Global Editions

واٹس ایپ کرونا وائرس کے متعلق غلط معلومات کی روک تھام کے لیے میسیج فارورڈنگ کو محدود کررہا ہے

اب لوگ ”سب سے زیادہ فارورڈ ہونے والے میسیجز“ کو پانچ کے بجائے صرف ایک ہی شخص کو فارورڈ کرسکیں گے۔

واٹس ایپ کو کرونا وائرس کی وبا کے متعلق غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور کمپنی نے ان خدشات کے جواب میں میسیج فارورڈنگ پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کی ایک بلاگ پوسٹ کے مطابق، اب سے ”سب سے زيادہ فارورڈ“ کے طور پر نشان زد پیغامات کو پانچ کے بجائے صرف ایک شخص کو فارورڈ کیا جاسکے گا۔ اس حکمت عملی کا مقصد وائرل ہونے والی غلط معلومات کو محدود کرنا ہے، تاکہ سچ کو بھی عام ہونے کا موقع مل سکے۔ واٹس ایپ کے میسیجز کو بذریعہ اینکرپشن محفوظ کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کے مشمولات پڑھنا کسی بھی صورت ممکن نہيں ہوتا۔ اس سے ہیکرز کے خلاف تو تحفظ مل جاتا ہے لیکن دوسری طرف غلط اور درست معلومات کے درمیان امتیاز کرنے کا کوئی طریقہ دستیاب نہيں ہوتا۔

یہ قدم اس وقت کیوں اٹھایا جارہا ہے؟ واٹس ایپ کو کئی سالوں سے غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے لیکن کرونا وائرس کے بحران کی وجہ سے ان خدشات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ واٹس ایپ کے مطابق ”پچھلے کچھ عرصے کے دوران میسیج فارورڈنگ میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے جو غلط معلومات پھیلانے میں معاون ثابت ہورہی ہے۔ صارفین نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ اتنی زیادہ معلومات سے پریشان ہورہے ہيں۔“ ان افواہوں میں کرونا وائرس کے لیے ”جعلی علاج“ (اس وقت کرونا وائرس کا کوئی علاج دریافت نہيں ہوا ہے) اور سازشی تھیوریز پر مشتمل میسیجز شامل ہیں۔

پس منظر: واٹس ایپ نے میسیج فارورڈنگ پر پہلی پابندی جولائی 2018ء ميں اس وقت لگائی تھی جب واٹس ایپ گروپس میں شیئر کیے جانے والے چند میسیجرز کے نتیجے میں بھارت میں فسادات شروع ہوگئے تھے۔ اس سے پہلے کسی بھی میسیج کو 256 افراد کو فارورڈ کیا جاسکتا تھا اور ان میسیجز کو کسی بھی طرح سے ”فارورڈ“ کے طور پر نشان زد نہيں کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد واٹس ایپ نے بہت زیادہ فارورڈ ہونے والے میسیجز کو ظاہر کرنے کے لیے دو تیروں پر مشتمل نشان استعمال کرنا شروع کیا۔ پچھلے سال کمپنی نے میسیج فارورڈ کرنے کی سہولت کو پانچ افراد تک محدود کردیا۔ اس قسم کی پابندیوں سے میسیج فارورڈنگ مکمل طور پر بند تو نہيں ہوئی، لیکن اس میں کمی ضرور آئی ہے ۔ واٹس ایپ کے مطابق دنیا بھر میں فارورڈڈ میسیجز کی تعداد میں 25 فیصد کمی ہوئی ہے۔

واٹس ایپ کے کچھ فوائد بھی ہیں: کرونا وائرس کی اس وبا کے دوران واٹس ایپ کو مثبت مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ لوگ اپنے دوست احباب اور خاندان والوں سے نہيں مل سکتے، لیکن واٹس ایپ کے ذریعے ان سے رابطہ ضرور برقرار رکھ سکتے ہيں۔ اس کے علاوہ، امریکہ میں سی ڈی سی، عالمی ادارہ صحت، اور برطانیہ میں این ایچ ایس جیسے ادارے کرونا وائرس کے متعلق لوگوں کے سوالات کے جوابات دینے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کررہے ہيں۔

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

Read in English

Authors

*

Top