Global Editions

کورونا وائرس: عالمی ایمرجنسی کے اعلان کے باوجود بین القوامی سفر پر پابندی عائد نہیں کی جارہی

چین سے شروع ہونے والے اس وائرس کو جینیوا میں صدر دفتر رکھنے والے عالمی ادارہ صحت نے ”بین الاقوامی صحت کی ایمرجنسی“ قرار دے دیا ہے۔

متاثرہ افراد کی تعداد: جان ہاپکنز یونیورسٹی کی فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کے باعث اب تک 22 ممالک میں 8،000 سے زائد کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے اور 171 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ان میں سے زيادہ تر افراد چین میں رہائش پذیر ہیں، جہاں سے یہ وائرس نومبر میں ووہان نامی شہر میں پھیلنا شروع ہوا تھا۔

نئے مسائل: امریکہ سے اس وائرس کے ایک شخص سے دوسرے شخص تک پھیلنے کے متعلق پہلی اطلاع موصول ہوچکی ہے۔ ماضی میں ویت نام، جرمنی اور جاپان سے بھی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

انتباہ: کئی گھنٹوں لمبے بحث و مباحثے کے بعد صحت کے ماہرین پر مشتمل انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشنز ایمرجنسی کمیٹی (International Health Regulations Emergency Committee) نے ہنگامی صورتحال کا اعلان کرڈالا۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ابراہم غیبریسس (Tedros Adhanom Ghebreyesus) کہتے ہیں کہ ”اس فیصلے کی وجہ چین نہيں بلکہ دوسرے ممالک ہیں۔“ ان کے مطابق انہیں ان ممالک کی زيادہ فکر ہیں جہاں اس وائرس کے علاج کے لیے سہولیات موجود نہيں ہیں۔

اس فیصلے کا مطلب ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے بالآخر کورونا وائرس کو دوسرے ممالک کے لیے خطرہ تسلیم کرلیا ہے۔ اس اعلان کے نتیجے میں بین الاقوامی صحت کے ضوابط کے مطابق عالمی ادارہ صحت کو چین کو مزید معاونت فراہم کرنے، بین الاقوامی معاونت ہم آہنگ کرنے اور حاصل کرنے، اور تجارت اور سفر کے متعلق عارضی تجاویز پیش کرنے کا اختیار حاصل ہوچکا ہے۔

بین الاقوامی سفر پر پابندی عائد نہيں ہوئی: ٹیڈروس کے مطابق اس وقت عالمی ادارہ صحت چین کے ساتھ تجارت یا چین میں سفر کو محدود کرنے کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق وہ سرحدوں پر عائد کردہ پابندیوں، بیماری کی علامات ظاہر کرنے والے مسافرین کی علیحدگی، اور اس جیسے دیگر اقدام کی تفتیش کريں گے۔ ہانگ کانگ سمیت کئی ممالک چین میں داخلے کو محدود کرنے کے لیے اس قسم کے اقدام کرچکے ہيں۔ اس کے علاوہ، برٹش ایئرویز اور امریکی ایئرلائنز نے بھی چین جانے والی پروازوں کو روکنے یا محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ٹیڈروس دوسرے ممالک کو ٹوئٹر سمیت سوشل میڈیا پر اس وائرس کے متعلق غلط معلومات کا مقابلہ کرنے کی درخواست کرتے ہيں کہتے ہيں کہ ”یہ افواہیں پھیلانے کا نہيں بلکہ حقائق اور سائنس سے کام لینا کا وقت ہے۔ ہمیں متاثرہ افراد کو تنہا چھوڑنے کے بجائے ان کا ساتھ دینا چاہیے۔“

ہمیں اس مرض کے متعلق کیا معلوم ہے؟ یہ وائرس انسانوں سے دوسروں کے ساتھ روابط سے پھیلتا ہے۔ اس کی علامات میں کھانسی، بخار اور نمونیا شامل ہيں، جو متاثر ہونے کے پانچ دن بعد شروع ہوتی ہیں۔ 25 فیصد متاثرہ افراد کی طبیعت بگڑتی ہے اور 2 فیصد افراد کی موت واقع ہوجاتی ہے، جن کی اکثریت ضعیف العمر افراد پر مشتمل ہے۔

ردعمل میں تاخیر: عالمی ادارہ صحت کو اس وائرس کو ایمرجنسی قرار دینے کے لیے چین سے مشاورت درکار تھی، جس کی وجہ سے وہ اس سے پہلے اسے ایمرجنسی قرار دینے سے قاصر رہے اور انہيں کافی تنقید کا نشانہ بنایا گيا۔ ان کے اعلان سے ایک ہفتہ قبل انہوں نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ چین کے علاوہ دوسرے ممالک میں متاثرہ افراد کی تعداد بہت کم تھی، اور اب تک ایک شخص سے دوسرے شخص تک یہ وائرس پھیلنے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی تھی۔

اب تک 99 فیصد کیسز چین ہی میں ہیں۔ لیکن متاثرہ افراد کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اس وائرس کے دوسرے ممالک تک پھیلنے کی رپورٹس سامنے آرہی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے افسران کے مطابق انہوں نے اسی معلومات کی بنیاد پر اس وائرس کے متعلق اپنی رائے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

چین کے اقدام کس حد تک مثبت ہيں؟ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے چین نے کئی شہروں میں رہنے والے افراد کو علیحدہ کردیا ہے۔ ووہان میں ریل گاڑیوں، بس اور ہوائی جہاز کے سفر پر بھی پابندی عائد ہوچکی ہے۔

ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹیڈروس نے چین اور صدر شی جنپنگ (Xi Jinping) کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے کہا کہ ”چین وبا کے خلاف ردعمل کے نئے معیارات قائم کررہا ہے۔ یہ حکومت کی انتھک کوششوں ہی کا نتیجہ ہے کہ چین سے باہر متاثرہ افراد اور اموات کی تعداد محدود رہی ہے۔“

تحریر: اینٹونیو ریگالوڈو (Antonio  Regalodo)

تصویر: گیٹی امیجز (Getty Images)

Read in English

Authors

*

Top