Global Editions

ہم موجودہ ٹیکنالوجی کے حوالے سے 1930ء کی دہائی سے کیا سیکھ سکتے ہيں؟

کرونا وائرس کے بعد معیشت کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے حوالے سے کساد اعظم میں کئی اہم اسباق پوشیدہ ہیں۔

ایسا لگ رہا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیوں پر تنقید ختم ہوتی جارہی ہے۔ سیلیکون ویلی کے مقامی اخبار سین ہوزے مرکیوری نیوز (San Jose Mercury News) میں اپریل میں شائع ہونے والی ایک تحریر کے مطابق اس میں covid-19 کا بہت بڑا ہاتھ ہوگا۔ اس بیان کے کچھ ہی عرصے بعد شائع ہونے والے بروکنگز انسٹی ٹیوشن (Brookings Institution) کے ایک مضمون میں بھی یہی بات کہی گئی۔ اس تحریر کے مطابق ”ٹیک صنعت کا زور، پرائیوسی کے حوالے سے ان کی پالیسیاں، اور مشمولات کے ماڈریشن کے سلسلے میں ان کی کوتاہیاں، کچھ مہینے پہلے بہت بڑا مسئلہ تھیں، لیکن اب سیاستدان انہیں پہلے جتنی اہمیت نہيں دیتے۔“

کرونا وائرس کی اس عالمی وبا کے دوران ٹیکنالوجی اور بڑی ٹیک کمپنیاں ہمیں اپنی ملازمت جاری رکھنے، عزیز و اقارب سے رابطہ برقرار رکھنے، اور کانٹیکٹ ٹریسنگ میں معاونت فراہم کرتی ہيں، اور اسی لیے ان کی قدر بڑھ جانی چاہیے تھی۔ تاہم جیسے جیسے ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ ہوا، اس کی خامیاں مزید واضح ہوتی گئيں اور لوگوں کے خدشات میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔

مئی میں ایمزان میں کرونا وائرس کے خلاف تحفظ کا مطالبہ کرنے کے نتیجے میں چند ملازمین کو نوکری سے نکال دیا گیا، جس کے بعد ان کا ساتھ دینے کے لیے کمپنی کے ایک نائب صدر مستعفی ہوگئے۔ انسٹاکارٹ، ٹارگیٹ اور والمارٹ سمیت متعدد بڑی بڑی کمپنیوں میں بھی کم آمدنی رکھنے والے ملازمین نے کرونا وائرس کے خلاف تحفظ کی عدم فراہمی کے باعث ہڑتال کردی۔ ایئر بی اینڈ بی نے کرونا وائرس کے ڈر سے بکنگ کینسل کرنے والے صارفین کو تو رقم واپس کردی، لیکن اس پلیٹ فارم پر اپنا گھر یا اپارٹمینٹ کرایے پر چڑھانے والوں کے ہاتھ کچھ نہيں آیا۔

جب کوئی بحران سامنے آتا ہے اور ٹیکنالوجی میں اس کا حل مل جاتا ہے تو بعض دفعہ ٹیک کمپنیوں کا زور توڑنا مشکل لگنا شروع ہوجاتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی کمپنیاں ایسا بہت کچھ کر جاتی ہیں جن کی دوسری کمپنیوں کو اجازت نہيں ہوتی، لیکن اگر ہم غور سے دیکھیں تو ٹیکنالوجی کی صنعت کے بڑے مسائل کے حل کھل کر واضح ہوجاتے ہيں۔

انٹرنیٹ پر کام کرنے والی کمپنیوں کو صارفین کے متعلق ڈیٹا حاصل کرنے کے ایسے مواقع دستیاب ہيں جو روایتی ٹیلی فون یا ڈاک کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنیوں کو میسر نہيں تھے۔ مثال کے طور پر، کسی بھی ٹیلی کام کمپنی کے لیے صارفین کے فون کالز سن کر ان کی باتوں کے عین مطابق آٹومیٹڈ کالز کرنا ممکن نہيں ہے، لیکن ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی کمپنیاں ایسا کرسکتی ہيں۔ رائيڈ شیئرنگ ایپس کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انہيں ان تمام ضوابط سے استثنیٰ حاصل ہے جن کا ٹیکسی چلانے والی کمپنیوں پر اطلاق ہوتا ہے۔  اسی طرح، کئی کمپنیاں اس وجہ سے فری لانسرز اور عارضی ملازمین کو ترجیح دیتی ہیں کیونکہ فل ٹائم کام کروانے کے باوجود بھی انہیں مستقل ملازمین جتنا قانونی تحفظ حاصل نہيں ہے۔

کئی لوگ یہ سمجھتے ہيں کہ ٹیک کمپنیوں پر قوانین کا اطلاق ہوتا ہی نہيں ہے۔ کرونا وائرس شروع ہونے سے پہلے امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (Federal Communications Commission) کے افسر مائیکل او رائیلی (Michael O’Rielly) نے ایک یونیورسٹی میں خطاب دیا، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ”اب کوپر کی تاروں سے چلنے والی ٹیلی فون لینڈ لائن کے دن ختم ہوگئے ہیں، اور میں امید کرتا ہوں کہ فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن کی ذمہ داری بھی ختم ہوجائے گی۔“ لیکن اب ہم ایک ایسے دور میں کھڑے ہیں جس میں وہ کمپنیاں زيادہ اہم ہوگئی ہيں جن پر فیڈرل کمیونیکشنز کمیشن کے ضوابط کا اطلاق ہوتا ہے۔

سچ پوچھیں تو امریکہ کے اینٹی ٹرسٹ قوانین اسی قسم کے بحرانوں کے لیے بنائے گئے تھے، جن میں معیشت میں تیزی سے تبدیلی نظر آئے گی اور کمپنیاں بڑی ہوتی جائيں گی۔

ان قوانین کے تحت ضابطہ کار حکام کو مارکیٹ میں اپنے حجم کا ناجائز فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں کو توڑنے کا حق حاصل ہے۔ ماضی میں تو تیل کی بڑی کمپنیوں اور ریلوے کمپنیوں کے خلاف اس اختیار کا استعمال کیا گیا، لیکن موجودہ دور کی بڑی ٹیک کمپنیاں اب تک ان قوانین سے بچی ہوئی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ضابطہ کار حکام صارفین کے ساتھ ناانصافی کی نشاندہی کے لیے مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتے ہيں، اور گوگل اور فیس بک کی سہولیات بالکل مفت پیش کی جاتی ہیں۔ تاہم اگر ضابطہ کار حکام اینٹی ٹرسٹ قوانین کا بغور مطالعہ کریں تو انہيں احساس ہوگا کہ انہيں مفت سہولیات پیش کرنے والی بڑی ٹیک کمپنیوں پر بھی اختیار حاصل ہے، جس سے یہ صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب چھوٹی کمپنیاں اپنے پیروں پر کھڑے رہنے سے قاصر ہيں، اس بات کا خطرہ بڑھ گیا ہے کہ بڑی کمپنیاں انہيں خرید لیں گی اور مارکیٹ میں مقابلہ ختم ہوجائے گا۔ اسی لیے کمپنیوں کے انضمام پر عارضی پابندی عائد کرنے سے صارفین کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔

ملازمین کو تحفظ فراہم کرنے والے قوانین کو بھی اسی طرح نظرانداز کیا جارہا ہے۔ فری لانسرز اور عارضی ملازمین سے کام کروانے والی کمپنیوں پر مستقل ملازمین کے لیے بنائے گئے قوانین کا اطلاق نہيں ہوتا، جس کی وجہ سے اس قسم کا کام کرنے والے افراد کو قانونی تحفظ حاصل نہيں ہے۔ تاہم کیلیفورنیا میں حال ہی میں فری لانسرز اور عارضی ملازمین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے نئے قوانین متعارف کیے گئے ہيں، جن کے تحت انہیں بھی مستقل ملازمین کی طرح ہی تصور کیا جائے گا۔ اس وقت اپنی جانوں پر کھیل کر ہمیں سودا سلف اور ادویات جیسی ضروری اشیاء فراہم کرنے والے کئی افراد مستقل ملازمین کی حیثیت سے نہيں بلکہ عارضی بنیاد پر کام کررہے ہيں، اور اسی لیے ضروری ہے کہ انہیں ہر ممکنہ تحفظ فراہم کیا جائے۔

قوانین متعارف کرنا ایک مثبت قدم تو ہے، لیکن یہ کافی نہيں ہے۔ پالیسیوں میں پابندیوں کا عنصر تو شامل ہوتا ہی ہے، لیکن ساتھ ہی ان میں ذمہ داریوں کا دائرہ کار بڑھانے کی گنجائش بھی موجود ہونی چاہیے، اور اس گنجائش کا پابندیوں سے کئی گنا زیادہ ہونا بہت ضروری ہے۔ 1920ء اور 1930ء کی دہائیوں میں امریکی قانون ساز اداروں نے اسی اصول کا استعمال کرتے ہوئے امریکی معیشت کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی۔ 1929ء میں سٹاک مارکیٹ میں اچانک کمی کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ بینک اپنے صارفین کو جوابدہ نہيں ہیں اور ایسے لاکھوں افراد تھے جنہیں بینک تک رسائی حاصل نہيں تھی۔ بینکوں پر متعدد پابندیاں تو عائد کی گئيں، لیکن ساتھ ہی 1934ء میں فیڈرل کریڈٹ یونین ایکٹ (Federal Credit Union Act) بھی متعارف کیا گیا جس کے تحت بینکنگ سہولیات سے محروم افراد کے زیراستعمال غیررسمی مالی سہولیات کو قانونی تحفظ حاصل ہوا۔ اس کے نتیجے میں ایسے کریڈٹ یونینز عام ہونا شروع ہوگئے جن کی ملکیت اور اختیار ان کے اپنے ممبران کے ہاتھ میں تھا۔ اس سے بینکوں کی جوابدہی میں خودبخود اضافہ ہوا، اور ایسے افراد کو مالی سہولیات تک رسائی حاصل ہوئی جو پہلے ان سے محروم تھے۔

اسی طرح دو سال بعد رورل الیکٹریفیکیشن ایکٹ (Rural Electrification Act) متعارف ہوا، جس کے نتیجے میں بجلی سے محروم دیہی علاقہ جات کو یہ سہولت ملنا شروع ہوئی۔ اس قانون کے تحت ان علاقوں میں قائم کمیونٹیز نے محکمہ زراعت کی طرف سے کم شرح سود پر قرضے حاصل کرکے بجلی اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے لیے کوآپریٹیوز قائم کیے، جن میں سے 900 کوآپریٹیوز آج بھی قائم ہیں۔ قرضے کے اس منصبوبے کی بدولت نجی ملکیت ممکن ہوئی، اور آج یہ پروگرام محکمہ زراعت کے لیے انتہائی منافع بخش ثابت ہورہا ہے۔

امریکہ کی تاریخ میں عوام کی سہولت کے لیے ایسے کئی منصوبے متعارف کیے جاچکے ہیں۔ ان سے بڑی کمپنیوں کی جکڑ میں پھنسے صارفین کو ایسی کئی سہولیات میسر ہوئیں جن سے وہ بصورت دیگر محروم رہتے۔ ٹیک کے اس دور میں کمپنیوں کو منافع کے بجائے عوام کی ضروریات کو فوقیت دینے کے لیے اسی قسم کے اقدام دوبارہ متعارف کرنے کی ضرورت ہے۔

صارفین کو بھی بڑے پلیٹ فارمز اور انفراسٹرکچر کا زور توڑنے کے لیے کوآپریٹیوز کے قیام سے بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ان کوآپریٹیوز کے ذریعے ان علاقہ جات میں براڈبینڈ کی سہولیات فراہم کی جاسکتی ہيں جو ابھی تک ان سے محروم ہیں۔ کسی زمانے میں بجلی کی فراہمی کے لیے بنائے گئے چند دیہی کوآپریٹیوز اپنی کمیونٹیز میں انٹرنیٹ متعارف کرنے میں کامیاب ہوگئے، لیکن ان کی تعداد اس وقت بہت کم ہے۔

فری لانسرز اور عارضی ملازمین بھی اس قسم کے قوانین سے مستفید ہوسکتے ہيں۔ اس وقت یہ افراد بڑی بڑی کمپنیوں اور ان کی بنائے گئی پالیسیوں کے رحم و کرم پر ہيں۔ تاہم کیلیفورنیا میں متعارف کردہ قانون سے اس قسم کے ملازمین کے لیے متحد ہو کر اپنے خود کے پلیٹ فارمز بنانا اور موجودہ پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا ممکن ہوگیا ہے۔ اس سے فری لانسرز اور عارضی ملازمین کے علاوہ اوبر جیسی کمپنیوں میں کام کرنے والے ڈرائیورز اور ڈیلیوری رائڈرز کو بھی تحفظ حاصل ہوگا اور ان کے لیے بہتر اور زیادہ محفوظ معاوضے کا مطالبہ کرنا بھی ممکن ہوگا۔

 قرنطینہ اور ریموٹ ملازمت کے نتیجے میں کئی لوگ ایسے پلیٹ فارمز پر زيادہ انحصار کرنے لگے ہیں جن کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ صارفین کا ڈیٹا ہے۔ بہتر قوانین متعارف کرکے اس صورتحال کو بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ فائل شیئرنگ کے لیے نیکسٹ کلاؤڈ (NextCloud) اور ویڈیو کانفرنسنگ کے لیے جٹسی (Jitsi) جیسے مفت اور اوپن سورس ٹولز استعمال کرتے ہوئے لوگ اپنے پرائیوسی کے تحفظ کے لیے نجی گروپس بنا سکتے ہيں، جس کی بدولت انہيں اپنے ذاتی ڈیٹا پر زیادہ اختیار حاصل ہوگا۔ اگر حکومت اس قسم کے پراجیکٹس کو فروغ دے تو عوام کا غلط فائدہ اٹھانے والی اور انہيں سہولیات سے محروم رکھنے والی بڑی کمپنیوں سے نجات حاصل کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔

انٹرنیٹ کی بدولت ہماری صورتحال کساد اعظم سے گزرنے والے ہمارے آبا و اجداد کے مقابلے میں کچھ حد تک تو بہتر ہے، لیکن پرانے مسائل اسی طرح برقرار ہیں۔ اس دور کے اسباق آج کی ٹیک کمپنیوں پر قابو پانے اور انہيں جوابدہ ٹھہرانے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہيں۔ اچھی ٹیک پالیسیاں بنانے کے لیے اس بات کو تسلیم کرنا بہت ضروری ہے کہ ٹیک کمپنیاں ماضی کی بڑی تیل کمپنیوں کی طرح ہی عوام کا فائدہ اٹھا سکتی ہيں، بلکہ اٹھا رہی ہیں۔

تحریر: نیتھن شنائيڈر (Nathan Schneider)

تصویر: سوفی ہولنگٹن (Sophy Hollington)

Read in English

Authors

*

Top