Global Editions

ڈرونز سے ترقی پذیر ممالک کے مسئلے کیوں حل نہيں ہوں گے؟

ایک کریٹیکل تھیوری کی ماہر ہمیں بتاتی ہیں کہ ڈرونز کے مطالعے سے ٹیکنالوجی اور معاشرے کے ایک دوسرے پر اثرات کے متعلق ان کی سمجھ بوجھ میں کس طرح اضافہ ہوا.

نئی ٹیکنالوجیز کبھی تنہا متعارف نہيں کی جاتیں۔ ان کے پیچھے سماجی، معاشی، اور سیاسی عناصر کا ہاتھ ہوتا ہے، اور وہ خود بھی اپنے اطراف کے ماحول پر اپنے نشان چھوڑ جاتی ہیں۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی ثقافت اور سیاست کے پروگرام کی پروفیسر کیتھرین چینڈلر افریقہ میں ڈرونز کی تحقیق کرکے یہ جاننے کی کوشش کررہی ہیں کہ ٹیکنالوجی اور سوسائٹی کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ ہم نے حال ہی میں ان سے ان کے پراجیکٹ کے بارے میں گفتگو کی۔

افریقہ میں ڈرونز کو کس طرح استعمال کیا جارہا ہے؟
اس وقت پورے براعظم میں چھوٹے پیمانے پر ڈرونز کے کئی پراجیکٹ چل رہے ہيں، جو جنگلی حیات گن رہے ہيں، لوگوں کو ٹیکے پہنچا رہے ہیں، اور قدرتی آفات کے جواب میں امداد فراہم کررہے ہیں۔ اس وقت مجھے سٹیٹ یونیورسٹی آف زینزی بار کے ایک پراجیکٹ میں بھی کافی دلچسپی ہے۔ یہ ٹیم چھوٹے تجارتی ڈرونز کا استعمال کرتی ہے جو صرف 30 سے 40 منٹ تک اڑ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے یہ زینزی بار کا نقشہ بنانے میں دو سال لگے۔

اس پراجیکٹ کا مقصد ایک نقشہ بنانا تھا جیسے آگے چل کر منصوبہ بندی اور قدرتی وسائل کے بہتر انتظام کے لیے استعمال کیا جاسکے، تاکہ قدرتی آفات کی صورت میں ہمیں معلوم ہو کہ ان جزیروں کی شکل کیا تھی۔ اس پراجیکٹ کا مقصد زمین کے طویل المیعاد تنازعات کا حل نہيں تھا۔ لیکن اب زمین سے وابستہ تنازعات پر اس نقشے کے اثرات کا تعینن کرنا زینزی بار کا نقشہ بنانے اور اس معلومات کو عام کرنے کی سب سے بڑی مشکل ثابت ہورہا ہے۔

ڈرونز سے حاصل کردہ ڈیٹا سے زمین کے تنازعات کس طرح حل ہوسکتے ہيں؟

یہ بات اب تک واضح نہيں ہوسکی ہے۔ اس نقشے کا کیا مقصد ہے اور اسے کس طرح استعمال کیا جائے گا؟ اس وقت اس سلسلے میں کافی سیاسی خدشات بھی ہیں۔ اس ہائی ریزولوشن نقشے سے وافر مقدار میں معلومات حاصل ہوتی ہے۔ آپ کو کچرے کے ڈھیر نظر آئيں گے، گندے پانی کی نکاسی نظر آئے گی، آپ کو غیرقانونی عمارات بھی نظر آئيں گے۔ اور ان تمام معلومات سے مذاکرات کی شرائط تبدیل ہوجاتی ہيں۔

افریقی اتحاد اور کئی بین الاقوامی امداد کی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ڈرونز سے افریقہ میں ترقی تبدیل ہو کر رہ جائے گی۔ اس بات میں کس حد تک سچائی ہے؟

اس بات پر غور کرنے سے بہت فائدہ ہوگا کہ زینزی بار کتنا چھوٹا جزیرہ ہے لیکن یہ پراجیکٹ مکمل کرنے میں کتنا وقت لگا۔ بڑے رقبے کو کور کرنا زیادہ مشکل ہے۔

ایک دوسری مثال لے لیں۔ 2016ء اور 2017ء کے درمیان جنوبی افریقہ کے کروگر نیشنل پارک میں جانوروں کے غیرقانونی شکار کی روک تھام کی کوششوں میں ان مینڈ ایئرکرافٹ کو ضم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس پراجیکٹ کے مینیجر کے مطابق ڈرونز استعمال کرنے کے باوجود ایک بھی غیرقانونی شکاری کی نشاندہی نہيں ہوسکی، اور ڈرونز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے باوجود بھی ان میں ان غیرقانونی شکاریوں کی ٹریکنگ کرنے کی صلاحیت پیدا نہ ہوسکی۔ لہٰذا یہ پراجیکٹ منسوخ کردیا گیا۔ اس پارک کا رقبہ زيادہ ہونے کی وجہ سے ڈرونز مفید معلومات حاصل کرنے سے قاصر رہے، اور پارک کے حکام ڈرونز سے حاصل کردہ معلومات استعمال نہيں کرپائے۔

ایک دوسرے چھوٹے پارک میں چند تجربے کیے گئے تھے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈرونز فائدہ مند بھی ثابت ہوسکتے ہيں۔ میں اس بات کا تذکرہ اس وجہ سے کررہی ہوں کیونکہ میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ ڈرونز کی کارکردگی کے بارے میں بات کرتے وقت پیمانے کا عنصر بہت اہم ہے۔

اس وقت سب سے بڑے مسئلے ایندھن اور بیٹری ہیں۔ زیادہ تر ڈرونز زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے تک ہی اڑ سکتے ہيں۔ دوسرا مسئلہ گنجائش کا ہے۔ اس وقت ڈرونز صرف محدود وزن ہی اٹھاسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈرونز صرف خون اور ٹیکوں کی ڈیلیوری سے آگے نہيں بڑھ پائے ہيں۔

کیا ڈرون کی ڈيلوری سے دیہی افریقہ کے بیشتر حصوں میں سڑکیں بنانے کی ضرورت ختم ہوجائے گی، خاص طور پر جب بارش کے موسم میں کچے راستے استعمال کرنا ناممکن ہوجاتا ہے؟

اس وقت روانڈا میں زپ لائن نامی کمپنی کے ایک پراجیکٹ کو بہت بڑا چڑھا کر بیان کیا جارہا ہے، جس میں بذریعہ ڈرون خون پہنچایا جارہا ہے۔ روانڈا میں کئی بین الاقوامی تنظیمیں سرمایہ کاری کررہی ہیں، اور حکومت مختلف قسم کے رییسرچ پراجیکٹس میں ڈرونز کا استعمال کرنا چاہ رہی ہے۔ اس سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ روانڈا ٹیکنالوجی کا مرکز ہے۔

لیکن روانڈا ایک زراعتی ملک ہے۔ ڈرونز کا روانڈا کی شہریوں کی روزمرہ زندگی سے کیا تعلق ہے؟ یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے کس کو فائدہ ہورہا ہے۔ ڈرونز کو دوسری اقسام کے انفراسٹرکچر کا متبادل سمجھا جارہا ہے، لیکن ہوسکتا ہے کہ یہ دوسرا انفراسٹرکچر ملک کے لیے بہت ضروری ہو۔

اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ڈرونز سے بنیادی ٹیکنالوجی کی ضرورت ختم نہيں ہوتی۔ ہم ٹیکنالوکی سے لوگوں اور کمیونٹیوں کو کس طرح فائدہ پہنچاسکتے ہيں؟ میں چاہتی ہوں کہ لوگ اس پر کام کريں۔

تحریر: کونسٹنٹن ککائیس (Konstantin Kakaes)

Read in English

Authors
Top