Global Editions

روس میں زرعی اور جینیاتی تحقیق کی مخالفت کے اثرات

روسی زرعی ماہر اور مفکرٹروفیم لائسینکو (Trofim Lysnko) نے چارلس ڈارون (1882-1809ء) کے نظریئے سے متاثر ہو کر کے روس کو زراعت اور جینیاتی تحقیق میں جدید دنیا سے کہیں پیچھے دھکیل دیا۔ آج روسی ماہرین اس کے کئے پر شرمندہ ہیں۔ٹروفیم لائسینکو نے روسی ماہرین زراعت اور سائنسدانوں کو اپنے نظریئے کی حمایت پر بزور ِطاقت مجبور کیا ، جنہوں نے اس کی مخالفت کی انہیں جیلوں میں ڈلوادیاگیااور جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور کردیاگیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ ٹروفیم لائسینکو کے نظریات کیا تھے اور ان سے روسی معاشرت اور اجتماعیت کے نظریئے پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟ اس سوال پر ایم آئی ٹی کی مورخ روشنی ڈالتی ہیں۔

روسی آرتھوڈوکس چرچ نے 2012ء میں دسویں اور گیارہویں گریڈ کیلئے بیالوجی کی نصابی کتاب شائع کی جسے‘‘ جنرل بیالوجی’’کہا جاتا ہے، لیکن یہ ایک تخلیقی ٹیکسٹ بُک تھی۔ جس میں روس کے سرکاری سکولوں میں پڑھائے جانے والے الحاد(بے دین)نصاب کا توڑ کرنے کیلئے دنیا میں خدا کے کردار کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے مطابق دنیا اور بالخصوص روسی لوگوں کیلئے ڈارون کا نظریہ تباہ کن رہا ہے۔ اس لفظ نے دنیا کو فلسفیانہ اور صارف کے نقطہ نظر سے مادیت پرستی کی طرف دھکیل دیا۔ یہ روسی تعلیمات کے خلاف ہے اور موروثی طور پر انیسویں صدی کے برطانوی سرمایہ دارانہ نظام ‘‘کتا کتے کو کھاتا ہے’’ کے طرز زندگی کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ کتاب میں قدرتی انتخاب کے نظریئے کو تسلیم نہیں کیا گیا تھا ۔ اس میں یہ خیال پیش کیا گیا کہ کسی کی زندگی میں پرورش اور فروغ پانے والی خصوصیات کو مستقبل کی نسلوںمیں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس میں حالیہ جینیات سے متعلق تولیدی نظریہ، ماحول کا جینز پر اثر اور افعال کا ذکر کیا گیا جو بعض اوقات وراثتی ہوتے ہیں۔

لورین گراہم(Loren Graham)ایم آئی ٹی میں مورخ کی حیثیت سے کام کرتی ہیں وہ کئی دہائیوں سے روسی سائنس کا مطالعہ کررہی ہیں۔ وہ اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ جنرل حیاتیات کی کتاب دراصل ٹروفیم لائسینکو (Trofim Lysnko) کے نظریات کو دوبارہ زندہ کرتی ہے جس نے روائتی جینیات کے نظریے کو مسترد کردیا تھا اور زراعت کو ترقی دینےکیلئے وقت کے ساتھ ساتھ پرورش اور فروغ پانے والی خصوصیات کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ ٹروفیم لائسینکو کئی دہائیوں تک روس میں زرعی اور جینیاتی تحقیق کی راہ میں مزاحم رہا۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئی بھی اس کے نظریئے کو دوبارہ زندہ کیوں کرنےکی کوشش کررہا ہے یقیناً اس کی وجہ سیاست ہے۔ گراہم کہتی ہیں کہ اپنی نئی کتاب میںٹروفیم لائسینکو کے بھوت نے روس میں نظریہ انفرادیت اور اجتماعیت کی برتری کی یاددہانی کرائی ہے۔

لورین کی بات نے مجھے چونکا دیا کیونکہ کنساس میں پروٹسٹنٹ چرچ کے تحت چلنے والے میرے ہائی سکول میں نویں جماعت کی کتاب بھی جنرل حیاتیات سے ملتی جلتی تھی۔ اس میں بھی موروثی خصوصیات کا ذکر کیا گیا تھا لیکن ڈارون کے متبادل کے طورپر نہیں۔ ہمیں پڑھایا گیا کہ یہ نظریہ موروثی طور پر ناعاقبت اندیشی پر مبنی اور ارتقاء کے نظریئے کیخلاف ایک ثبوت ہے۔ جو فرانسیسی ماہر حیاتیات جین بیپٹسٹ لیمارک کے نظریئے سے ملتا جلتا تھا۔ دیکھا جائے تویقیناًیہ مضحکہ خیز باتیں ہیں جن پر ارتقا پسند یقین رکھتے ہیں۔ کیونکہ ارتقا میں یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک لمبی گردن سے خوراک حاصل کرنے والا زرافہ چھوٹی گردن والے بچے پیدا کرنا شروع کردے یا ایک دم والا کتا بغیر دم کے بچے پیدا کرنا شروع کردے۔

یقیناً یہ عقیدہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ عقیدہ کتنا خطرناک ہے ؟ اس کے خطرناک ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ ڈارون کانظریہ لوگوں کو خدا کی ہستی کو مستردکرکے انفرادی ذمہ داریوں کو ترک کرنے کی طرف لے گیا ۔ اس کے نظریئے نے روس میں اجتماعی ذمہ داری، اجتماعیت پسندی یا کمیونزم کو تقویت دی ۔ لائیسنکو مرگیا لیکن اس کا بھوت ابھی بھی زندہ ہے۔ لائیسنکو کا بھوت سیاست، مذہب، ثقافتی معیار اور نظریات تمام قسم کی سائنس کو بگاڑنے کے طریقے پیش کررہا ہے۔ یہ نظریات ہماری حقائق کی تشریح میں تبدیلی اور قدرتی واقعات کی سمجھ بوجھ کو نئی شکل دے سکتے ہیں۔ گراہم اس پرروشنی ڈالتے ہوئے کہتی ہیں کہ جدید جینیاتی تولیدی تحقیق جین کی صلاحیتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور نسلوں تک لوگوں کی صحت کو متاثر کرسکتی ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بہرحال زراعت کے بارے میں لائیسنکو کانظریہ درست تھا۔ اس کے باوجود لائیسنکو کے نظریے کی حمایت نہیں کی جاسکتی اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ جدید جینیاتی تولیدی نظریئے میں ڈی این اے کیا کام کرتا ہے۔ یہ جینیاتی وراثت کے بنیادی اصولوں کو رد نہیں کرتا۔ تاہم اب ہمیںلائیسنکو کے نظریئے کے ساتھ کیا کرنا چاہئے۔ گراہم اس کی دلیل دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ وراثتی خصوصیات کا مطلب محض وہی نہیں جو لائسینکو نے بیان کی ہے۔ ماضی کے سوویت یونین میں سیاست اور اخلاقیات تنزلی کا شکار تھی۔ یہ بالکل ویسی ہی صورتحال تھی جیسے 1800ء کے لیمارک کے فرانس میں تھی ۔ اسی طرح لائیسنکو کا نام امریکیوں، روسیوں اور یورپی لوگوں کیلئے مختلف معنی رکھتا ہے۔ جدید ماہرین حیاتیات کیلئے قدرتی انتخاب بھی وہ معنی نہیں رکھتا جو 1930ء میں اصلاحی تحریک کے حامیوں کیلئے تھا۔

ٹروفیم لائسینکو ایک دلچسپ کردارتھے۔ وہ 1898ء میں ایک کسان کےگھر میں پیدا ہوئے۔ انہیں جوزف سٹالن کے دور میں 1940ء میں مقتدر حلقوں میں بہت اثر ورسوخ ملا جب سائنس کی غلط تشریحات کی جاتی تھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ قحط زدہ علاقوں میں اجتماعی فارموں سے گندم کی اضافی پیداوار حاصل کرسکتےہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موسم سرما میں کم درجہ حرارت پر گندم کے بیج خاصی دیر تک محفوظ کرنے سے موسم بہار میں گندم کی اضافی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ گراہم کہتی ہیں کہ جب دیگر سائنسدانوں نے ان کے کام پر اعتراض کیا تو لائیسنکو نے ان پر‘‘مہلک اور جارحانہ’’ طریقوں سے نشانہ بنایا۔ انہیں خفیہ پولیس کے ذریعے حراست میں لیا گیااور دیگر کو بتایا کہ سٹالن کا انصاف کام کررہا ہے۔ 1960ء میں خروشچیف نے لائسنکو کو سائنس دشمن اور فراڈ قرار دے کر جلاوطن کردیا۔ آج روسی سائنسدانوں اور تحقیق کاروں کیلئے لائیسنکو کے نظریات شرمندگی کا باعث ہیں جس نے روسی قوم پرستی اور مخصوص آمرانہ ماحول میں جینیاتی تولیدگی پر جدید تحقیق نہیں ہونے دی۔
آخر لائیسنکو نے جین کے ذریعے وراثت کی منتقلی کے خیال کی مخالفت کیوں کی اور کس طرح اس کے نظریات سوویت آئیڈیالوجی میں ضم ہو گئے؟ گراہم اس سوال کا ایک جزوی جواب دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ لائیسنکو سے پہلے 1920میںایک جرمن ماہر حیاتیات پال کیمرر (Paul Kammerer) اور روس ہی کے ایک ماہر حیاتیات اور مارکسسٹ اصلاحی تحریک کے حامی نے وراثتی خصوصیات کا یہی نظریہ پیش کیا تھا۔ اس وقت مغرب میںاصلاحی تحریک کے تمام حامی ان کے خیال میں‘‘صحیح ’’ لوگ متمول اور سفید فاموںپر مشتمل ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے رہے تھے جبکہ غلط لوگو ں کا معاشرہ غریب، معذور، سیاہ فام اور گندمی لوگوں پر مشتمل تھا۔ اس کے مقابلے میں پال کیمرر نے اصلاح پسندی پر مشتمل بہتر معاشرے کا نظریہ پیش کیا۔

مارکسزم میں ایک بہتر زندگی فراہم کرکے بہتر معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے جس میں لوگوں کی طرز رہائش میں اور ان کے بچوں کی زندگی میں بہتری پیدا ہو۔ وقت گزرنے کے ساتھ آپ کو ایک نیا انسان اور ‘‘سوویت آدمی’’ دیکھیں گے جو روشن خیال ، ہوشیار اورسرمایہ داروں کی تیار کردہ نسلوں سے زیادہ صحت مندہوگا۔ گراہم کہتی ہیں کہ مسئلہ صرف بائیولوجی کے ساتھ کھیلنے کا نہیں ہے۔ لائیسنکو کے نظریات سے لوگ بھٹک گئے ہیں۔ لائسنکو اس بات پر یقین نہیں رکھتا تھا کہ انسانوں میں پرورش اور فروغ پانے والی خصوصیات منتقل ہو سکتی ہیں۔ حتیٰ کہ وہ زراعت پر بھی اپنے نظریات کے اطلاق کے بارے میں واضح نہیں تھا۔

تحریر: میگی کورتھ بیکر (Maggie Koerth-Baker)

Read in English

Authors
Top