Global Editions

!پھل، سبزیاں، دالیں اور دودھ بھی آن لائن حاصل کریں۔۔۔۔

انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہی اس ٹیکنالوجی کو کاروباری مقاصد کے لئے استعمال کا آغاز ہوا اور اب اس ٹیکنالوجی کو کاروباری مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا رجحان اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ اب گھریلو استعمال کی روزمرہ کی اشیاء مثلاً دودھ، دالیں، سبزیاں اور پھل وغیرہ بھی آن لائن منگوائے جا سکتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک میں کریانہ کے سامان کی آن لائن فروخت کی کمپنیوں کے کام کرنے کی کتنی گنجائش موجود ہے؟

’’ہر گھر ایک ممکنہ صارف ہے‘‘ یہ کہنا تھا تازہ دودھ، دہی اور دیگر ڈیری پراڈکٹس کی فراہمی کے لئے قائم آن لائن کمپنی Tazadaily.pk کے بانی محمد نوخیز کا۔ اب جبکہ روزمرہ ضرورت کے گھریلو استعمال کے کاروبار کا رحجان عالمگیر سطح پر بھی زور پکڑ چکا ہے تو یہاں بھی اس کے اثرات محسوس کئے جا سکتے ہیں اور پاکستان میں بھی مختلف شعبوں میں خدمات فراہم کرنے والی آن لائن کمپنیوں نے کام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس حوالے سے CB-Insight نامی ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں رواں سال مئی تک روزمرہ استعمال کے سامان کی آن لائن فروخت کے کاروبار کا مجموعی حجم 429 ملین ڈالرز رہا جبکہ اسی عرصہ کے دوران کھانے کی ڈلیوری کے لئے قائم آن لائن کمپنیوں کے کاروبار کا حجم 352 ملین ڈالرز رہا۔ گھریلو استعمال کے سامان کی آن لائن فروخت کے رحجان میں اضافہ کے حوالے سے یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ ان کمپنیوں کو کس حد تک عوامی پزیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ گھریلو استعمال کا آن لائن سامان فروخت کرنے والی امریکہ کی سب سے بڑی کمپنی Instacart کا کاروباری حجم دو ارب ڈالرز تک پہنچ گیا ہے۔ آن لائن فروخت کا کاروبار سال 2000ء کے اوائل میں شروع ہوا تاہم اب اس کی وسعت میں اضافہ سمارٹ فونز کی وجہ سے ہوا ہے کیونکہ اب آپ صرف ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے سمارٹ فون کی مدد سے ہر طرح کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں اور سپر سٹورز تک جانے اور خریداری میں وقت صرف کرنے سے محفوظ رہتے ہیں اور مطلوبہ سامان گھر بیٹھے ہی حاصل کر لیتے ہیں۔

اس وقت دنیا بھر کے سماجی رواجوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو آن لائن کاروبار کی وسعت پانے کے باوجود اب بھی صارفین کی اکثریت روایتی طریقہ کار کے تحت ہی خریداری کرنا پسند کرتی ہے خاص طور روزمرہ استعمال کا گھریلو سامان تو وہ خود دیکھ کر ہی خریدنا پسند کرتے ہیں کیونکہ اس طرح انہیں اس امر کی تسلی رہتی ہے کہ وہ جو سامان خرید رہے ہیں وہ درست، تازہ اور انکی ضرورت کے مطابق ہے۔ Taza Daily اس عوامی رحجان میں تبدیلی چاہتی ہے تاہم کمپنی کو بھی اندازہ ہے کہ یہ رحجان چند دن کے اندر تبدیل نہیں کیا جا سکتا ۔ تاہم وہ آن لائن فروخت کو ٹیکنالوجی کی مدد سے پھیلانا چاہتے ہیں۔ اس حوالےسے نوخیز کا کہنا تھا کہ ہم آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے ہیں ابتدائی طور پر ہم نے اپنی خدمات کا دائرہ کار ڈی ایچ اے تک محدود رکھا ہے اور جلد ہی اس میں مزید علاقوں کو شامل کر لیا جائیگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیری مصنوعات کی فروخت کے لئے وہ صرف آن لائن بکنگ پر انحصار نہیں کر رہے بلکہ وہ دیگر ذرائع سے بھی آرڈرز حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کمپنی کے بانی محمد نوخیز اور حیدر علی چنگیزی نے پلان نائن کو آپنے آپریشنز کا مرکز بنایا ہوا ہے اور انہیں یہ امید ہے کہ ایک بہت بڑی مارکیٹ ان کی منتظر ہے۔

دوسری جانب Cart99.pk کے بانی علی وسیم کا کہنا ہے کہ آن لائن سامان کی بکنگ حاصل کرنے کے بعد سامان کی ڈلیوری موٹر سائیکل کے ذریعے کرنا نہایت سستا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے زریعے کاروبار کو وسعت دینے میں بھی بہت مدد ملتی ہے۔ وسیم نے ابتدائی طور پر واٹس ایپ اور فلائیرز کے ذریعے آرڈرز حاصل کئے اور پھر عوامی پزیرائی کے بعد وسیم نے اپنی نوکری چھوڑ کر مکمل طور پر اس کاروبار کا انتظام سنبھال لیا۔ وسیم کا ماننا ہےکہ صارفین کو تازہ اشیاء کی سپلائی کے لئے مڈل مین کا کردار ختم کرنا نہایت ضروری ہے اور اس کے لئے لازم ہے کہ سامان براہ راست منڈی سے ہی حاصل کیا جائے اور پھر اسے صارف تک پہنچایا جائے۔

اسی طرح پاکستان کی سب سےبڑی آن لائن کمپنی جو روزمرہ استعمال کا سامان فروخت کرنے میں معروف ہے وہ سبزی ڈاٹ پی کے ہے۔ یہ کمپنی پاکستان میں اپنا کاروبار نہایت احسن انداز میں چلا رہی ہے۔ رواں برس جولائی میں کمپنی کی جانب سے یہ اطلاع جاری کی گئی کہ گزشتہ مالی سال کے اختتام تک کمپنی نے مختلف کمپنیوں کے اشتراک و تعاون سے 7.5 ملین ڈالرز کی بنیادی سرمایہ کاری حاصل کی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ وسیع فنانشنل ذرائع حاصل کرنے کے باوجود کیا سبزی ڈاٹ پی کے اس میدان میں آنے والی نئی کمپنیوں کو پنپنے کا موقع فراہم کریگی؟

روزمرہ استعمال کا گھریلو تازہ سامان حاصل کرنا ہمارے سماجی نظام میں اب بھی ایک ایسا تجربہ ہے جسے افراد ذاتی طور حاصل کرنا پسند کرتے ہیں۔ اب جبکہ بڑے میگا سپر سٹور جن میں میٹرو اور ہائپر سٹار وغیرہ شامل ہیں قائم کئے جا چکے ہیں تو صارفین ازخود وہاں جا کر ضرورت کا سامان خریدتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایسے بڑے سٹورز سال 2000ء تک پاکستان میں قائم نہیں کئے گئے تھے۔ اب ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے نئی کمپنیاں میدان میں آئی ہیں جو صارفین کو اپنی خدمات کے ذریعے اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اب جبکہ ملک میں انٹرنیٹ کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے تو یہ امید کی جا سکتی ہے کہ صارفین کی اس بڑی مارکیٹ سے یہ کمپنیاں مستفید ہونگی اور بڑے پیمانے سے مالی فوائد حاصل کر سکیں گی۔

تحریر: سعد ایوب (Saad Ayub)

Read in English

Authors

*

Top