Global Editions

کوئی ایپل آئی فون کا مقابلہ کیوں نہیں کر سکتا۔۔۔۔؟

’’آئی فون نے روزمرہ کام کاج اورمصروفیات کے انداز کو بدل ڈالا ہے‘‘ یہ کہنا تھا آیپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کاک کا۔ ایپل کے چیف ایگزیکٹو سان فرانسسکو میں آئی فون سیون کی تعارفی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ آئی فون سیون، ایپل کی جانب سے متعارف کرائی جانیوالی تازہ ترین پراڈکٹ ہے۔ ایپل نے 2007ء میں سمارٹ فون انڈسٹری میں قدم رکھا تھا اور اس کے بعد سے اب تک سمارٹ فون انڈسٹری میں ایپل اپنا ایک الگ مقام بنا چکی ہے۔ اب اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ آئی فون نے ایپل کمپنی کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے اور اب ایپل دنیا کی ایک قابل قدر کارپوریشن بن چکی ہے۔ کمپنی اب تک ایک ارب سمارٹ فون فروخت کر چکی ہے۔ اس حوالے سے ڈرٹماؤتھ (Dartmouth) کالج میں ٹیک کمپنی سٹریٹجی کے پروفیسر کونسٹانس ہیلفاتھ (Constance Helfat) کا کہنا ہے کہ یہ امر تجربے میں بہت کم آیا ہے کہ کسی کمپنی نے ایک نئی پراڈکٹ متعارف کرائی ہو اور وہ پراڈکٹ اس کے لئے ایک نئی مارکیٹ کو فتح کرنے کا سبب بن جائے۔ آئی فون نے ایپل کے لئے یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عموماً یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ کمپنیاں ایک سے زائد انڈسٹریاں قائم نہیں کرتیں۔ گزشتہ نو برسوں میں آئی فون نے چھ سو بلین کا ریونیو اور دو سو پچاس بلین ڈالرز کا منافع کمایا۔ تاہم گزشتہ سہ ماہی کے دوران آئی فون کی فروخت کی شرح میں 15 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں دو ارب کے لگ بھگ افراد سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں اور اب ایپل کی جانب سے متعارف کرائے جانیوالے آئی فون کے نئے ماڈل میں کئی نئے فیچر متعارف کرائے گئے ہیں جن میں سے سب سے اہم وائرلیس ہیڈفونز ہیں۔ ایپل نے اپنی اس نئی پراڈکٹ میں سے ہیڈفون جیک ختم کر دیا ہے۔ اسی طرح فون میں کئی اور تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں تاہم تعارفی تقریب کےدوران ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک نے ایپل میوزک کی بڑھتی سٹریمنگ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ایپل میں موجود کئی آپشنز سرمایہ کاروں کے لئے بہت دلچسپی کا باعث ہونگی انہوں نے اس موقع پر خاص طور پر ایپل پے (Apple Pay) سروس کا ذکر کیا اور قرار دیا کہ یہ پیمنٹ سسٹم بہت تیزی سے ترقی کریگا۔ اس موقع پر ایپل واچ کی بھی رونمائی کی گئی۔ ایپل کی جانب سے تیار کی جانیوالی سمارٹ واچ کو بھی بہت عوامی پزیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ اب اگرچہ حالیہ دنوں میں ایپل کی فروخت متاثر ہوئی ہے تاہم اب بھی ایپل کمپنی کا سالانہ منافع دو سو بلین ڈالرز ہے اور اب فروخت میں ہونے والی اس کمی کو آئی فون کے جدید ماڈلز کے ذریعے پورا کیا جا سکے گا۔ اس حوالے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے مینجمنٹ پروفیسر مارون لائیبرمین کا کہنا تھا کہ ایپل کمپنی کے پاس اپنی ریونیو سٹریم کو بہتر بنانے اور اس میں اضافے کے کئی آپشن موجود ہیں۔ یہ پہلو بھی درست ہے کیونکہ ایپل نے حال میں مصنوعی ذہانت کے شعبہ میں کام کرنے والی چار کمپنیاں خریدی ہیں اور وہ ان کمپنیوں کی مدد سے اپنی ایپلی کیشن سری Siri کو مزید بہتر بنانے کے لئے کام کر رہی ہے۔ اسی طرح ایپل کے آئی فون کے لئے نیا آپریٹنگ سسٹم بھی رواں برس کےدوران لانچ کر دیا جائیگا جس کی وجہ سے Siri کو تھرڈ پارٹی سروسز کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت حاصل ہو جائیگی۔ ایپل کی طرح کئی دیگر کمپنیاں جن میں گوگل اور ایمزون شامل ہیں بھی مصنوعی ذہانت کے منصوبوں میں دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں اور وہ ایسے ہی ورچوئل اسسٹنٹ تیار کرنے میں کوشاں ہیں۔

تحریر: ٹام سیمونائیٹ (Tom Simonite)

Read in English

Authors

*

Top