Global Editions

بٹ کوئن اب کرنسی نہیں بلکہ ایک مذہب کی شکل اختیار کر چکا ہے

اس کرپٹوکرنسی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، لیکن کچھ لوگوں کے لیے یہ سرمایہ کاری کے ذریعے سے کہیں بڑھ کر ہے۔

بٹ کوئن کی کمیونٹی صرف ان افراد پر مشتمل نہیں ہے جو اسے محض ایک سرمایہ کاری کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس کے شیدائیوں میں ایسے کئی افراد شامل ہیں جس کے لیے یہ کرنسی کسی عقیدے سے کم نہیں ہے۔ لیکن آخر اس جوش و جذبے کے پیچھے کیا وجہ ہے؟ یہ جاننے کے لیے پہلے اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ "بلاک چین" کا حقیقی معنوں میں کوئی وجود نہیں ہے۔

بلاک چین درحقیقت کئی کمپیوٹرز پر مشتمل نیٹورک کو استعمال کرتے ہوئے سافٹ ویئر کے قواعد کے تحت قائم کردہ ایک مشترکہ، مستقل اور اینکرپٹڈ (encrypted) ڈیٹا سیٹ ہے۔ ان قواعد کو کئی مختلف طریقوں سے منظم کیا جاسکتا ہے۔ بلاک چین پر کام کرنے والے تھنک ٹینک کوائن سنٹر (Coin Center) کے ریسرچ کے ڈائریکٹر پیٹر وین والکن برگ (Peter Van Valkenburgh) کے مطابق "بلاک چین" کا لفظ بذات خود بے معنی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب بھی ہم بلاک چین کی بات کریں، ہمیں اپنے مطلوبہ مقاصد کے مطابق اس کی تشریح کرنی چاہیے۔

آج کل بٹ کوئن کا چرچا عام ہے، لیکن اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ اس کرپٹوکرنسی کا بلاک چین سب سے پہلے متعارف کیا گیا تھا اور اس کا نیٹورک سب سے بڑا ہے۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ بٹ کوئن تکنیکی ایجاد نہیں بلکہ سوشل جدت پسندی کی ایک مثال ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے متعارف کردہ ماڈل سے آن لائن کاروبار میں انقلاب لایا جاسکتا ہے۔

ان کے پاس ایسا سوچنے کی ٹھوس وجہ موجود ہے۔ بٹ کوئن نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ کسی قابل اعتماد اتھارٹی کے بغیر انٹرنیٹ کے ذریعے آپس میں متصل کئی کمپیوٹرز پر مشتمل نیٹورک کی مدد سے مشترکہ ڈیٹا کے مجموعے کو، یعنی جعل سازی کی روک تھام کرنے والے اکاؤنٹ کے بیلنسز کے لیجرز کو تیار کرنا اور برقرار رکھنا ممکن ہے۔ ایسے کئی گمنام کمپیوٹرز جن کے پاس ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، ان کا آپس میں اس قدر مضبوط بندھن قائم ہوچکا ہے کہ وہ ایک پوری کرنسی چلا رہے ہیں۔ ایک ایسی کرنسی جسے کیش میں بہ آسانی تبدیل کیا جاسکتا ہے، اور جسے اگر کوئی چوری کرلے تو اس کی چاندی ہوجائے گی۔ لیکن اس کے باوجود بھی یہ کرنسی اور یہ نیٹورک دونوں قائم ہیں۔

يہ سوچ کر واقعی دماغ چکرا جاتا ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بٹ کوئن کے بلاک چین کے پیچھے جو کیلکولیشنز چل رہی ہیں، ان سے کئی صنعتوں کو زیادہ موثر بنایا جاسکتا ہے، ان کی بات کچھ حد تک درست ہے۔

بٹ کوئن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے سافٹ ویئر میں کس طرح ردوبدل کی جاسکتی ہے؟ یہ اب تک ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سسٹم کو چلانے کے لیے وافر مقدار میں توانائی کی ضرورت ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بٹ کوئن کا بلاک چین پبلک ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس کے ذریعے انجام دیے جانے والے ٹرانزیکشنز کا بہ آسانی سراغ لگایا جاسکتا ہے۔ ایتھیریم کی خصوصیات بھی بٹ کوئن سے ملتی جلتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی چند صنعتیں جنھیں بلاک چینز کی وجہ سے بہت فائدہ ہوسکتا ہے، جیسے کہ فنانس اور ہیلتھ کیئر کی صنعتیں، ان میں بھی ڈیٹا کی پرائیوسی اور سیکورٹی بہت اہم سمجھی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے کچھ لوگ بلاک چینز میں ضرورت کے مطابق ردوبدل کا مشورہ دیتے ہيں۔

تاہم بٹ کوئن کے شیدائیوں کے مطابق اس ردوبدل سے بٹ کوئن کا مقصد فوت ہوجائے گا، اور اس کرپٹوکرنسی کا بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جاسکے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کی مدد سے بٹ کوئن کے پیمانے کو وسیع کرنے، توانائی کے استعمال حتی کہ اس کے پرائیوسی کے چیلنجز کا حل ممکن ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ بٹ کوئن اور ایتھیریم جیسے بلاک چینز جنھیں اجازتوں کی ضرورت نہیں ہوتی ہے اور جن کے نیٹورکس تک ہر کسی کو بہ آسانی رسائی حاصل ہے، ایک نئے قسم کے انٹرنیٹ کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جس میں صارفین کو بینکس، کمپنیوں یا حکومتوں کے ہاتھوں میں اپنا قیمتی ڈیٹا سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

اس کا بہترین خلاصہ ایم آئی ٹی کے بلاک چین کے ریسرچر مائیکل کیسی (Michael Casey) کی ایک تحریر میں درج ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ کھلے بلاک چینز سے "انٹرنیٹ کے شر سے بچا جاسکتا ہے۔"

تحریر: مائک آرکٹ (Mike Orcutt)

Read in English

Authors
Top