز اختیار نہیں کئے گئے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکی جمہوریت کو لاحق سب سے بڑا خطرہ تکنیکی نہیں بلکہ نفسیاتی ہے۔ دوسری جانب امریکی قانون نافذ کرنے والے ادارے ایف بی آئی نے چند روز پیشتر انتباہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ہیکرز کی جانب سے دو ریاستوں کے ووٹرز ڈیٹا بیس پر حملے کئے گئے اور اس کے نتیجے میں امریکی ریاست ایلنوائے کےدو لاکھ ووٹرز کا ریکارڈ چرا لیا گیا، جبکہ ریاست ایریزونا میں ایک اہلکار کی Login انفارمیشن اس وقت حاصل کی گئی جب اس اہلکار نے سہواً ایک malware ڈاؤن لوڈ کیا تاہم ہیکرز ووٹرز کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ہیکرز کی جانب سے کی گئی حالیہ کارروائی کے نتیجے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ امریکی انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش ہے کیونکہ ڈیٹا بیس سے ہزاروں ووٹرز کے ریکارڈ کو مٹا دینا بھی نہایت خطرناک عمل ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ووٹرز کے اندارج کو مٹا دینے کے باوجود امریکی قوانین کے تحت مناسب شناخت کے بعد ووٹر کو عبوری بیلٹ پیپر جاری کیا جا سکتا ہے اور ووٹر کو حق رائے دہی سے محروم نہیں رکھا جا سکتا، تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ ووٹر ایسے شواہد پیش کرے جن کی باقاعدہ طور پر تصدیق ہو سکے۔ اس حوالے سے Wired نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اصل خطرہ یہ نہیں کہ ووٹرز کے ریکارڈ کو چرا لیا گیا ہے بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ کہیں ووٹرز کا انتخابی عمل سے اعتماد ہی نہ اٹھ جائے اور یہ تشویش کسی حد تک درست بھی ہےکیونکہ انتخابات اور انتخابی عمل کی سکیورٹی ناگزیر ہے اور یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ حال ہی روسی ہیکرز نے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کی چند ای میلز تک رسائی حاصل کی اور ان میلز کو چرایا بھی گیا اور پھر ان کو پارٹی کے کنونشن میں استعمال بھی کیا گیا۔ ہیکنگ کے یہ حالیہ واقعات تشویشناک بھی ہیں لہذا قومی اداروں کو چاہیے کہ وہ ان خدشات کے سدباب کے لئے فوری اقدامات کریں۔

تحریر: مشعل رئیلائے (Michael Reilly)

Read in English

Authors

*

Top