Global Editions

کورونا وائرس کا بہترین علاج کیا ہے؟

اس وائرس کے شکار افراد پر آزمائی جانے والی ادویات میں سے کونسی امیدافزا ثابت ہورہی ہيں؟

مرکزی چین میں 70،000 سے زائد افراد کو متاثر کرنے والا کورونا وائرس بڑی تیزی سے پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔ جنوبی کوریا، ایران اور اٹلی میں متعدد کیسز سامنے آئے ہیں اور کورونا وائرس نے اب عالمی وبا کی شکل اختیار کرلی ہے۔ امریکی سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول (Centers for Disease Control) کے ایک بیان کے مطابق اس وائرس کو امریکہ میں پھیلنے سے کوئی نہيں روک سکتا۔ تاہم اس وقت یہ نہيں کہا جاسکتا کہ اس سے کتنے لوگ متاثر ہوں گے۔

نیشنل سینٹر فار امیونائزيشن اینڈ ریسپیریٹری ڈزیزز (National Center for Immunization and Respiratory Diseases) کی ڈائریکٹر نینسی میسونیئر (Nancy Messonnier) نے کہا کہ ”ہم امریکی عوام کو بتارہے ہيں کہ اس وائرس کے اثرات نہایت خطرناک ثابت ہوسکتے ہيں اور انہيں اس کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔“

اگر یہ مرض عالمی وبا کی شکل اختیار کرلے تو یہ بات طے ہے کہ دنیا بھر میں اربوں افراد کو ادویات یا ٹیکوں کی ضرورت پڑے گی۔

اس وقت اس وائرس اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نمونیا کے لیے کوئی ثابت شدہ علاج نہيں مل سکا ہے۔ تاہم عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت 70 سے زائد ایسی ادویات موجود ہیں جنہيں آزمایا جاسکتا ہے۔

ان میں سے کچھ ادویات پر بہت تیزی سے کام ہورہا ہے اور یہ اب تک کافی امید افزا ثابت ہوئی ہیں۔ ان کی فہرست درج ذیل ہے۔

وائرس بلاکرز

گلی ایڈ سائنسز (Gilead Sciences) کی تیار کردہ ریم ڈیسیویر (remdesivir) ایک بروڈ سپیکٹرم اینٹی وائرل دوا ہے جو ٹیکے کی شکل میں دستیاب ہے۔ اس وقت یہ اینٹی وائرل دوا صرف تجرباتی مرحلے میں ہے لیکن نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ (National Institutes of Health) کے سربراہ فرانس کولنز (Francis Collins) کا کہنا ہے کہ وہ اس کے بارے میں نہایت ”پرامید“ ہيں۔

يہ دوا ایک ایسے نیوکلوٹائيڈ کی بگڑی ہوئی شکل تخیلق کرتی ہے جس کی وائرس کو نئی نقول بنانے کے لیے ضرورت پڑی ہے۔ اس طرح وائرس نئی نقول بنانے سے قاصر رہتا ہے اور اس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکتا ہے۔ گیلیڈ نے ماضی میں اسی قسم کی تکنیک سے نہایت کامیاب ہیپاٹائٹس سی کی ادویات تیار کی تھيں۔

ریم ڈیسیویر ان وائرسز پر عمل کرتا ہے جن کے جینیاتی مواد میں کورونا وائرس کی طرح آر این اے (RNA) شامل ہے۔ یہ ایم کورونا وائرس سے ملتے جلتے جرثومہ ای آر ایس (MERS) کے شکار چوہوں اور بندروں میں خاصا کامیاب رہا۔ تاہم ریم ڈیسیویر  2018ء میں ایبولا کے شکار افراد کے لیے فائدہ مند ثابت نہ ہوسکا۔

جنوری میں چین سفر کرنے کے بعد واشنگٹن آنے والے ایک 35 سالہ شخص کو ریم ڈیسیویر دیا گيا، جس کے بعد ان کی طبیعت بجال ہوگئی۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ نے بتایا کہ اس کی افادیت کا تعین کرنے کے لیے اوماہا میں واقع یونیورسٹی آف نیبراسکا میڈيکل سینٹر (University of Nebraska Medical Center) میں داخل کورونا وائرس کے شکار افراد پر ریم ڈیسیویر کی ٹیسٹنگ کی جائے گی۔

اس ایجنسی کے مطابق اس مطالعے میں شرکت کرنے والوں کو تجربات مکمل ہونے تک مکمل معلومات نہيں فراہم کی جائیں گی۔ چند شرکت کنندگان کو ریم ڈیسیویر کے ٹیکے لگائے جائيں گے اور باقی کو ایک ناکارہ ٹیکہ (placebo) لگایا جائے گا۔ اس ٹرائل میں شرکت کرنے والے شخص کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے ڈائمنڈ پرنسیس (Diamond Princess) نامی کروز شپ پر سفر کیا تھا جہاں کورونا وائرس بہت تیزی سے پھیلا تھا۔

ٹیکے

 طویل المیعاد میں ٹیکے ہی سب سے بہترین تحفظ فراہم کرسکتے ہيں۔ تاہم ٹیکوں کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ انہیں مارکیٹ میں آنے کے لیے کم از کم تین سے چار سال لگتے ہيں۔ ٹیکوں کی افادیت ثابت کرنے اور وسیع پیمانے پر تخلیق کرنے میں وقت لگتا ہے۔ اس کے علاوہ، اگر ٹیکے ناکام ثابت ہوجائيں تو سائنسدانوں کو نئے سرے سے کام کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے جس سے مزید وقت ضائع ہوتا ہے۔

خوش آئین بات یہ ہے کہ 2003ء میں جب کورونا وائرس SARS کی شکل میں سامنا آیا تھا تو ٹیکوں کے کچھ پروٹوٹائپس تیار کیے گئے تھے۔ جب SARS ختم ہوگیا تو ان ٹیکوں کی مزید ضرورت نہيں رہی، لیکن اب اس نئے کورونا وائرس کے لیے ان پر دوبارہ کام شروع ہوگیا ہے۔

دوا فروش کمپنی سنوفی (Sanofi) اس وقت کرونا وائرس کے ٹیکے پر کام کررہی ہے۔ وہ وائرس سے اینٹیجینز (antigens) نامی پروٹینز تیار کررہی ہے جنہیں گردش خون کے نظام میں بذریعہ ٹیکے متعارف کیا جاسکتا ہے تاکہ انسانی نظام مدافعت کے لیے ان جراثیم کی نشاندہی ممکن ہوسکے۔ عام طور پر اس قسم کی ادویات مرغی کے انڈوں کی مدد سے تیار کی جاتی ہیں۔ تاہم اس وقت فوری طور پر لاکھوں انڈے حاصل کرنا مشکل ثابت ہورہا ہے، جس کی وجہ سے سنوفی نے کیڑوں کے سیلز میں اینٹیجینز تیار کرنے کے دیگر طریقے ایجاد کیے ہيں۔

زيادہ تیز ٹیکے

چند کمپنیاں نئے قسم کے ٹیکوں پر کام کررہی ہیں جن میں وائرس کے جینیاتی مواد کی مختصر لڑیوں کو انسانی اجسام میں متعارف کیا جاتا ہے۔ اس طرح انسانی سیلز خود وائرل اینٹیجینز بناتی ہیں۔ اب تک اس قسم کے ٹیکے کامیاب ثابت نہيں ہوپائے ہیں، لیکن ان کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان کے پروٹوٹائپس سب سے زیادہ آسانی سے بن سکتے ہیں۔

یہ بات اس وقت واضح ہوگئی جب ماڈرنہ تھیراپیوٹکس (Moderna Therapeutics) نے اعلان کیا کہ انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کو آر این اے پر مشتمل ٹیکوں کی خوراکیں فراہم کی ہيں۔ کمپنی کے صدر سٹیفن ہوج (Stephen Hoge) نے بتایا کہ ”ہم نے ماضی میں کبھی بھی کسی قسم کے وبا کے لیے اتنی پھرتی نہيں دکھائی تھی۔“

کرونا وائرس کا کامیابی سے مقابلہ کرنے والوں سے حاصل کردہ پلاسما

 کسی وائرس کے کامیابی سے مقابلہ کرنے والے ہر شخص کے خون میں وافر مقدار میں اینٹی باڈیز (antibodies) پائی جاتی ہیں۔ ایسے افراد کے خون سے پلاسما حاصل کرکے دوسروں کے اجسام میں متعارف کرکے ان کی جان بچائی جاسکتی ہے۔ اس وقت یہ بات ثابت نہيں ہوپائی ہے کہ پلاسما کرونا وائرس کا مقابلہ کرپائے گا یا نہيں۔ تاہم چین میں 27،000 سے زیادہ افراد موجود ہیں جو اس وائرس سے زندہ بچ گئے ہیں اور جن سے پلاسما حاصل کیا جاسکتا ہے۔ شنگھائی میں کئی ڈاکٹرز اس تکنیک کی ٹیسٹنگ کررہے ہيں۔

ایچ آئی وی کی ادویات

کرونا وائرس کے باعث شدید تنفساتی امراض کے شکار افراد کو اس وقت فوری نگہداشت کی ضرورت ہے اور چین میں ڈاکٹرز پہلے سے موجود ادویات کے استعمال کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان میں ایچ آئی وی کے لیے پہلے سے منظورشدہ ادویات سرفہرست ہيں۔ شنگھائی میں واقع ایک ہسپتال نے 52 مریضوں میں لوپیناویر (lopinavir) اور ریٹوناویر (ritonavir) نامی ادویات کی ٹیسٹنگ کی ہے۔ امریکہ میں ان ادویات کا امتزاج کیلیٹرا (Kaletra) کے نام سے دستیاب ہے۔ اب تک تو مثبت نتائج سامنے نہيں آئے ہيں۔ تاہم دیگر ادویات کے استعمال کے متعلق مزید تحقیق کی جانے والی ہے۔ ان میں ٹروواڈا (Truvada) نامی دوا شامل ہے جو ایسے افراد کے لیے بنائی گئی ہے جو ایچ آئی وی کا شکار نہيں ہيں لیکن جنہيں اس مرض کا خطرہ ضرور ہے۔

ملیریا کی ادویات

سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی چند پوسٹس کے مطابق ہمارے پاس کرونا وائرس کا علاج ملیریا کی دوا کلوروکوئین (chloroquine) کی شکل میں پہلے سے موجود ہے۔ اب تک اس کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہيں آیا ہے۔ تاہم اس دوا کے کم قیمت اور بہت آسانی سے دستیاب ہونے کی وجہ سے چین میں اس پر تحقیق شروع کی جاچکی ہے۔ اب تک مریضوں کو پانچ دنوں تک روزانہ 400 ملی گرام کلوروکوئین پلایا جارہا ہے۔ ابتدائی نتائج کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ دوا نہایت موثر ثابت ہوسکتی ہے۔

تحریر: اینٹونیو ریگالیڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors

*

Top