Global Editions

آگمینٹڈ ریئلٹی کے تحفظ اور پرائیویسی کے بارے میں کون سوچ رہا ہے؟

اے آر میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی اور ایپلیکیشنز بہت تیزی سے ترقی کررہی ہیں، لیکن صارفین کے تحفظ پر زیادہ توجہ نہيں دی جارہی ہے۔

آگمینٹڈ ریئلٹی کی ٹیکنالوجیز کے ذریعے صارفین کے حقیقی دنیا کے متعلق تاثرات کے اوپر ڈیجٹل طریقے سے تخلیق کردہ آڈیو، ویژول، یا لمسیاتی فیڈبیک کی تہہ شامل کی جاتی ہے۔ 1960ء کی دہائی میں یہ ٹیکنالوجی محض ایک خواب تھی، لیکن اب یوں لگ رہا ہے کہ اے آر جلد ہی تجارتی طور پر قابل عمل ہوجائے گی۔ 2016ء میں اے آر استعمال کرنے والا سمارٹ فون کا گیم، پوکیمون گو، بہت مقبول ثابت ہوا تھا، اور اب اے آر مائیکروسافٹ کے ہولولینس اور میٹا کے میٹا ٹو ہیڈسیٹ جیسے پیچیدہ آلات کے علاوہ آٹوموٹو ونڈشیلڈز میں بھی نظر آرہی ہے۔ یہ پیش رفت بہت تیزی سے ہورہی ہے، اور ان ایپلیکیشنز کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ اے آر تعلیم و تربیت سے لے کر گیمز اور روزمرہ زندگی جیسے متنوع شعبہ جات میں نئے تجربات فراہم کرے گا۔

اے آر کے پیچھے جو ٹیکنالوجی اور ایپلیکیشنز ہیں ان میں بہت تیزی سے ترقی ہورہی ہے، لیکن صارفین کے تحفظ یا پرائیوسی کو کس طرح برقرار رکھنا چاہیے؟ اس مسئلے پر زیادہ غور نہيں کیا جاتا ہے۔ 2011ء سے، یعنی گوگل گلاس کے متعارف ہونے سے پہلے، جس زمانے میں اے آر کی ٹیکنالوجیز محض سائنس فکشن کی کہانیوں میں نظر آتی تھیں، میں اپنے رفقاء کار کے ساتھ اس کمی کو سمجھنے اور پورا کرنے کی کوشش کررہی تھی۔

مثال کے طور پر، ایک ایسے اے آر ہیڈسیٹ کا تصور کریں جو آپ کی زندگی آسان بناتا ہو۔ وہ آپ کے رفقاء کار کو پہچانتا ہے اور آپ کو ان کے ساتھ میٹنگز کے متعلق یاد دلاتا ہے۔ وہ آپ کو راستہ بتاتا ہے۔ جب آپ سفر کررہے ہوں تو وہ آپ کو الفاظ کا ترجمہ بھی کرکے دیتا ہے۔ حتٰی کہ آپ اس ہیڈسیٹ کی مدد سے اپنے بچوں کے ساتھ پوکیمون بھی کھیل سکتے ہیں۔ اب تصور کریں کہ اس ہیڈسیٹ میں ایک وائرس پیدا ہوجائے جس کی وجہ سے آپ کو سڑک پار کرتے وقت گاڑیاں نظر نہ آئيں، ایسی چیزیں نظر آنا شروع ہوجائيں جن کا کوئی وجود ہی نہ ہو، یا آپ کو ہر جگہ اشتہار نظر آنا شروع ہوجائيں۔ آپ کو اس بات سے بھی پریشانی ہوسکتی ہے کہ اس آلے اور اس کی ایپلیکیشنز کو آپ کے اطراف کی مستقل آڈیو اور ویڈيو فیڈ مل رہی ہے، اور دوسرے لوگوں کے آلات آپ کو ریکارڈ کررہے ہیں۔

میں جس سوال کا جواب دینا چاہتی ہوں، وہ یہ ہے کہ اے آر کے سسٹمز کو کس طرح تخلیق کیا جائے تاکہ پہلی صورتحال تو ممکن ہو، لیکن دوسری صورتحال پیدا نہ ہو؟

میرے خیال سے اے آر اس وجہ سے دوسری ٹیکنالوجیز سے مختلف ہے کیونکہ وہ آپ کے اطراف موجود دنیا کے متعلق تصورات اور انٹریکشن کی تبدیلی کو ممکن بناتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے دوسروں کو بہت فائدہ تو پہنچایا جاسکتا ہے، لیکن ساتھ ہی فونز یا لیپ ٹاپس جیسی روایتی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں، جن سے ہماری حقیقت کا نظریہ متاثر نہیں ہوتا، اس سے سیکورٹی اور تحفظ کے مسائل اور بھی زيادہ خطرناک بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اے آر ٹیکنالوجیز کے عام ہونے اور ان کے ڈیزائنز کے پختہ ہونے سے پہلے یہ مسائل حل کرلیں۔

تحریر: فرانزسکا روئیسنر(Franziska Roesner)

Read in English

Authors
Top