Global Editions

انیشل کوائن آفرنگ سے کیا مراد ہے؟

آئی سی اوز محض ایک بلبلہ لگ رہے ہیں، لیکن یہ آگے چل کر کرپٹوکرنسیوں کی دنیا کو بدل کر رکھ سکتے ہیں۔

آج کل انیشل کوائن آفرنگز (initial coin offerings) کا بہت چرچا ہے۔ اس سال درجنوں کمپنیاں اس انوکھے طریقے سے مجموعی طور پر ڈیڑھ ارب ڈالر جمع کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ فلوئيڈ مے ویتھر (Floyd Mayweather) اور پیرس ہلٹن (Paris Hilton) جیسی مشہور شخصیات بھی اس پر کافی بڑھ چڑھ کر بات کررہے ہیں۔ لیکن آئی سی او (ICO) آخر ہے کیا؟

ہوسکتا ہے کہ آپ کو اس کا نام کچھ جانا پہچانا لگے، اور ایسا جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ آئی سی او انیشل پبلک آفرنگ سے کافی ملتا جلتا ہے، لیکن اس میں کمپنیاں حصص کے بجائے ڈیجٹل اثاثے فراہم کرتی ہیں، جنھیں "ٹوکنز" کہا جاتا ہے۔

ٹوکن کی فروخت کراؤڈ فنڈنگ کی طرح ہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں ٹرانزیکشنز کی تصدیق کے لیے بٹ کوائن کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹوکنز صرف حصص کا نعم البدل نہیں ہیں۔ انھیں اس طرح سیٹ اپ کیا جاسکتا ہے کہ ان کے بدلے میں کلاؤڈ سٹوریج سپیس یا دوسری سہولیات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اس تحریر میں ہم آئی سی او لانچ کرنے اور کاروبار پر اس کے اثرات کے بارے میں بات کريں گے۔

سب سے پہلے مقبول ترین ٹوکن سسٹم بٹ کوائن کی بات کرتے ہیں۔ بٹ کوائن اور اس جیسی دوسری ڈیجٹل کرنسیاں ٹوکنز استعمال کرنے والے تمام ٹرانزیکشنز ریکارڈ کرنے کے لیے کرپٹوگرافک لیجرز استعمال کرتے ہیں جنھیں بلاک چین کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں انٹرنیٹ سے متصل کمپیوٹرز اوپن سورس سافٹ ویئر کے ذریعے ہر ٹرانزیکشن کی تصدیق کرتے ہیں۔ چند کمپیوٹرز، جنھیں مائنرز کہا جاتا ہے، پیچیدہ معمے حل کرکے چین میں تصدیق شدہ ٹرانزیکشنز کے "بلاکس" شامل کرتے ہیں۔ انھیں معاوضے کے طور پر ٹوکنز، یعنی بٹ کوائنز، دیے جاتے ہیں۔

بلاک چینز کو مائنرز کی ضرورت ہے، اور مائنز کو ٹوکنز کی۔ کچھ ٹوکنز، جیسے کہ لائٹ کوائن (Litecoin) اور زی کیش (ZCash) بٹ کوائن کے بلاک چینز کے نئے ورژنز کی بنیاد پر کھڑے کیے گئے ہیں۔ اس کے برعکس آئی سی او لانچ کرنے والی کمپنیوں میں ایتھیریم (Ethereum) نامی بلاک چین ٹیکنالوجی کافی مقبول ثابت ہورہی ہے۔ ایتھیریم کے بلاک چین کو بنیاد بنا کر نئے ٹوکنز بھی کھڑے کیے جاسکتے ہیں۔

بلاک چین ٹیکنالوجی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ٹوکنز کا فائدہ محض نئی کرنسیاں ایجاد کرنے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ بٹ کوائن کی وجہ سے کریڈٹ کارڈ یا بینک اکاؤنٹ کی ضرورت نہیں رہتی ہے، اور اس اصول کا اطلاق دوسری چیزوں پر بھی کیا جاسکتا ہے۔

کلاؤد سٹوریج کی مثال لے لیں۔ کئی کمپنیاں سٹوریج سپیس کی پیئر ٹو پیئر خریدوفروخت کے لیے بلاک چینز بنانے میں لگی ہوئی ہیں، جس سے ڈراپ باکس اور ایمزان جیسی کمپنیوں کو کافی مقابلہ درپیش ہے۔ اس صورت میں سٹوریج کی خریدوفروخت کے لیے ٹوکنز کا استعمال کیا جائے گا۔ ٹرانزیکشنز کی تصدیق بلاک چین کے ذریعے کی جاتی ہے، لیکن اس کا انحصار پراجیکٹ کی نوعیت پر ہے۔ مثال کے طور پر، آئی سی او کے ذریعے 25 کروڑ ڈالر سے زیادہ جمع کرنے والی کمپنی فائل کوائن (Filecoin) مائنرز کو سٹوریج فراہم کرنے یا صارفین کا ذخیرہ کردہ ڈیٹا بازیاب کرنے پر ٹوکنز فراہم کرتی ہے۔

مئی 2016ء میں Decentralized Autonomous Organization، (DAO)، کا آئی سی او ہوا تھا۔ یہ کمپنی ایتھیریم استعمال کرنے والی ایک ڈی سنٹرلائزڈ وینچر فنڈ تھی۔ سرمایہ کاروں کو DAO کے ٹوکنز کے ذریعے رقم کی تقسیم کے متعلق ووٹنگ کرنے کا طریقہ فراہم کیا گیا تھا اور تمام سٹیک ہولڈرز میں منافع تقسیم کیا جاتا تھا۔ البتہ ایک ہیکر نے ایتھیریم کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر کروڑوں ڈالر کی ڈیجیٹل کرنسی اپنے نام کرلی۔

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ آئی سی او کمپنی کھڑی کرنے کا نیا طریقہ ہے۔ اگر فائل کوائن جیسی کلاؤڈ سٹوریج کی کمپنی کی مقبولیت میں اضافہ ہوجائے تو اس سے کمپنی کے ملازمین اور انتظامیہ کے بجائے ٹوکن کے مالکان اور مائنرز کو فائدہ ہوگا۔ بلاک چین ٹیکنالوجی کے حوالے سے پالیسی کے مسائل پر کام کرنے والے غیرتجارتی ادارے کوائن سنٹر (Coin Center) کے ڈائریکٹر پیٹر وین ویلکن برگ (Peter Van Valkenburgh) کے مطابق یہ ایک ڈی سنٹرلائزڈ ادارہ ثابت ہوگا۔

تاہم کسی کو بلاک چین بنانے، ٹوکنز جاری کرنے اور سافٹ ویئر برقرار رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ لہذا نیا آپریشن شروع کرنے کے لیے کاروبار شروع کرنے والے خود کو اور اپنے ڈیولپرز کو پہلے سے ٹوکنز فراہم کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ سہولت لانچ ہونے پر اسے استعمال کرنے یا اس کی ویلیو پر اندازے لگانے والوں کو آئی سی اوز کے ذریعے ٹوکنز فروخت کرسکتے ہیں۔ اس طرح ٹوکنز کی ویلیو کے اضافے کی صورت میں سب ہی کو فائدہ ہوگا۔

بٹ کوائن اور دیگر کرپٹوکرنسیوں کے چرچے کے بعد، مارکیٹ میں آنے والے ٹوکنز کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ آئی سی اوز کے ذریعے کروڑوں ڈالر جمع کرنے والے پراجیکٹس میں ڈیجیٹل اشتہاروں کے لیے انٹرمیڈیری کی ضرورت ختم کرنے والا ویب براؤزر، ڈی سنٹرلائزڈ پیشگوئی کی مارکیٹ اور بیمہ کمپنیوں کے لیے بلاک چین استعمال کرنے والی مارکیٹ پلیس شامل ہیں۔

تاہم اب تک حکومتی ضابطہ کار ادارے ٹوکن کی مارکیٹ پلیس کے حوالے سے پالیسیاں بنانے پر غور کررہے ہیں، جس کی وجہ سے اس کا مستقبل اب تک ایک سوالیہ نشان ہے۔ ٹوکنز کی مختلف نوعیت کی وجہ سے مزيد پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ کچھ ٹوکنز میں روایتی طریقے سے خریدوفروخت ہوتی ہے، جبکہ DAO کی طرح دوسری کمپنیوں کے ٹوکنز نے کاروباری حصص کے طرح ہیں۔ جولائی میں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (U.S. Securities and Exchange Commission) نے اعلان کیا کہ DAO کے ٹوکنز کاروباری حصص ہیں، اور ان پر وہی ضوابط لاگو ہوں گے جو کسی کاروباری حصص پر ہوتے ہیں۔ پچھلے ہفتے SEC نے سرمایہ کاروں کو آئی سی او کے فریب کے حوالے سے محتاط رہنے کی تنبیہہ جاری کی تھی۔ چین میں آئی سی اوز پر پابندی عائد ہوچکی ہے، اور ہوسکتا ہے کہ دوسرے ممالک میں بھی ایسا ہی ہو۔

اس منظرنامے میں فریب اور دھوکے کی بہت گنجائش ہے۔ آئی سی اوز لانچ کرنے والی کئی کمپنیوں نے اب تک صرف ایک تکنیکی وہائٹ پیپر سے زیادہ کچھ تیار نہیں کیا ہے، جس میں ایک ایسا آئيڈیا بیان کیا گیا ہے جس کی کامیابی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے۔

وین والکن برگ کا کہنا ہے کہ اگر آئی سی او کی مارکیٹ محض بلبلہ ثابت ہوجائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آج ہم ڈاٹ کام کے زمانے کا کتنا ہی مذاق کیوں نہ اڑا لیں، اسی نے انٹرنیٹ کے انوویشن کی بنیاد رکھی تھی۔

تحریر: مائک آرکٹ (Mike Orcutt)

Read in English

Authors
Top