Global Editions

چین کی برقی گاڑیوں کی صنعت امریکہ، جاپان اور جرمنی کو بہت پیچھے چھوڑچکی ہے

چین پہلے اچھی گاڑیاں نہيں بناسکتا تھا۔ لیکن یہ برقی گاڑیوں کے پہلے کی بات ہے۔

1960ء اور 1970ء کی دہائیوں کے دوران چین کے ثفافتی انقلاب کے بعد چین کی معیشت تباہ و برباد ہوچکی تھی، اور انہیں دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ دوسرے ممالک کی ٹیکنالوجی درآمد کی جائے تاکہ چینی کمپنیاں یہ ٹیکنالوجی اپناسکیں۔ 1980ء کی دہائی میں بیرون ملک گاڑی بنانے والوں کو صرف اسی شرط پر چین میں کام کرنے کی اجازت دی گئی کہ وہ کسی چینی کمپنی کے ساتھ شراکت داری کریں۔ پالیسی دانوں کا خیال تھا کہ بیرون ملک کی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے سے چینی کمپنیوں کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا اور وہ خود سے کام کرنے لگیں گی۔

تاہم یہ خواب سچ ثابت نہ ہوسکا۔ مارکیٹ میں چینی گاڑیوں کی بھرمار تو ہوگئی، لیکن وہ صرف بیرون ملک گاڑیوں کی غیرمعیاری نقول سے زیادہ کچھ نہيں تھیں۔ وہ دیکھنے میں تو غیرملکی گاڑیوں کی طرح ہی لگتی تھی، لیکن ان کے پرزوں کی پائیداری نہ ہونے کے برابر تھی۔ یورپی اور امریکی گاڑی بنانے والی کمپنیاں بہت پہلے ہی چین سے میدان مار چکی تھیں۔

دنیا سے آگے نکلنے کا واحد طریقہ ایک بالکل نئی ٹیکنالوجی کو اپنانا تھا، اور برقی گاڑیاں، جن میں میکانیکی صلاحیت کی کم اور الیکٹرانکس پر عبور کی زيادہ ضرورت ہوتی ہے۔ چیورلیٹ بولٹ کے برقی انجن میں صرف 24 متحرک پرزے، جبکہ وولکس ویگن میں 149 پرزوں کی ضرورت ہے۔ چین نےکئی سالوں تک دنیا بھر کی بیٹریاں، فونز، اور آلات بنانے کی وجہ سے الیکٹرانک تخلیق کرنے کا انفراسٹرکچر پہلے سے موجود ہے۔

اب چینی حکومت برقی انجنز اپنانے میں پوری دنیا کو پیچھے چھوڑ رہی ہے۔ برقی گاڑیاں چین کو اعلٰی ٹیکنالوجی استعمال کرنے والی صنعتوں میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے منصوبے میڈ ان چائنا 2025ء کا ایک بنیادی ستون بھی ہیں۔ اس کے علاوہ، چینی حکومت نے مانگ میں اضافے کے لیے پالیسیاں بھی تخلیق کی ہیں۔ حکومت کے اس خواب کو پورا کرنے اور تخلیق کاری میں اضافے کے لیے سبسڈیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے 2013ء سے چین میں 500 کے قریب برقی گاڑیاں لانچ ہوچکی ہیں۔

صارفین کو حکومت نے ایک ایسی چیز فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے جو اس وقت چین میں حاصل کرنا بہت مشکل ہے، یعنی کہ لائسنس پلیٹ۔ آلودگی کا مقابلہ کرنے کے لیے چین میں ہر سال لائسنس پلیٹس صرف محدود تعداد میں جاری کی جاتی ہے۔ بیجنگ میں لائسنس پلیٹس ایک قرعہ اندازی کے تحت جاری کی جاتی ہیں، لیکن انہیں حاصل کرنے کا امکان صرف 0.2 فیصد ہے۔ شنگھائی میں ایک لائسنس پلیٹ کی قیمت 14،000 ڈالر ہے، جو گاڑیوں کی قیمت سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔ اس کے برعکس برقی گاڑیوں کی پلیٹس جلد جاری بھی ہوجائيں گی، اور بالکل مفت بھی ہوں گی۔

شنگھائی میں واقع کنسلٹنسی کمپنی آٹوموبلٹی کے سی ای او بل روسو کہتے ہیں ”معیشت چلانے کے لیے ایک مختلف طریقہ کار اپنانا ہوگا۔ چین اس بات سے اچھی طرح باخبر ہے کہ وہ حیاتیاتی ایندھن پر انحصار نہيں کرسکتے ہیں۔ وہ دھوئيں سے ہی مر جائيں گے۔“

چین کی اس تیز رفتاری نے روایتی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو اپنی حکمت عملیوں کی نظرثانی کرنے پر مجبور کرلیا ہے۔ ان میں سے کئی کمپنیاں اپنی برقی صلاحیتوں کو چین کی صنعتی پالیسی کے مطابق ڈھالنے کی کوششیں کررہی ہیں، لیکن وہ چینی کمپنیوں کی طرح پیش رفت کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہیں، جس کی وجہ سے فورڈ، جنرل موٹرز اور یورپی تخلیق کاروں کو نقصان کا خطرہ ہے۔

جان ہاپکنس سکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں توانائی، وسائل اور ماحولیات کے اسسٹنٹ پروفیسر جونس ناہم کہتے ہیں "اس صنعت میں ہمیشہ ہی سے جاپان، یورپ اور امریکہ آگے رہے ہیں، لیکن اب صورتحال بڑی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ میرے خیال میں اب تک کسی کو اس کا جواب نہيں مل پایا ہے۔"

تحریر: جورڈن ڈاہل (Jordan Dahl)

Read in English

Authors
Top