Global Editions

واٹس ایپ دنیا کی سب سے بڑی ہیکنگ کمپنی پر مقدمہ دائر کررہا ہے

ایک طاقت ور ٹیکنالوجی کی کمپنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے سائبر نگرانی کی ایک کمپنی سے ٹکر لے رہی ہے۔

واٹس ایپ کے صدر ول کیتھ کارٹ (Will Cathcart) نے واشنگٹن پوسٹ میں اعلان کیا ہے کہ ان کی کمپنی این ایس او گروپ (NSO Group) نامی اسرائیلی کمپنی کے خلاف امریکی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کررہی ہے۔

این ایس او گروپ پر واٹس ایپ کے صارفین کی نگرانی کرنے کے مقصد کے لیے 1400 فونز اور آلات کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ان پر میل ویئر نصب کرنے کا الزام ہے۔ واٹس ایپ کی شکایت کا متن پڑھنے کے لئے اس لنک کو دیکھیے۔

اس ہیک کے ذریعے این ایس او گروپ اور ان کے صارفین کے لیے مذکورہ آلات کے میسیجرز، ای میلز، اور فون کالز کے علاوہ کیمرے اور مائیکروفون کی جاسوسی ممکن ہوگی۔

کیتھ ہارٹ لکھتے ہيں کہ ”جیسے کہ ہمارے مقدمے میں بتایا گیا ہے، اس حملے میں ایک پریشان کن عنصر بھی شامل تھا۔ اس میں دنیا بھر میں کم از کم 100 انسانی حقوق کے کارکنان، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے دیگر ممبران کو بھی نشانہ بنایا گيا تھا۔ “

این ایس او گروپ کیو سائبر ٹیکنالوجیز (Q Cyber Technologies) نامی کمپنی کے زیرملکیت ہے، اور ان کا شمار موبائل فونز اور آلات کو نشانہ بنانے والے میل ویئر کی نمایاں ترین کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ وہ دنیا بھر میں کئی ممالک کے ساتھ کام کرتی ہے۔

ان کے صارفین کے علاوہ ان کے سافٹ وئیر کے نشانہ بننے والوں کے باعث این ایس او بہت بدنام ہوچکا ہے۔ ان ہی کے میل ویئر کے ذریعے متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر انسانی حقوق کے کارکن کی جاسوسی کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں وہ اب 10 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہيں۔

کیتھ کارٹ لکھتے ہيں کہ ”این ایس او نے اس حملے میں شرکت کی رپورٹیں مسترد کردی ہيں لیکن ہماری تفتیش سے ثابت ہوا ہے کہ ان کا اس میں ہاتھ تھا۔ “

واٹس ایپ کے وکیلوں کے مطابق اس شکایت کی وجوہات میں نشانہ بننے والے آلات کو متاثر کرنے کے مقصد سے جائز نیٹورک کی ٹریفک اور واٹس ایپ کالوں کی نقالی کرنے کے لیے واٹس ایپ کے سرورز تک غیررمجاز رسائی اور ان کا غیرمجاز استعمال شامل ہيں۔ میل ویئر پھیلنے کی وجہ ان کالز میں پوشیدہ نقصان دہ کوڈ تھا۔

یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے سیٹیزن لیب (Citizen Lab) سے وابستہ محققین نے این ایس او گروپ کے میل ویئر سے متاثر ہونے والے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنان، وکلاء، بین الاقوامی تفتیش کار، سیاسی مخالفین، اور سول سوسائيٹی کے دیگر ممبران کی تفتیش کرنے کے بعد ایک جامع رپورٹ پیش کی ہے۔

حال ہی میں نووال پینا کیپیٹل (Novalpina Capital) نے این ایس او گروپ کو خرید لیا ہے جس کے بعد انہوں نے ایک بیان میں اقوام متحدہ کے اصولوں کی پابندی کرنے کا دعوی کیا ہے لیکن سیٹیزن لیب کے مطابق حملوں میں کمی نہيں آئی ہے۔

ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایک بڑی ٹیک کمپنی نے این ایس او گروپ پر مقدمہ دائر کیا ہے، اور اس سے اگلے چند سالوں میں تیزی سے بڑھنے والی ہیکنگ کمپنی میں بھونچال آئے گا۔

این ایس او گروپ کی طرف سے اب تک کوئی تنصرہ نہيں ہوا ہے۔

کیتھ کارٹ نے مزيد کہا کہ ٹیک کی بڑی کمپنیوں کو اقوام متحدہ کے نمائندے ڈیوڈ کے (David Kaye) کی تجویز کے مطابق این ایس او گروپ کے میل ویئر جیسے دیگر ٹولز کی خرید و فروخت، منتقلی اور استعمال پر فوری اور مکمل طور پر پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہے۔

تحریر: پیٹرک ہاول او نیل (Patrick Howell O’Neill)

Read in English

Authors

*

Top