Global Editions

کرونا وائرس کی ویکسین کی صرف امیر ممالک کو ہی نہيں بلکہ پوری دنیا کو ضرورت ہے

یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سین فرانسسکو میں بائیواخلاقیات کی ایسوسی ایٹ پروفیسر انیتہ ہو۔
دنیا آپس میں اس قدر جڑی ہوئی ہے کہ غریب ممالک کو ویکسین سے محروم رکھنے کی صورت میں امیر ممالک کو فائدہ نہيں بلکہ الٹا نقصان ہی ہوگا۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی تقسیم کو مختلف اقسام کے مسائل درپیش ہیں، لیکن ہر ملک کی صورتحال مختلف ہے۔ غریب ممالک کو ویکسین کی فراہمی اخلاقی اعتبار سی ہی نہيں بلکہ مالی اعتبار سے بھی بہت ضروری ہے۔ نیشنل بیورو آف ایکنامک ریسرچ (National Bureau of Economic Research) کی ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ غریب ممالک کے رہائشیوں کی ویکسینیشن سے پوری دنیا کو فائدہ ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو امیر ممالک کے ہر ایک شہری کو ٹیکہ لگنے کے باوجود ان کے لیے اس وبا کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ رہنا ممکن نہیں ہوگا۔

ایسا لگ تو رہا ہے کہ صدر بائيڈن ویکسینیشن کے متعلق سنجیدہ ہیں۔ ان کی انتظامیہ عالمی ادارہ صحت کی عالمی ویکسینیشن کی مہم کو ویکس (Covax) میں شرکت کا ارادہ رکھتی ہے، جو فروری تک غریب ممالک کو ویکسین کی فراہمی کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ہم نے اس عدم مساوات کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سین فرانسسکو میں بائیواخلاقیات کی ایسوسی ایٹ پروفیسر انیتہ ہو (Anita Ho) کے ساتھ ایک نشست کی۔

آپ کے خیال میں امریکہ کو کو ویکس میں شرکت کرنے سے کیا فائدہ ہوگا؟ کیا آپ کے خیال میں اس سے ویکسین کے حوالے سے عالمی عدم مساوات میں کمی ممکن ہوگی؟

 سب سے پہلے تو مجھے لگتا ہے کہ امریکہ عالمی ادارہ صحت اور کو ویکس میں دوبارہ شمولیت اختیار کر کے ایک مثبت پیغام پہنچانا چاہتا ہے۔ یہ مالی اعتبار سے بھی بہت فائدہ مند ہوگا، کیونکہ ظاہر ہے، کو ویکس کو پیسے کی ضرورت ہے۔ نہ صرف ویکسینز کے لیے، بلکہ باصلاحیت انسانی وسائل اور سازوسامان، شیشے، سرنج، سب ہی کے لیے۔ اسی لیے امریکہ کی شمولیت سے ہمیں ہر طرح سے بہت فائدہ ہوگا۔

یعنی یہ صرف ویکسین ہی کی بات نہيں ہے۔ اس وقت عالمی پیمانے پر ویکسین کی تقسیم میں کس قسم کی عدم مساوات دیکھنے کو مل رہی ہے؟

 مسئلہ یہ نہيں ہے کہ ” ویکسین عطیہ کرنے کو کون تیار ہے؟ “ مسئلہ یہ ہے کہ ویکسینز ذخیرہ کرنے اور اسے منزل مقصود تک پہنچانے کا انفراسٹرکچر کس کے پاس ہے۔ مثال کے طور پر، امریکہ میں دو کمپنیوں کی ویکسینز کو منظوری ملی ہے اور دونوں ہی کو انتہائی کم درجہ حرارت پر رکھنے کی ضرورت ہے۔ کچھ ممالک میں بجلی ہی نہيں ہوتی، وہ ویکسین کو ذخیرہ کس طرح سے کریں گے؟

عدم مساوات کی دوسری صورت اس وقت سامنے آتی ہے جب امیر ممالک ویکسین پوری طرح تیار ہونے سے پہلے ہی اسے آرڈر کر لیتے ہيں، جس کے بعد کسی اور کے لیے کچھ نہيں بچتا۔ اسی لیے کو ویکس آگے بڑھ کر غریب ممالک کے لیے ویکسینز خرید رہا ہے۔

آپ نے ایک بار کہا تھا کہ امیر ممالک میں بھی ویکسین کی فراہمی یکساں نہيں ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ ہم اس سلسلے میں کیا کر سکتے ہيں؟

 سب سے پہلے تو سوچیں کہ لوگوں کو اپنی باری آنے کے متعلق کس طرح مطلع کیا جاتا ہے۔ ان کے پاس لینڈلائن یا موبائل فون ہوگا، ای میل ایڈریس ہوگا، یا وہ کسی ڈاکٹر کے پاس رجسٹرشدہ ہوں گے۔ غیرقانونی طور پر رہائش پذیر افراد، بے گھر افراد، فون یا ای میل کی سہولت استعمال کرنے کی سکت نہ رکھنے والے افراد، انہيں اپوائنٹمنٹ کے بارے میں کس طرح بتایا جائے گا؟

دوسری بات یہ ہے کہ اب تک جو بھی ویکسینز آئی ہیں، ان کی دو خوراکیں درکار ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کو دو بار ہسپتال یا کلینک آنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ پسماندہ علاقوں کے قریب اکثر کوئی ہسپتال نہيں ہوتا، اور کئی لوگوں کے پاس دو بار سفر کرنے کے لیے پیسے نہيں ہوتے۔ جن افراد کے پاس لینڈلائن یا موبائل فون نہيں ہو، انہيں ایک نہيں بلکہ دو بار کس طرح کال کیا جائے؟ اس عدم مساوات کو ختم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ ایسی ویکسینز بنائی جائيں جن کی صرف ایک ہی خوراک کافی ہو۔

اس کے علاوہ، ایسے بھی کئی لوگ ہیں جو ویکسینیشن کروانا ہی نہیں چاہتے، جس کی بہت بڑی وجہ عدم بھروسہ ہے۔ لاطینی نژاد اور سیاہ فام افراد کے ساتھ اتنا دھوکا ہوچکا ہے کہ انہیں اب صحت کے نظام پر بھروسہ نہيں رہا۔

عالمی پیمانے پر یہ عدم بھروسہ کس شکل میں سامنے آتا ہے؟

 عالمی پیمانے پر عدم بھروسے کی بہت بڑی وجہ دوا ساز کمپنیوں کے غیراخلاقی اقدام ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ غریب ممالک یہ سوچ رہے ہوں کہ ” امریکی اور یورپی کمپنیوں کی یہ ویکسینز بہت مہنگی ہیں۔ ہم انہیں خرید نہيں سکتے، لیکن ان کے پیٹنٹس کی وجہ سے ہم ان کے کامیاب فارمولے سے کم قیمت ویکسین نہيں بناسکتے۔ “ ہوسکتا ہے کہ وہ یہ بھی سوچ رہے ہوں کہ یہ کمپنیاں صرف اپنی جیبیں بھرنا چاہتی ہیں۔ ان کے یہ خدشات بلاجواز نہيں ہيں۔ دوا ساز صنعت نے واقعی غریب ممالک کا بہت غلط فائدہ اٹھایا ہے۔

انڈونیشیاء میں جب H5N1 کی وبا پھیلی تو کیا ہوا تھا؟ جب بھی عالمی ادارہ صحت کے کسی رکن ملک میں کوئی وبا پھیلتی ہے، تو سب سے پہلے عالمی ادارے صحت کے لیب میں نمونے بھجوا کر یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ آخر یہ بیماری یا مرض ہے کیا؟ انڈونیشیاء نے جو نمونے بھجوائے تھے، ان کا تجزيہ کیا گیا، جس کے بعد دوا ساز کمپنیوں نے ادویات بنائيں اور انڈونیشیاء میں فروخت کرنے کی کوشش کی۔ یعنی انڈونیشیاء کے ہی بھیجے ہوئے نمونوں کی بنیاد پر ان سے پیسے بٹورنے کی کوشش کی گئی۔

کیا دوسرے ممالک کو ویکسین کے سلسلے میں معاونت فراہم کرنا امریکہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے؟

مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کو تربیت فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ چاہے ہم کوویکس کی بات کریں یا کسی بھی دوسری کوشش کی، سوال لوگ بھجوانے کا نہيں، بلکہ یہی ہوتا ہے کہ ان ممالک کے انفراسٹرکچر کو کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے؟ چاہے وہ مالی شکل میں ہو یا انسانی وسائل کے۔ اگر ہم جائيں، اپنا کام کریں، اور پھر واپس آجائيں، تو ان کو درپیش مسائل ختم نہيں ہوں گے۔

غریب ممالک کو ویکسین نہ ملنے کی صورت میں امیر ممالک کو کس طرح نقصان ہوگا؟ مثال کے طور پر حالیہ ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس سے پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوگی۔

 بالکل ایسا ہی ہے۔ غریب ممالک میں رہائش پذیر افراد زیادہ بیمار ہوں گے، لیکن اس سے پوری دنیا کو مالی نقصان ہوگا۔ دنیا آپس میں اس قدر جڑی ہوئی ہے کہ غریب ممالک کو ویکسین سے محروم رکھنے کی صورت میں امیر ممالک کو فائدہ نہيں بلکہ الٹا نقصان ہی ہوگا۔ اگر غریب ممالک میں لوگ بیمار ہوں گے تو وہ کام نہيں کر پائيں گے، جس سے  امیر ممالک کی صنعتوں کا بھی کام ٹھپ ہو جائے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان ممالک میں رہائش پذیر لوگوں کے پاس بیرون ملک سفر کرنے کے پیسے نہيں ہوں گے، جس سے بین الاقوامی ہوٹلز، ایئرلائنز وغیرہ سب ہی متاثر ہوں گے۔

امیر ممالک میں بھی ایسی ہی کچھ صورتحال نظر آئے گی۔ اگر کم آمدنی رکھنے والے افراد کام نہيں کر پائيں گے، تو امراء کے کاروبار متاثر ہوں گے۔ اسی طرح، اگر وہ اپنے گھر کا کرایہ نہ ادا کر پائيں یا بچت نہ کر پائيں تو اس کا نقصان پوری معیشت کو ہوگا۔

تحریر: لنڈسے مسکاٹو (Lindsay Muscato)

Read in English

Authors

*

Top