Global Editions

مصنوعی ذہانت سے جمہوریت کو خطرہ کیوں ہے

فیوچرسٹ اور نیویارک یونیورسٹی کی پروفیسر ایمی ویب ہمیں بتاتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت ہمیں کیوںتباہی کے دہانے پر ے جائے گی- اور کیوں اب بھی امید ہے کہ اس تباہی کو روکا جا سکتا ہے۔

فیوچرسٹ، نیویارک یونیورسٹی کی پروفیسر اور ایوارڈ جیتنے والی مصنفہ ایمی ویب نے گزشتہ دہائی میں سے بہت زیادہ وقت مصنوعی ذہانت کے بارے میں تحقیق، تبادلہ خیال ، لوگوں اور تنظیموں کے ساتھ اس کے اثرات پر خرچ کیا۔ان کا کہنا ہےہم نے ہر چیز میںمصنوعی ذہانت کا استعمال کر لیا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم پیچھے مڑ کے دیکھیں کہ یہ کہاں جا رہی ہے۔

یہ ان کی نئی کتاب کاکام ہے جس کا نام ہے:: The Big Nine: How the Tech Titans and Their Thinking Machines could Warp Humanity۔

اس کتاب میں ایمی بتاتی ہیں کہ ٹیکنالوجی کس طرح خطرناک راستے پر چل پڑی ہے۔ امریکہ میں گوگل، مائیکروسافٹ، ایمیزون، فیس بک، آئی بی ایم اور ایپل (“جی-ایم اے ایف اے”) سرمایہ دارانہ مارکیٹ کی شارٹ ٹرم ڈیمانڈ میں بے اثر ہو رہے ہیں جس سے طویل مدتی اور سوچ سمجھ کے کی جانیوالی منصوبہ بندی ناممکن ہو رہی ہے۔ چین میں ٹینیسٹ( (Tencent، علی بابا اور بیڈو( (Baidu ڈیٹا اکٹھا کرکے آمرانہ حکومت کے عزائم کو مضبوط کر رہے ہیں۔
ایمی ویب نے دلیل دی ہے کہ اگر ہم روش تبدیل نہیں کرتے تو ہم سیدھےتباہی کے راستے پر چل سکتے ہیں۔

لیکن اب بھی عمل کرنے کا وقت ہے اور ہر کوئی اپنا کرادار ادا کر سکتا ہے۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو نے ان کے ساتھ نششت کی کہ وہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں کیوں فکر مند ہیں اور ان کے خیال میں ہم کیا کر سکتے ہیں۔

آپ نےذکر ہے کہ آپ ٹیکنالو جی، سیاست اورمعیشت میں پریشان کر دینے والے رحجانات دیکھ رہی ہیں۔کیا آپ ٹیکنالوجیکل رجحانات کی وضاحت کریں گی؟
جب آپ فیلڈ میں کام کرنے والے ایک محقق سے گفتگو کرتے ہیں تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بڑے عرصے سے بہت سارے وعدے کیے گئے ہیں: گاڑیوں میں مکمل آٹومیشن، مکمل پہچان یا جنرل مصنوعی جنرل انٹیلی جینس (اے جی آئی- (AGI۔ یہ وہ نظام ہیں جو سنجیدہ ہیں اور زیادہ انسان کی طرح سوچنےکے قابل ہیں۔

میرے نقطہ نظر یہ ہے کہ اس بات کو ذہن میں رکھیں جب ہمارے پاس بولنے اور چلنے والی مشین ہو گی یا ایسی مشین ہو گی جو بولنے کے ساتھ فیصلہ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہو گی اور وہ کس طرح اپنا پوائنٹ مس کریگی۔ ہم پہلے ہی اربوں چھوٹی پیش رفت دیکھ رہے ہیں جن کا وقت کے ساتھ ایک جامع اثر پڑے گا ۔اس سے ایک نظام وجود میں آئے گا جو خود مختار طور پر ایک ہی وقت میں بہت سارے فیصلے کرسکتا ہے۔مثال کے طور پر ڈیپ مائنڈ مشینوں کو ایسی تربیت فراہم کر رہی ہے کہ وہ کس طرح گیم کھیلنے میں انسانوں کو شکست دے سکتی ہیں۔ وہ ری انفورسمنٹ لرننگ اور ملٹی ٹاسک جیسے ایریاز میں کافی ترقی کر چکی ہیں۔الفا گو کا تازہ ترین ورژن الفا زیرو یہ سیکھنے کے قابل ہے کہ لوپ میں انسان کے بغیر تین گیمز کیسے کھیل سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی میں ایک کافی بڑی چھلانگ ہے۔اس طرح جنریٹو ایڈورسل نیٹ ورک کا نیا فیلڈ ہے جہاں اب آپ انسانی چہرے پیدا کرسکتے ہیں جو بہت بہت حقیقی نظر آتے ہیں۔

یہ حقیقی لگنے والے انسانی چہر وں کی ٹیکنالوجی اتنی پرکشش نہیں ہے جتنا اس کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ لیکن اگر آپ 40,000فٹ سے اوپر دیکھیں تو آپ دیکھیں گے کہ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جہاں سسٹم ہمارے لئے انتخاب کر رہا ہو گا۔ اور ہمیں رک کر اپنے آپ سے پوچھنا ہوگا کہ جب ایسا ہوتا ہے اور سسٹم انسانی حکمت عملی کو ایک طرف چھوڑ کر ہمیں ایک ایسی صورت حال میں لے جاتا ہے جس کا ہمیں کوئی علم نہیں ہے۔

سیاسی اور اقتصادی رجحانات کے بارے میں آپ کو کیا تشویس لاحق ہے؟ کیا آپ لوگوں کو بتا سکتی ہیں کہ کونسے رحجانا ت سے آپ زیادہ فکر مند ہیں؟
امریکہ میں نظریات کا مفت بہاؤ غیر متوقع طور پر پھیل سکتا ہے۔اسی طرح سے سلیکون ویلی کی بنیاد رکھی گئی۔ اس میں مقابلہ سازی اور جدت دونوں کو پیدا کیا گیا۔ اسی طرح سے ہم دوسری ٹیکنالو جیز میں مصنوعی ذہانت کو لا سکتے ہیں۔

تاہم امریکہ بھی دور اندیشی کی کمی میں مبتلا ہے۔مصنوعی ذہانت کے لئے ایک بڑی حکمت عملی بنانے یا طویل مدتی مستقبل کی بجائے ، وفاقی حکومت نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی تحقیق میں فنڈنگ ختم کردی ہے۔ اس مقصد کے لئے پیسہ نجی شعبے سے آنا ہوگا۔ لیکن سرمایہ کاروں کو بھی اس قسم کی واپسی کی امید ہے۔ یہ ایک مسئلہ ہے۔جب آپ بنیادی ٹیکنالوجی اور تحقیق پر کام کررہے ہیں تو آپ اپنی ریسرچ اور ڈویلپمنٹ میں کامیابیاں کا شیڈول نہیں بناسکتے ہیں۔یہ چیز بہت بڑی ہو گی کہ اگر بڑی ٹیکنالوجی کی کمپنیاں بہت محنت کرتی ہیں اور اس چیز کا لالچ نہیں کرتیں کہ وہ سالانہ کانفرنس میں بڑی اور اپنی جدید چیزوں کی نمائش نہیں کریں گی۔ اس کی بجائے، اب ہمارے پاس خراب فیصلوں کی مثالیں موجود ہیں جو جی-ایم اے ایف اے کی تیزی کی وجہ سے بنی ہیں۔ ہم تحقیق میں کشیدگی کے منفی اثرات دیکھ رہے ہیں جو انسانیت کے بہترین مفاد کے لئے ٹیکنالوجیز اور سرمایہ کاروں کو خوش کرنے کے درمیان ہے۔

یہ کافی برا ہوگا جیسا کہ یہ ہے، ٹھیک ہے؟ لیکن یہ سب عین اسی وقت ہو رہا ہے جب چین میں زبردست طاقتور طاقت ایک جگہ میں مرکوز ہو رہی ہے۔ چین میں مصنوعی ذہانت کے لئے بنیادی تحقیق کا ایک خودمختار فنڈ ہے۔ چین مصنوعی ذہانت میں بہت زیادہ پیسہ پھینک رہا ہے۔ان کا امریکہ کے مقابلے میں رازداری اور ڈیٹا کے بارے میں مختلف نظریہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس زیادہ سے زیادہ ڈیٹا ہے جس کو بہتربنایا جاسکتا ہے۔ ایک مرکزی اتھارٹی کے ساتھ، حکومت کے لئے یہ آسان ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی خدمات کو ٹیسٹ کرے کیونکہ اس کے پاس 1.3بلین لوگوں کا ڈیٹا موجود ہے۔ اور یہ ڈیٹاصرف ان کے اپنے ملک کا ہے۔

اس کے بعد ان کے پاس ون بیلٹ اور روڈ کا منصوبہ ہے جو روایتی بنیادی انفراسٹرکچرکے پروگرام کی طرح لگ رہا ہے لیکن جزوی طور پر ڈیجیٹل بھی ہے۔ یہ صرف سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کے بارے میں نہیں ہے؛ یہ 5 جی نیٹ ورک کی تعمیر اور فائبر بچھانےکے بارے میں بھی ہے اور باہر کے ڈیٹا کی ریفائننگ کےبارے میں ہے۔ ان ٹیکنالوجیز کے استعمال سے ان لوگوں کے لئے خطرہ ہے جو آزادی اظہار اور مغربی جمہوری نظریات جیسی چیزوں کی پرواہ کرتے ہیں۔

مغربی جمہوری نظریات کے لئے ہم کیوں کوشش کر رہے ہیں؟
یہ ایک اچھا سوال ہے۔ میں جاپان اورچین میں رہ چکی ہوں اور واضح طور پر امریکہ میں رہتی ہوں۔ اور آپ ابھی ہمارے ملک کی حالت کو دیکھ سکتے ہیں اور اس کو دیکھ سکتے ہیں جو کچھ چین ہو رہا ہے اور حیرت ہے، کیا یہ واقعی بدترین چیز ہے؟ چین کا سماجی کریڈٹ سکور کا نظام امریکیوں کو اچھالگتا ہے لیکن بہت سے لوگوں کو یہ احساس نہیں ہے کہ گاؤں اور کمیونٹی کے اندر یہ خود کی رپورٹنگ اور نگرانی کا نظام ہے جو کہ ہمیشہ سےچین کی ثقافت کا حصہ ہے۔ سماجی کریڈٹ سکور اس طرح خود کار طریقے سے کام کرتا ہے۔ لہٰذا، یہ ایک بہت اچھا سوال ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ میں کیا کہوں گی اگر مجھے چین کے کمیونزم کے مثالی ورژن اور مغربی جمہوریت کےمثالی ورژن کو دیکھوں گا۔ میں مغربی جمہوریت کا انتخاب کروں گا کیونکہ میں سوچتی ہوں کہ خیالات کی آزادی اور ہر ایک کی کامیابی کے لئے اس میں بہتر مواقع موجود ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کوانفرادی اور ذاتی کامیابیاں دینے سے ایک معاشرہ پھلتا پھولتا ہے اور ایک شخص کی صلاحیتیں صیح استعمال ہوتی ہیں۔

آج دنیا مصنوعی ذہانت کی جس سمت جا رہی ہے، کیا یہ منصفانہ موازنہ ہے؟ کیا ہم مغربی جمہوریت کے ساتھ چینی کمیونزم کے مثالی ورژن کا موازنہ کر سکتے ہیں، یا دونوں کے بدترین ورژن کا؟

یہ ایک بہت اچھا سوال ہے کیونکہ آپ اس بات کی دلیل دےسکتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کانظام پہلے سے ہی ہمارے مغرب جمہوری نظریات کو واقعی منفی انداز میں متاثر کر رہا ہے۔ ظاہر ہے جو فیس بک کے ساتھ کیا ہوا، ہم سب کے سامنے ہے۔ لیکن یہ بھی دیکھیں کہ جو اینٹی ویکسر کمیونٹی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ وہ ویکسین اور بنیادی سائنس کے بارے میں مکمل غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔ ہماری امریکی روایات کا کہنا ہے کہ اظہار کی آزادی کے پلیٹ فارم پلیٹ فارم ہیں، ہمیں لوگوں کو خود کو اظہار کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹھیک ہے، اس کے ساتھ چیلنج یہ ہے کہ الگورتھم ایڈیٹوریل مواد کا انتخاب کررہے ہے جو لوگوں کو بہت برے فیصلے کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ نتیجے کے طور پر بچوں کو بیمار کر رہے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہماری ٹیکنالوجی زیادہ سے زیادہ جدید تر ہو گئی ہے لیکن ہماری آزادی اظہار اور آزاد مارکیٹ کی معیشت کا نظریہ یاایسا لگتا ہے کہ اس میں جدت نہیں آئی۔ ہمیں اس کی بہت بنیادی تشریحات میں الجھے ہوئے ہیں۔آزادی اظہار کا مطلب یہ ہے کہ تمام تقاریر آزاد ہیں جب تک وہ کسی کے خلاف نہ ہوں اور قانون کے احترام میں ہوں۔اس بات سے کہانی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔حالاںکہ یہ کہانی کا اختتام نہیں ہے۔ ہمیں اپنے موجودہ قوانین اور ہماری ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے بارے میں زیادہ بہتر اور ذہین بات چیت کرنے کی ضرورت ہے، اور ہم ان دونوں کو وسط میں کیسےپا سکتے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں، کیاآپ کو یقین ہے کہ ہمارا ارتقا مغربی جمہوریت کے مثالی ورژن میں ہو جائے گا۔ اور آپ اس مثالی چینی کمیونزم کے اوپر ترجیح دیں گی۔

جی ہاں، میرا یقین ہے کہ یہ ممکن ہے۔ میری بہت بڑی تشویش یہ ہے کہ ہر ایک کوئی انتظار کر رہا ہے کہ دوسرے پیر رگڑیں۔حقیقی طور پر تباہی آ جائے گی اگرہم لوگوں نے کاروائی نہ کی۔ اس مقام پر اگرچہ تباہی نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خسرہ واپس واشنگٹن میں آ چکا ہے اور یہ میرے لئے ایک تباہ کن نتیجہ ہے۔ اسی طرح جو کچھ بھی انتخابات کے اختتام پر ہوا ،وہ بھی سامنے ہے۔ سیاسی وجوہات سے ہٹ کر میں تصور نہیں کر سکتی کہ کوئی آج کوئی سوچتا ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول ہمارے مستقبل کے لئے اچھا ہے۔

تو میں بالکل یقین کرتی ہوں کہ ہمارے پاس ایک راستہ ہے جس پر ہم سب کو اکٹھے ملکر چلنے کی ضرورت ہے۔ اور سلیکون ویلی اور واشنگٹن ڈی سی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہےتاکہ کشتی کو ٹھیک سمت میں ڈالا جا سکے۔

آپ کے خیال میں حکومت، کمپنیوں، یونیورسٹیوں اور انفرادی صارفین کو کیا کرنا چاہیے ؟

مصنوعی ذہانت کے ٹریک کی تیاری ا یک اہم مسئلہ ہے اور ہم میں سے ہر ایک اس کا حصہ ہے۔ میں، آپ، میرے والد، میرے قریبی پڑوسی اور سٹاربکس پر کام کرنے والے لڑکے ،سب اس کا حصہ ہیں۔

تو لوگوں کو روزانہ کیا کرنا چاہیے؟ اس چیز کے بارے میں لوگوں کو زیادہ آگاہی دینے کی ضرورت ہے کہ کون زیادہ ڈیٹا استعمال کر رہا ہے اور کیسے استعمال کر رہا ہے۔ ذہین لوگوں کی طرف سے تحریر کئے گئےکام کو پڑھنے کے لئےچند منٹ نکالیں اور یہ معلوم کرنے کے لئے چند منٹ خرچ کریں کہ ہم اس بارے میں کیا بات کر رہے ہیں۔ آپ اپنے سائن ان اور اپنے بچوں کی تصاویر شئیر کرنے سے پہلے اس کام کو باخبر طریقے سے کریں۔ اگر آپ کو پتا چلتا ہے کہ اس کا کیا مطلب ہے تو ٹھیک ہے اور اس کا بعد میں کیا مطلب ہو گا تو بھی ٹھیک ہے لیکن کم از کم آپ کو پتا ہونا چاہیے۔

کاروباری حضرات اور سرمایہ کار ایسا نہیں کر سکتے کہ اپنی مصنوعات کو بار بار ادھر ادھر لے کر جائیں۔ان کے لئے سڑک تک پر پیش آنے والے مسائل سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا وہ ملازمتوں کو بڑھانے کےلئے کام کرسکتے ہیں اور اپنے سٹاف کو حقیقی بنانے کے لئے کام کر سکتے ہیں۔ وہ کچھ بریک بھی رکھ سکتے ہیں۔مصنوعی ذہانت کی کمپنی یا پراجیکٹ میں جو بھی سرمایہ کاری کی جاتی ہے، اس میں بھی خطرات اور تعصب جیسے چیزوں کی جانچ پڑتال کے لئے فنانس اور وقت شامل ہونا چاہیے۔

یونیورسٹیوں کو ہائبرڈ ڈگری کے پروگراموں میں جگہ بنانا ضروری ہے۔ انہیں اپنے سی ایس طلباء کو موازنہ ادب، عالمی مذاہب، مائئکرو اقتصادیات، ثقافتی نظریات اور دوسرے محکموں میں اسی طرح کے نصاب کا مطالعہ کرنے میں حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ انہیں کمپیوٹر سائنس اور بین الاقوامی تعلقات، تھیالوجی، پولیٹیکل سائنس، فلسفہ، پبلک ہیلتھ، تعلیم اور اس طرح کے پروگروموں میں دوہری ڈگری دینی چاہیے۔ اخلاقیات کو ایک موقف کے طور پر اکیلے طبقے کو نہیں سکھایا جانا چاہئے۔ سکولوں کے پروفیسروں کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے کہ وہ اپنے کورسوں میں تعصب، خطرے، فلسفہ، مذہب، صنف اور اخلاقیات کی پیچیدہ باتوں کو شامل بحث کریں۔

میری سب سے بڑی سفارشات میں سے ایک جی اے آئی اے( GAIA ) کا قیام ہے جسے میں گلوبل الائنس آن انٹیلی جنس آ گمنٹیشن Global Alliance on Augmentationکہتی ہوں۔اس وقت دنیا بھر میں لوگ ڈیٹاکو جمع کرنے اور شئیر کرنے سے متعلق بہت مختلف رویے اور نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ کس طرح ڈیٹا کو خود کار طریقے سے جمع کیا جاسکتا ہے اور کرنا چا ہیے، اور مستقبل میں زیادہ سے زیادہ ذہین نظام کس طرح نظر آئیں گے۔ لہٰذا میرے خیال میں ہمیں کسی قسم کی مرکزی تنظیم بنانی چاہئے جو عالمی نظام اور سٹینڈرڈکو فروغ دینے میں مدد کرے۔ میرا مطلب ہے کہ ایک ایسا نظام ہو جس کے اندر نہ صرف امریکی یا چینی نظریات ہوں بلکہ عالمی نظریات ہوں اور جو سب کی زیادہ سے زیادہ نمائندگی کرے۔

سب سے زیادہ، ہمیں اس طویل عرصے کے بارے میں سوچنے کے لئے تیار رہنا ہے نہ کہ اب سے صرف اگلے پانچ برس کے لئے۔ ہمیں یہ کہنا روکنے کی ضرورت ہے، “ٹھیک ہے، ہم مستقبل کی پیشن گوئی نہیں کر سکتے ہیں، لہٰذا ہم اس کے بارے میں فکر نہ کریں۔” یہ سچ ہے، ہم مستقبل کی پیشن گوئی نہیں کر سکتے ہیں لیکن ہم یقینی طور پر اس کی بہتر منصوبہ بندی پر کام کر سکتے ہیں۔

تحریر:کیرن ہاؤ(Karen Hao)

Read in English

Authors

*

Top