Global Editions

پاکستان کے پڑوسی ملک کا توانائی کے بارے میں آخر ارادہ کیا ہے؟

کبھی لگتا ہے کہ بھارت میں کوئلے کے استعمال میں اضافہ ہوجائے گا، اور کبھی لگتا ہے کہ وہ اچانک اس کا استعمال ترک کردیں گے۔ آخر حقیقت کیا ہے؟

بھارت کا توانائی کے ساتھ کچھ عجیب سا تعلق ہے۔ ایک طرف لوگ گرین توانائی اور اخراج میں کمی کی بات کرتے ہيں، اور دوسری طرف وزيرتوانائی پائیوش گویل کہتے ہیں کہ آلودگی کی روک تھام کی ذمہ داری بھارت کی نہیں بلکہ امریکہ کی ہے۔

بھارت میں 14 گیگا واٹس کی گنجائش رکھنے والے متعدد کوئلے کے پاور پلانٹس کے پراجیکٹس منسوخ کیے جارہے ہیں، اور بتایا جارہا ہے کہ 8.6 گیگا واٹس کی گنجائش رکھنے والے موجودہ دوسرے پلانٹس کو چلانا بہت مہنگا ثابت ہورہا ہے۔ آخر وہ کرنا کیا چاہ رہے ہیں؟

اس سوال کے جواب کا خلاصہ یہ ہے: آنے والے سالوں میں بھارت میں توانائی کا بہت بڑا چیلنج سامنے آنے والا ہے۔ جیسا کہ ہم نے آپ کو نومبر/دسمبر 2015ء کے شمارے میں شائع ہونے والی تحریر میں بتایا تھا:

بھارت نے ایک ایسا کام کرنے کی ٹھانی ہے جس میں اب تک کوئی بھی ملک کامیاب ثابت نہیں ہوسکا ہے۔ وہ نہ صرف ایک جدید صنعتی معیشت تخلیق کرکے بجلی اور توانائی فراہم کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، بلکہ اس مقصد کے حصول کے لیے کاربن کے اخراجات میں بھی قابل قدر کمی لانا چاہ رہے ہیں۔ محض بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ پورا کرنے کے لیے انھیں اگلے 30 سال تک بجلی کی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر 15 گیگاواٹس کا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔

اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس تضاد کا معمہ حل ہوجاتا ہے۔ بھارت کو مستقبل میں بجلی کی مانگ پوری کرنے کے لیے کوئلے کے ساتھ شمسی اور ہوائی توانائی کی گنجائش میں اضافہ کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

پچھلے سال بھارت میں 78 فیصد توانائی کوئلے سے پیدا کی گئی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ اخراجات کے نقطہ نظر سے کوئلے کا استعمال خوش آئین بات نہیں ہوگی۔

لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی ہے۔ شمسی کارخانوں کے نئے معاہدوں کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ شمسی توانائی کے اخراجات میں بڑی تیزی سے کمی ہورہی ہے۔ نیز،Institute for Energy Economics and Financial Analysis کے شائع کردہ ایک بلاگ پوسٹ کے مطابق پچھلے سال نئے شمسی پلانٹس میں پیدا ہونے والی توانائی کی قیمت میں 50 فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔

IEEFA  اپنی پوسٹ میں اعتراف کرتے ہیں کہ بھارت میں کم از کم اگلی دو دہائیوں تک کوئلے کا استعمال جاری رہے گا۔ لیکن صورتحال میں بڑی تیزی سے تبدیلی آرہی ہے، اور آگے چل کر قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں اضافہ نظر آئے گا۔ دسمبر میں بھارت نے اپنا دس سالہ قومی توانائی کا پلان جاری کیا، جس کے مطابق 2027ء تک ملک میں صرف 43 فیصد توانائی کوئلے اور قدرتی گیس سے حاصل ہوگی، اور قابل تجدید توانائی کی پیداوار میں 275 گیگاواٹس کا اضافہ ہوگا۔

بھارت کے کاربن کے استعمال میں کمی کا خواب جلد پورا ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

تحریر: مائیکل رائلی (Michael Reilly)

Read in English

Authors

*

Top