Global Editions

میں نے ایٹم بم بنانے والوں سے کیا سیکھا؟

سابقہ دفاع کے سیکریٹری ایش کارٹر ہمیں بتاتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے ماہرین حکومت کے بڑے مسائل حل کرنے میں کیا کردار ادا کرسکتے ہيں؟

جب میں نے ابتدائی پارٹیکل فزکس کے شعبے میں اپنی پیشہ ورانہ زندگی شروع کی، مجھے رہنمائی فراہم کرنے والے افراد جوہری بم بنانے والے مین ہیٹن پراجیکٹ کا حصہ رہ چکے تھے۔ انہیں اس بات پر بہت فخر تھا کہ انہوں نے ایک ایسی ٹیکنالوجی تیار کی تھی جس نے نہ صرف دوسری عالمی جنگ کا خاتمہ ممکن ہوا بلکہ مشرق اور مغرب کے درمیان 50 سالہ تناؤ کے باوجود بھی تیسری جنگ عظیم کی روک تھام کر رکھی ہے۔ انہیں جوہری توانائی کی ایجاد پر بھی بہت فخر تھا۔ لیکن اس ٹیکنالوجی کی سمجھ بوجھ کی وجہ سے انہيں اس کے خطرات کا بھی احساس ہوا۔

یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اسلحے کے کنٹرول (جیسے کہ معاہدوں کی تصدیق کے لیے جاسوسی کے سیٹلائٹس) اور جوہری ری ایکٹر کے تحفظ (جیسے کہ ریڈیو ایکٹو لیکیجز کو روکنے کے آلات) میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز پر بھی کام کرنا شروع کیا۔ جوہری ٹیکنالوجی کے مواقع اور پیچیدہ مسائل پر بیک وقت کام کر کے یہ سائنسدان انسانیت پر اس ٹیکنالوجی کے اثرات کو متوازن رکھنے کی کوشش کررہے تھے۔ انہيں یہ بات اچھے سے معلوم تھی کہ علم میں اضافہ ناگزیر ہے، لیکن وہ اس بات سے بھی واقف تھے کہ اسے عوام الناس کے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

میری نسل کے ٹیکنالوجی کے ماہرین یہ بات اچھی طرح سمجھتے تھے کہ انہيں نہ صرف اپنی معلومات کے ذریعے دوسروں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کا موقع ملا تھا، بلکہ یہ ان کی ذمہ داری بھی تھی۔ یہ بات صاف واضح ہے کہ آج کل کے ٹیکنالوجی کے ماہرین کی بھی یہی ذمہ داری ہے، اور ہمارے معاشرے کو تیز رفتار ٹیکنالوجیکل تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے عملی اور تجزیے پر مشتمل حلوں کی اشد ضرورت ہے۔ یہ حل صرف اسی وقت سامنے آئيں گے جب نوجوان ٹیکنالوجی کے انوویٹرز کی نئی نسل کی انقلابی تبدیلیاں ممکن بنانے سے وابستہ ذمہ داریاں اٹھانے کے سلسلے میں حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

بہت ہی کم ٹیکنالوجی کے ماہرین ہیں جنہيں سیکٹریٹری دفاع بننے کا موقع ملا ہے۔ لیکن میرے لیے میری فزکس کی تربیت اور میری پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے درمیان بہت گہرا تعلق تھا۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کی ابتداء میں میں نے اس زمانے کے اہم ترین دفاعی مسائل پر کام کیا، جن میں تکنیکی پہلو پر بہت زور دیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک پراجیکٹ صدر ریگن کا پینٹاگان کی مسائل کے خلاف تحفظ کے لیے خلاء میں موجود دفاعی آلات کا استعمال تھا (تاہم میرے تجزیے کے مطابق یہ پراجیکٹ قابل عمل نہيں تھا)۔ میرا ایک اور پراجیکٹ، جس پر میں نے پہلے اپنے زمانہ تعلیم میں اور پھر صدر کلنٹن کے دور میں پینٹاگان میں ملازمت کے دوران کام کیا تھا، سرد جنگ کے نتیجے میں سویت یونین کے خاتمے کے بعد ان کے جوہری اسلحے پر قابو پانا تھا (شکر ہے کہ میری یہ کوشش کامیاب ثابت ہوئی)۔

مجھے اس بات سے بہت اطمینان ہوتا ہے کہ میری تکنیکی معلومات کی وجہ سے جو فیصلے کیے گئے، ان کے نتیجے میں بہتر انتخابات بھی سامنے آئے۔ کسی نوجوان سائنسدان کو بڑے مسائل اور اپنی تربیت سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہوا دیکھ کر بہت خوشی محسوس ہوتی ہے۔ مجھے یہ احساس شروع ہی سے تھا، اور میں اسی وجہ سے بار بار پینٹاگان واپس جاتا رہا۔

کئی سال بعد جب میں نے صدر اوباما کے دور میں سیکریٹری دفاع کا عہدے سنبھالا، میری اولین ترجیح پینٹاگان اور ٹیک کمیونٹی کے روابط کو مضبوط بنانا تھا۔ میرا ہمیشہ ہی سے یہ فلسفہ ہےکہ بحیثیت سیکریٹری دفاع میرا کام صرف آئی سس کو شکست دینا یا روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ جنگ روکنا نہيں تھا، بلکہ مستقبل کے غیرمتوقع خطرات کے لیے نئی ٹیکنالوجی کی دستیابی کو یقینی بنانا بھی میری ذمہ داریوں میں شامل تھا۔

اس مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے سیلیکون ویلی، بوسٹن اور آسٹن، ٹیکسس جیسے ٹیکنالوجی کے مراکز میں ڈیفینس انوویشن یونٹس ایکسپیریمنٹل (Defense Innovation Units-Experimental - DIUx) نامی پینٹاگان کے آؤٹ پوسٹس قائم کیے، جن کی مدد سے ٹیکنالوجی کے ماہرین اور نئی کمپنیوں کے لیے دفاعی مسائل کے متعلق معلومات حاصل کرنا ممکن ہوا۔ اس کے علاوہ، ان آؤٹ پوسٹس کے ذریعے فنڈنگ کے متعلق بھی معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔ پینٹاگان ہر سال ریسرچ اور ڈیولپمنٹ پر 72 ارب ڈالر خرچ کرتے ہیں، جو گوگل، ایپل اور مائیکروسافٹ کی مجموعی سرمایہ کاری سے بھی دو گنا زیادہ ہے۔ اور اس سے پینٹاگان کو بھی بہت فائدہ ہوتا ہے۔ DIUx کے ذریعے ان کے لیے سٹارٹ اپ کمپنیوں کے تیز رفتار عملیات کے متعلق معلومات حاصل کرنا ممکن ہے۔

جب میں واشنگٹن میں تھا، میں نے ڈیفینس ڈیجیٹل سروس بھی قائم کی تاکہ ٹیکنالوجی کے ماہرین کو پینٹاگون میں چند ماہ یا ایک سال تک شامل کر کے سولینز کو نقصان پہنچائے بغیر ہوائی سٹرائکس کرنے یا ڈیفینس کے نیٹورکس کو ہیکنگ کے خلاف تحفظ کی فراہمی جیسے مسائل حل کرنے کا موقع دیا جاسکے۔ ان سیلز میں کام کرنے والے چند افراد نے مجھے بتایا کہ ان کا کام ان کی ابتدائی پیشہ ورانہ زندگیوں کا سب سے معنی خیز کام تھا، جس سے ان کا نظریہ مکمل طور پر تبدیل ہوگیا۔

مجھے ٹیک کمیونٹی کے دفاع کے ساتھ روابط قائم کرنے کے لیے اور بھی بہت کچھ کرنا تھا۔ لہٰذا میں نے ایلفابیٹ کے ایکزیکٹو چیئرمین ایرک شمڈپ کے زیرصدارت ایک ڈیفینس انوویشن بورڈ بھی قائم کیا، جس میں ایمزان کے جیف بیزوس اور لنکڈ ان کے ریڈ ہوف مین جیسے نمایاں شخصیتیں شامل تھیں۔ میں چاہتا تھا کہ دفاعی شعبے کو سب سے سے زيادہ جدت پسند سوچ دستیاب ہو۔

دفاع کے علاوہ ایسے اور بھی کئی شعبے ہیں جہاں عوام کو تکنیکی افراد کی مہارت سے فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے کاروبار اور کمیونٹی میں انقلاب آچکا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی جارحیت، جھوٹ اور تنہائی کو بھی پروان چڑھنے کا موقع ملا ہے۔ اب فیس بک جیسی کمپنیوں کو کئی فریقین، جن میں حکومت بھی شامل ہے، ان مسائل کو حل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسا کرنا ان کے ہی فائدے میں ہے، کیونکہ اگر ٹیکنالوجی کے ماہرین ان مسائل کو حل نہیں کریں گے تو اس کی ذمہ داری وکلاء، قانون دان اور ضابطہ کار حکام اٹھاليں گے۔

اس کے علاوہ روزگار پر ٹیکنالوجی کے اثرات کو نظرانداز نہيں کیا جاسکتا ہے۔ خودکار گاڑیوں سے سڑکیں تو محفوظ ہوجائيں گی اور مسافرین کا بہت وقت بھی بچے گا، لیکن ان سے ان لاکھوں لوگوں کی نوکریاں خطرے میں پڑ جائيں گی جو ٹرکس، ٹیکسی یا ڈیلیوری کی گاڑیاں چلا کر روزگار کماتے ہيں۔ شاید ٹیکنالوجی سے نئی قسم کا روزگار پیدا ہوگا۔ امریکی خواب کو عملی جامہ پہنا کر لوگوں کو اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کے مواقع فراہم کرنا ایک مربوط معاشرے کے لیے بہت ضروری ہے۔

جیسے جیسے پرانی ملازمتیں ختم ہوتی جارہی ہیں، کئی کمپنیاں اکثر شکایت کرتی ہیں کہ انہيں نئی اسامیوں کے لیے اہل ملازمین ملنے میں کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ یہاں بھی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ تکنیکی تربیتی مواد کو زیادہ عام کیا جاسکتا ہے، مختلف سطحوں پر میسر کیا جاسکتا ہے، اور اسے آن لائن چینلز کے ذریعے مستقل طور پر فراہم کیا جاسکتا ہے۔

میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے ابتدائی مراحل میں جوہری فزکس کی نسل سے جو اسباق سیکھے تھے، ان کی وجہ سے میں انوویشن کی وجہ سے پیدا ہونے والے مواقع اور مشکلات میں ٹیکنالوجی کے ماہرین کے کردار کے متعلق بہت پرامید ہوں۔ بحیثیت دفاعی سیکریٹری میرے تجربے کے متعلق بھی میرے خیالات کچھ اسی قسم کے ہیں۔

مجھے جن نوجوان ٹیکنالوجی کے ماہرین سے بات کرنے کا موقع ملا ہے، وہ واقعی بہتری لانا چاہتے ہیں۔ وہ اس بات سے اچھی طرح باخبر ہيں کہ سائنس کی ترقی کو روکنا نامکمن ہے، لیکن وہ یہ بھی جانتے کہ سائنس کو دنیا کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر یہ ماہرین کوشش نہيں کریں گے تو ممکن ہے کہ ان کی جگہ ناکافی تکنیکنی معلومات رکھنے والے سیاست دان یا قانون دان یہ ذمہ داریاں سنبھال لیں، اور ترقی کے بجائے تنزلی کا منہ دیکھنا پڑے۔ ضروری نہيں ہے کہ یہ نوجوان حکومت میں یا خیراتی اداروں میں اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی گزارنا چاہیں۔ لیکن وہ ٹیکنالوجی پر چلنے والی نجی کمپنیوں میں کچھ کر دکھانے کی تمنا ضرور رکھتے ہيں۔ لیکن اس کے علاوہ، وہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل بھی ڈھونڈنا چاہتے ہیں، بالکل ان جوہری سائنسدانوں کی طرح جو کسی زمانے میں اسلحہ کنٹرول کرنے کے خواہش مند تھے۔

Read more on technologyreview.com.

Authors
Top