Global Editions

صاف توانائی کی سٹارٹ اپ کمپنیوں کے ساتھ برا کیوں ہوتا ہے؟

چلتی ہوئی ہوا اور شمسی توانائی کے ذخیرے کی نئی ٹیکنالوجیز آگے چل کر صاف توانائی کی بنیاد فراہم کرسکتی ہیں۔ لیکن اکوین انرجی کا حال ہی میں دیوالیہ نکلنے کے بعد ان ٹیکنالوجیز کو درپیش چیلنجز سامنے آئے۔

ایکوین انرجی کے ناکام ہونے کی کوئی وجہ نہیں تھی

کارنیگی میلن یونیورسٹی کے اموادی سائنس کے پروفیسر اور ماضی میں ناسا کے لیے مریخ پر چلنے والی گاڑیوں کی بیٹریاں بنانے والے جے وہٹ ایکر (Jay Whitacre) کی قائم کردہ یہ سٹارٹ اپ کمپنی قابل تجدید توانائی کے پراجیکٹس اور توانائی کے بڑے گرڈ بناتی تھی۔ وہ بل گیٹس کے علاوہ کلینر پرکنس اور شیل کے وینچر کیپیٹلسٹس جیسے نمایاں سرمایہ کاروں سے تقریباً 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوگئی تھی۔ لیکن جو بات سب سے اہم تھی وہ یہ تھی کہ یہ کمپنی دوسری بیٹری بنانے والی سٹارٹ اپ کمپنیوں کی غلطیوں سے خود کو بچانے میں کامیاب ثابت ہورہی تھی۔ وہ نایاب امواد کے استعمال سے گریز بھی کررہی تھی، اور تخلیق کاری کے لیے نئی مشینوں کے بجائے دوسرے مقاصد کے لیے تخلیق کردہ مشینیں بھی استعمال کررہی تھی۔ اس کے علاوہ اس نے ان امتیازی مارکیٹس کی بھی نشان دہی کر رکھی تھی جہاں سے اسے فائدہ ہوسکتا تھا۔

لیکن 8 مارچ کو یہ کمپنی مزید سرمایہ کاری حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی، جس کے بعد اس نے دیوالیے کا اعلان کردیا، 80 فیصد ملازمین کو فارغ کردیا، اور تخلیق کاری روک دی۔ اس سے پہلے بھی وینچر کیپیٹل کی سرمایہ کاری حاصل کرنے والی کئی ذخیرہ کرنے والی سٹارٹ اپ کمپنیاں ناکام ہوچکی تھیں۔ فلو بیٹریوں پر کام کرنے والی کمپنی اینروالٹ (EnerVault) 2015ء میں مزید سرمایہ کاری حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد بند ہوگئی۔ اسی سال مائع دھات کی بیٹری بنانے والی سٹارٹ اپ کمپنی ایمبری (Ambri) نے اپنے 25 فیصد ملازمین فارغ کردیے۔ توانائی کو کمپریسڈ ہوا کی شکل میں کاربن فائبر کی ٹنکیوں میں ذخیرہ کرنے میں مشکلات سے دوچار کمپنی لائٹ سیل (LightSail) انرجی نے اپنے کنٹیر قدرتی گیس بنانے والوں کو فروخت کرنا شروع کردیے۔ ان مشکلات کی وجہ سے کم قیمت اور قابل عمل گرڈ کی ذخیرہ کرنے کی سہولت کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔

یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہوا اور سورج جیسے غیرمسلسل ذرائع سے حاصل کردہ اضافی توانائی کو ذخیرہ کیے بغیر گرڈ میں توانائی کی مجموعی پیداوار محدود ہے، جس کا مطلب ہے کہ موسمی تبدیلیوں کی وجہ بننے والی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی نہیں لائی جاسکتی ہے۔ کیلیفورنیا میں گرڈ میں اضافی توانائی استعمال کرنے کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے شمسی توانائی کے فارمز کو بند کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود، سورج غروب ہونے کے بعد رکازی ایندھن (fossil fuels) استعمال کرنے والے پلانٹس چلانے کی اب بھی ضرورت ہے۔

ایک سال قبل ایکوین (Aquion) نامی کمپنی ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کی 50 سمارٹ ترین کمپنیوں کی فہرست میں پانچویں نمبر پر تھی۔ اس کی ناکامی کی وجہ سمجھنا مشکل ہے، اور دیوالیے کے مقدمے میں زيادہ تفصیلات نہیں ملتی ہیں۔ وہٹ ایکر نے نیلامی مکمل ہونے تک اس معاملے پر بات کرنے سے صاف انکار کردیا ہے، لیکن وہ امید ضرور کرتے ہیں کہ ان کی کمپنی یا یہ ٹیکنالوجی کسی نہ کسی شکل میں قائم رہے۔

یہ بات تو طے ہے کہ گرڈ کے ذخیرے کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت کے باوجود بھیسٹارٹ اپ کمپنیوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ سب سے پہلے تو گرڈ کی برتر ٹیکنالوجیز کے مہنگے اور ناپختہ ہونے کی وجہ سے ان کی مانگ زیادہ نہیں ہے۔ دوسری بات، جو کہ آنے وقتوں میں زیادہ اہم ثابت ہوگی، یہ ہے کہ لیتھیم آئن کی بیٹریوں کی قیمتیں توقعات سے بھی زیادہ کم ہوگئی ہیں، اور ایکوین اور اس جیسی دوسری کمپنیوں کا فائدہ کم ہوگیا ہے۔

توانائی کی کمپنی کے بانیوں کے لیے پیش کردہ سائیکلوٹرون روڈ (Cyclotron) نامی پروگرام کے بانی الان گر (Ilan Gur)، جنھوں نے ماضی میں ایک بیٹری بنانے والی کمپنی بھی قائم کی تھی جسے بوش نے خریدلیا تھا، کہتے ہیں "لیتھیم آئن کے بعد کیا آنے والا ہے، اس کی آس میں نہ بیٹھیں۔ اگلی چند دہائیوں تک لیتھیم آئن کا ہی دور ہے۔"

صاف توانائی بنانے والی کمپنیوں کے لیے یہ اب پرانی بات ہوچکی ہے۔ انھیں نئے آلات اور تخلیق کاری میں اضافے کے لیے بھاری بھرکم سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے، لیکن موجودہ ٹیکنالوجیز میں بہتری کی وجہ سے انھیں قیمتوں اور کارکردگی کے اہداف میں تیزی سے تبدیل ہونے والی قیمتوں کا بھی سامنا ہے۔ ان چیلنجز کی وجہ سے بہت ہی کم کمپنیاں کامیاب ہو پاتی ہیں۔

اس وقت خطرہ یہ ہے کہ کئی ماہرین سمجھتے ہیں کہ وسیع پیمانے پر گرڈ کے ذخیرے کے لیے لیتھیم آئن کا استعمال فائدہ مند ثابت نہیں ہوگا، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی کبھی بھی اس حد تک سستی اور دیرپا ثابت نہیں ہوگی۔ ان ٹیکنالوجیز کی مارکیٹ بھی ابھی ٹھنڈی پڑی ہے جن میں آج تو صرف معمولی سی بہتری آئے گی لیکن جن کا آگے چل کر توانائی کے نظام کو بدل کر رکھنے کا امکان ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس وقت تک ان ٹیکنالوجیوں کو کس طرح معاونت فراہم کی جاسکتی ہے؟

غیرحقیقی توقعات

جب ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو نے 2012ء میں ایکوین کے بارے میں پہلی دفعہ لکھا تھا، اس وقت اس کمپنی نے بتایا تھا کہ وہ ہر کلو واٹ کے لیے 300 ڈالر سے کم خرچ کرنے کی امید کرتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی میں نمکین پانی استعمال کرنے والے الیکٹرولائيڈ کے ساتھ مینگانیز آکسائيڈ کیتھوڈ اور کاربن کا اینوڈ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس کی قیمت کم قیمت تیزاب استعمال کرنے والی بیٹریوں سے زيادہ لیکن مہنگے لیتھیم آئن ٹیکنالوجی سے کم تھی۔ لیکن کمپنی کا یہ بھی دعوی تھا کہ یہ بیٹریاں زيادہ چلیں گی، اور برقی گرڈ کے چارجنگ اور ڈسچارجنگ کے سائیکلز کے دوران اس کی کارکردگی بہتر رہے گی۔ اس سے سسٹم کے طویل المیعاد قیمتوں میں کمی کا امکان تھا۔

یہ بات واضح نہیں ہے کہ ایکوین کے دیوالیے سے پہلے ان کے مصنوعات کی قیمت کیا تھی، لیکن بلوم برگ نیو انرجی فنانس (Bloomberg New Energy Finance) کے مطابق لیتھیم آئن کی قیمتیں 300 ڈالر فی کلو واٹ ہاؤر سے کم ہوچکی تھیں۔ صرف دو سالوں کے اندر اندر قیمت آدھی ہوگئی تھی، اور 2016ء میں دنیا بھر میں فونز، برقی گاڑیوں اور شمسی توانائی پر چلنے والے بیک اپ کے سسٹمز کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے لیتھیم آئن بیٹریوں کی تخلیق کاری میں اضافے کی وجہ سے قیمتيں کم ہوتے ہوتے 273 ڈالر تک پہنچ چکی تھیں۔ لیتھیم آئن کی بیٹریوں کی قیمتیں مزید کم ہونے کی امید ہے۔ بلوم برگ پیش گوئی کرتے ہیں کہ 2025ء تک یہ قیمتیں 109 ڈالر فی کلو واٹ ہاؤر اور 2030ء تک 73 ڈالر ہوجائيں گی۔

ایم آئی ٹی میں اموادی سائنس دان اور ایمبری کے شریک بانی ڈونلڈ سیڈووے (Donald Sadoway) سمجھتے ہیں کہ یہ تخمینے گرڈ پر لیتھیم آئن استعمال کرنے والے ذخیرے کے نظاموں کے کل اخراجات کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بلوم برگ نیو انرجی فنانس کی پیش گوئی حقیقت پر مبنی نہیں ہے، کیونکہ 2030ء کا تخمینہ خام مواد کی قیمت سے کم ہے۔ لیکن اس کے ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ قیمتوں میں اچانک کمی کی وجہ سے ذخیرے کی مارکیٹ پر کافی گہرے اثرات سامنے آئيں گے، بلکہ ابھی سے نظر آنے لگے ہیں۔ "جب لیتھیم آئن اس قسم کے دعوے کرے تو سرمایہ کاروں کو کھٹکا ضرور ہوگا۔"

کئی لاکھ ڈالر کی قیمت کے ذخیرے کے نظام استعمال کرنے کے بارے میں سوچنے والے صارفین کو نئی اور ممکنہ طور پر زیادہ خطرناک ٹیکنالوجی پر داؤ لگانے میں زيادہ فائدہ نہیں ہے۔ بیٹری کے سسٹمز فراہم کرنے والی توانائی کے پراجیکٹ کی کمپنی اے ای ایس کے توانائی کے ذخیرے کے شعبے کے صدر جون زاہورانکک (John Zahurancik) کے مطابق مستحکم فراہم کنندگان کی پیش کردہ لیتھیم آئن کی معتبر بیٹریاں بڑے پیمانے پر یوٹلٹیز استعمال کرنے والے صارفین کی مخصوص ضروریات پورا کررہی ہیں۔ 2015ء میں ایک بہت بڑے لیک کے بعد جب کیلیفورنیا کی یوٹلٹی کمپنیوں کو ایک قدرتی گیس کے ذخیرے کی سائٹ تبدیل کرنی پڑی، اس وقت انھوں نے اے ای اس اور ٹیسلا کے بنائے گئے لیتھیم آئن کے سسٹمز اپنانا شروع کیے۔ زاہورانکک کہتے ہیں "یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو دستیاب بھی ہے، اور تیار بھی۔"

آگے کیا ہوگا؟

ایم آئی ٹی میں مطالعہ توانائی کی اسوسیٹ پروفیسر جیسیکا ٹرانکک (Jessika Trancik) کے مطابق بیٹریوں کے معاملے میں ایک ہی ذریعے پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ لیتھیم آئن بیٹریوں کی قیمتیں تو کم ہورہی ہیں، لیکن وہ ابھی بھی اس قدر کم قیمت نہیں ہوئی ہیں کہ انہیں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جائے۔ ٹرانکک کے مطابق اب تک یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ان بیٹریوں کو کب استعمال کیا جاسکے گا۔

اس کی قیمتوں کا تعین بھی کافی پیچیدہ ہے۔ کلو واٹ فی گھنٹہ کے بجائے کلو واٹ فی گھنٹی فی سائیکل کی مدد سے قیمتوں کی پیمائش کرنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگا، کیونکہ اس سے سسٹم کی عمر بھر کے اخراجات کا بہتر طور پر اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اور یہیں پر لیتھیم آئن بیٹریوں کا سب سے بڑا مسئلہ سامنے آجاتا ہے: یہ بیٹریاں بہت جلدی ختم ہوجاتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ گرڈ میں ہوا اور شمسی توانائی جیسے غیرمسلسل ذرائع کو متوازن رکھنے کے لیے ضروری بنیادی ذخیرے کا بوجھ نہیں اٹھا پائيں گے۔

اب تک تو یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ کونسی گرڈ کی ٹیکنالوجی لیتھیم آئن کی بیٹریوں کی جگہ لینے میں کامیاب ثابت ہوگی۔ بیٹریوں کو بہتر بنانے کے علاوہ فلائی وہیلز، سکیڑی ہوئی ہوا، ہائيڈروجن کا ایندھن استعمال کرنے والے سیلز، برقی گاڑیاں استعمال کرنے والے نظام، اور توانائی ذخيرہ کرنے والے ایئرکنڈیشنر بھی موجود ہیں۔ لیکن اب تک سب سے بڑی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی پانی کو کسی پہاڑ پر چڑھا کر اسے نیچے گرانا ہی ہے۔ ان سب ٹیکنالوجیز میں اب تک قابل قدر خامیاں باقی ہیں، اور انھیں آگے بڑھانے، ان کی مزید جانچ کرنے اور ان کی قیمتوں میں کمی کو ممکن بنانے کے لیے مزید اور پائیدار سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ سرمایہ کاری آئی گی کہاں سے؟ ٹرمپ انتظامیہ نے صاف توانائی کی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کو وفاقی خزانے سے سرمایہ کاری فراہم کرنے والے پروگرام کو ختم کرنے کے اقدامات شروع کردیے ہیں۔ اس کے علاوہ بروکنگز انسٹی ٹیوشن (Brookings Institution) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ان ٹیکنالوجیز کے لیے وینچر کیپیٹلسٹس کی سرمایہ کاری بھی کم ہوچکی ہے۔ 2011ء میں 7.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی تھی، جو اب 30 فیصد کم ہو کر 5.2 بلین ہوچکی ہے۔

یہ امید ا‌فزا بات ہے کہ بڑے ذخیرے کے سسٹمز کی مارکیٹ بڑی ہورہی ہے، ہوا اور شمسی توانائی کے پراجیکٹس میں اضافہ ہورہا ہے اور فیکٹریاں چوٹی کی مانگ کے دوران اخراجات میں کمی کرنے کی کوششیں کررہی ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے، میں توانائی کے ماہر اقتصادیات سیورن برون سٹائن (Severin Borenstein) کے مطابق جیسے جیسے قابل تجدید تخلیق میں اضافہ ہورہا ہے اور پرانے رکازی ایندھن استعمال کرنے والے پلانٹس بند ہورہے ہیں، گرڈ کے ذخیرے کی ٹیکنالوجیاں زیادہ منافع بخش ثابت ہورہی ہیں۔

لیکن موسم کی تبدیلی کے خطرات سے بچنے کے لیے اخراجات میں جس رفتار سے کمی لانے کی ضرورت ہے، مارکیٹ اس تیزی سے آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔ اس میں سمارٹ عوامی پالیسی کافی فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ کاربن کے ٹیکس اور کیلیفورنیا، نیو یارک اور دوسری ریاستوں میں کاربن پر پابندی لگا کر کریڈٹس کا تبادلہ جیسے اقدام سے رکازی ایندھن استعمال کرنے والے پلانٹس کے استعمال کے اخراجات میں اضافہ ہوگا، اور گرڈ میں مزید ذخیرہ اور قابل تجدید ذرائع کی شمولیت کا زیادہ فائدہ ہوگا۔ کیلیفورنیا میں اس دہائی کے اختتام تک گرڈ کی ذخیرے کی گنجائش میں 1.3 گیگا واٹس کے اضافے، یا وفاقی عطیات اور قرضے کے پروگراموں کے ذریعے بھی اس شعبے کی معاونت کی جاسکتی ہے۔

ابھرتی ہوئی ذخیرے کی ٹیکنالوجیز کا ایسی مارکیٹس سے مقابلہ ہے، جو نمایاں ٹیکنالوجیز اور کمپنیوں کے حق میں ہیں۔ اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لیے کسی انقلاب کی ضرورت ہے، اور توانائی کے شعبے میں ایسے انقلاب کم ہی آتے ہیں۔

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors
Top