Global Editions

گلوبل وارمنگ میں کمی کی پیش رفت پر جلد ہی پانی پھرنے والا ہے

اقوام متحدہ ایک ایسا ضابطہ عملدرآمد کرنے والے ہیں جس سے جہازرانی کی صنعت سے پیدا ہونے والی آلودگی میں تو کمی آئے گی، لیکن ساتھ ہی کلائیمیٹ چینج کی رفتار میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔

مختلف مطالعہ جات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر سال اربوں ٹن کاربن ڈائی آکسائيڈ خارج کرنے کے باوجود بحری جہازوں کی وجہ سے زمین کے درجہ حرارت میں مجموعی طور پر کمی ہوتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ کاربن ڈائی آکسائيڈ کے ساتھ ساتھ گندھک (sulfur) بھی خارج کرتے ہيں جو کرہ ہوا میں سورج کی روشنی بکھیرنے اور اس کی عکاسی کرنے والے بادلوں کی تشکیل میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ جہاز رانی کی صنعت ایک صدی سے زائد عرصے سے غیرارادی طور پر کلائیمیٹ انجنیئرنگ کے شعبے میں تجربات کررہی ہے۔ 2009ء میں منعقد ہونے والی ایک تحقیق کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے جہازرانی کی صنعت کی وجہ سے عالمی اوسط درجہ حرارت میں 0.25 ڈگری سنٹی گریڈ تک کی کمی ممکن ہے، اور اگر ایسا ہوجائے تو گلوبل وارمنگ میں کمی کی کوششوں میں قابل قدر پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔ لیکن جلد ہی یہ سب کچھ ختم ہونے والا ہے۔

اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزيشن (International Maritime Organization) کے 2016ء میں کیے جانے والے اعلان  کے تحت 2020ء تک بین الاقوامی بحری جہازوں کو گندھک کی وجہ سے پیدا ہونے والی آلودگی میں قابل قدر کمی لانے کی ضرورت ہے۔ شیل (Shell) اپنے صارفین کو جاری کردہ ایک کتابچے میں بتاتے ہيں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بحری جہازوں کے مالکان کو ایسے ایندھن استعمال کرنے ہوں گے جن میں گندھک کا تناسب موجودہ 3.5 فیصد کے بجائے صرف 0.5 فیصد ہو، یا ایسے ایکسہاسٹ کے صفائی کے سسٹمز نصب کرنے ہوں گے جو اس کمی کو ممکن بناسکيں۔

گندھک کا اوزون میں کمی اور تیزابی بارش میں بہت بڑا ہاتھ ہے، اور یہ تنفساتی امراض کی بھی وجہ بن سکتا ہے۔ اس کے اخراجات کو کمی کرنے کے فوائد تو بہت ہيں، لیکن Environmental Science & Technology نامی جریدے میں 2009ء میں شائع ہونے والے ایک پیپر کے مطابق، اس کے کافی نقصانات بھی ہیں۔ اس پیپر میں بتایا گیا ہے کہ گندھک کے اخراجات میں کمی کی صورت میں جہاز رانی کی صنعت کے باعث گلوبل وارمنگ میں اضافے کے پیچھے ایک نہيں بلکہ دو عناصر کا ہاتھ ہوگا: ایک کاربن ڈائی آکسائيڈ کا اخراج، اور دوسرا گندھک کے ڈائی آکسائيڈ کے اخراج میں کمی۔

کوئلہ جلانے کی وجہ سے پیدا ہونے والے گندھک کی آلودگی کے اثرات اس سے کچھ ملتے جلتے قسم کے ہيں۔ چند تحقیقات کے مطابق پچھلی دہائی کے دوران چین میں کوئلے کے استعمال میں اچانک اضافے کے سبب دنیا بھر میں گلوبل وارمنگ کے حالیہ رجحان کو کچھ حد تک کم کیا جاسکتا ہے (باوجود اس کے کہ کوئلہ عالمی درجہ حرارت میں مجموعی طور پر اضافے کا سبب ہے)۔

اس نئے قاعدے سے عالمی درجہ حرارت پر کیا اثر ہوگا؟ اس وقت اس بات کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ یونیورسٹی آف واشنگٹن میں کرہ ہوائی سائنسز کے پروفیسر روبرٹ ووڈ (Robert Wood) کا کہنا ہے کہ اس وقت نہ تو بادلوں کی فزکس اور کرہ ہوائی ذرات کے متعلق زیادہ معلومات موجود ہے اور نہ ہی جہاز رانی کی صنعت کی اس قاعدے کی تعمیل کے بارے میں یقین سے کچھ کہا جاسکتا ہے۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بحری جہاز راکھ حیسے دوسرے ذرات بھی خارج کرتے ہيں جو بادل کے قطروں کی تخلیق میں معاون ثابت ہوسکتے ہيں۔ سکرپس انسٹی ٹیوشن آف اوشنوگرافی (Scripps Institute of Oceanography) میں کرہ ہوائی سائنس کی پروفیسر لن رسل (Lynn Russell) کہتی ہیں کہ ایندھن سے گندھک ختم کرنے کے باعث ان ذرات کے حجم اور مقدار میں تبدیلی ممکن ہے، جس کی جہ سے بادلوں کی تخلیق بھی متاثر ہوگی۔

یہ تبدیلی کس نوعیت کی ہوگی؟ رسل کے مطابق اس کے بارے میں یقین سے نہيں کہا جاسکتا ہے، تاہم وہ یہ کہتی ہیں کہ قواعد میں تبدیلی کی وجہ سے درجہ حرارت میں مجموعی اضافے کا "امکان" ہے۔

اس شعبے میں تحقیق کے چند حامیوں کے مطابق اس تبدیلی کے سبب جیوانجنیئرنگ، یعنی موسم کو ٹھنڈا کرنے کی ارادی کوششوں کے متعلق سوچنے کا مختلف طریقہ ممکن ہوا ہے۔ جیوانجنیئرنگ زیادہ محفوظ طریقے سے اسی عمل کو جاری رکھنے کا طریقہ ثابت ہوسکتا ہے، جو اس وقت بحری جہاز غیرارادی طور پر کررہے ہيں۔

گندھک کے اخراجات دو طریقوں سے زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہيں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ گندھک ڈائی آکسائيڈ کے کرہ ہوا میں آکسیڈائيز ہونے کے بعد ایسے ذرات پیدا ہوتے ہيں جو سورج کی روشنی کو واپس خلاء کی جانب بھیجنے میں معاون ثابت ہوتے ہيں۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ گندھک کے ذرات ایک مرکز کی طرح کام کرتے ہيں جن کے اطراف بادل کے قطرے قائم ہوجاتے ہيں، اور بادلوں میں بھی سورج کی روشنی کی عکاسی کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

جیوانجنیئرنگ پر ریسرچ کرنے والے سائنسدانوں نے کلائمیٹ میں تبدیلی کو ممکن بنانے کے لئے دونوں طریقہ کار کا مطالعہ کیا ہے۔ البتہ ان کی تحقیق میں کم زہریلے ذرات کا استعمال کیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر، یونیورسٹی آف واشنگٹن میں ‏Marine Cloud Brightening Project سے وابستہ ریسرچرز کئی سالوں سے بادلوں کے قطروں کو تخلیق کرنے کے لیے ساحل سمندر کے پاس آسمان میں نمک کے ذرات چھڑکنے کے متعلق تحقیق کررہے ہیں۔ یہ سائنسدان پچھلے چند سالوں سے بحرالکاہل کے ساحل پر چھوٹے پیمانے پر تجربات کرنے کے لیے کئی لاکھ ڈالر جمع کرنے کی کوشش کررہے ہيں۔

رسل اور ووڈ دونوں ہی کے مطابق قاعدے میں تبدیلی کی وجہ سے ہوا میں موجود ذرات اور بادلوں کے آپس میں تعلقات کا مشاہدہ کرکے بنیادی موسمیاتی سائنس کے تجربات کرنے کا بھی موقع ملے گا۔ ووڈ کے مطابق اس سے موسم کی سیمیولیشنز کی درستی میں بھی اضافہ ہوگا، اور جیوانجنیئرنگ کو آگے بڑھانے کے متعلق بحث جاری رکھنے کے لیے مزید معلومات بھی حاصل ہوگی۔

تاہم یہ سائنسدانوں کی اس تحقیق کے لیے رقم جمع کرنے پر منحصر ہے، اور اس سیٹلائٹ سے مشاہدوں کی تعداد اور سطح کے سنسرز میں اضافہ ضروری ہیں۔ صورتحال میں کس قسم کی تبدیلی آئے گی؟ اس کا درست اندازہ اسی وقت لگایا جاسکتا ہے اگر اس تحقیق کو نئے قاعدے کے عملدرآمد ہونے سے پہلے شروع کردیا جائے۔

Marine Cloud Brightening Project کی پرنسپل ڈائریکٹر کیلی وینسر (Kelly Wanser) کے مطابق درجہ حرارت میں اضافہ خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے، لہذا 0.1 یا 0.2 ڈگری کے اضافوں پر بھی کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

لیکن کیا رقم حاصل کرنا ممکن ہوگا؟ اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہيں کہا جاسکتا ہے۔ بعض ممالک نے کلائمیٹ پر ریسرچ کے لئے مختص کردہ رقم میں اضافہ کردیا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی بادلوں کی نگرانی اور ہوا میں اڑنے والے ذرات کی نگرانی کرنے والے ناسا کے پروگرامز کی فنڈنگ میں کمی کی کوششوں سے صاف ظاہر ہے کہ امریکہ میں اس ریسرچ کے لیے عطیات حاصل کرنا کافی مشکل ثابت ہونے والا ہے۔

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors
Top