Global Editions

اس وقت توانائی کے اخراجات ختم کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہيں ہے

ہوائی جہاز کا سفر، جہاز رانی اور تخلیق کاری میں وافر مقدار میں کاربن پیدا ہوتا ہے، لیکن اب تک اس میں کمی لانے کا کوئی طریقہ سامنے نہيں آيا ہے۔

جب ماحولیاتی تبدیلی پر بات کی جاتی ہے تو عام طور پر صرف حیاتیاتی ایندھن استعمال کرنے والے پاور پلانٹس کے بجائے ونڈ ٹربائنز اور شمسی پینلز جیسی قابل تجدید ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لانے کا ذکر کیا جاتا ہے۔۔

تاہم سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والے ایک مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ ابھی بھی کچھ شعبہ جات ہیں جن میں گرین ہاؤس کے اخراجات کو روکنے کے کم قیمت طریقے موجود نہيں ہیں۔

ہوائی جہاز کا سفر، طویل فاصلوں پر مشتمل نقل و حمل اور جہاز رانی، سٹیل اور سیمنٹ کی تخلیق کاری اور توانائی کے شعبے کے باقی حصے عالمی توانائی اور صنعتی شعبہ جات کے 27 فیصد اخراجات کے ذمہ دار ہیں۔ سائنس میں شائع ہونے والے مطالعے کے مطابق ان ذرائع کو صاف کرنے کے لیے مزيد بہت تحقیق، جدت پسندی اور ہم آہنگی کی ضرورت پڑے گی۔

مطالعے کے شریک مصنف سٹیون ڈیوس (Steven Davis)، جو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اروین میں زمینی نظام کے سائنسدان بھی ہیں، کہتے ہيں "اگر ہم ماحولیاتی اہداف کے حصول کے متعلق سنجیدہ ہیں تو ہمیں ان مشکل شعبہ جات پر کام کرنا ہوگا۔" (اس مطالعے پر 30 سے زيادہ محققین نے کام کیا ہے، جس میں سٹینفورڈ یونیورسٹی کی سیلی بینسن (Sally Benson)، کارنیگی انسٹی ٹیوشن کے کین کیلڈیرا (Ken Caldeira)، کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے نیتھن لیوس (Nathan Lewis) اور ایم آئی ٹی کی جیسکا ٹرینکک (Jessika Trancik) اور ییٹ منگ چیانگ (Yet-Ming Chiang) شامل ہیں)۔

طیارہ رانی، ٹرکنگ اور جہاز رانی

لیتھیم آئن بیٹریوں اور ہائيڈروجن کے ایندھن سیلز کی قیمتوں میں کمی اور کارکردگی میں بہتری کی وجہ سے نقل و حمل کی صنعت کے بہت بڑے حصے کو، جو گاڑیوں، ہلکی ٹرکس اور سیمی گاڑیوں پر مشتمل ہے، صاف کیا جاسکتا ہے۔

تاہم بیٹریاں اور ایندھن استعمال کرنے والے سیلز ابھی بھی بہت بھاری اور مہنگی ثابت ہوتی ہیں، اور انہيں طویل فاصلوں، ہوائی جہاز کے سفر اور جہاز رانی میں استعمال نہيں کیا جاسکتا ہے۔ مطالعے کے مصنفین نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کم مقدار میں زيادہ توانائی فراہم کرنے کی وجہ سے لیکوئيڈ ایندھن کو ترجیح دی جائے گی۔

محققین نے کئی مختلف ایندھنوں پر تحقیق کی، جس میں ہائيڈروجن یا امونیا استعمال کرنے والے ایندھن، حیاتیاتی ایندھن، مصنوعی ایندھن اور مصنوعی پتوں سے پیدا کیے جانے والے شمسی ایندھن شامل تھے۔ تاہم ان میں سے کوئی بھی طریقہ گیس یا ڈیزل جتنا کم قیمت ثابت نہ ہوسکا۔

محققین کے مطابق اس شعبے پر خصوصی طور پر توجہ دی جانی چاہیے۔ اس ٹیکنالوجیز کی مدد سے شمسی اور ہوائی توانائی جیسی قابل تجدید توانائی کے لیے طویل المیعاد ذخیرہ بھی ممکن ہوسکتا ہے، جس سے بجلی کی فراہمی کا بہت بڑا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔

سیمنٹ اور سٹیل

سیمنٹ اور سٹیل تعمیراتی صنعت میں سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں، لیکن سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائيڈ بھی انہی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ کاربن کو سٹیل بنانے کے دوران خام لوہے کی مقدار میں کمی لانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ سیمنٹ کی تخلیق کاری کے دوران کیلشیم کاربونیٹ کو تیز درجہ حرارت پر علیحدہ کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں اقدام اخراجات کا باعث بنتے ہيں۔

ان دونوں صورتحالوں میں آلودگی میں کمی کے لیے یا تو ایسے سسٹمز استعمال کیے جاسکتے ہيں جو کاربن کو پودوں سے خارج ہونے سے پہلے ہی روک لیں، یا مکمل طور پر نئے حل تلاش کیے جاسکتے ہيں۔ مثال کے طور پر، سیمنٹ کو صاف کرنے کے لیے ایسے مواد استعمال کیے جاسکتے ہيں جو کاربن ڈائی آکسائيڈ کو روک کر علیحدہ کرلیں۔

تاہم اصل سوال اس کی لاگت کا ہے۔ سٹیل اور سیمنٹ کی زیادہ تر عالمی پیداوار غریب ممالک میں ہوتی ہے، جہاں کئی دہائیوں سے استعمال ہونے پلانٹس کی اپ گریڈ پر رقم خرچ کرنے کا جواز فراہم نہيں کیا جاسکتا ہے۔

مانگ کے مطابق بجلی کی پیداوار میں ردوبدل

ہوائی اور شمسی توانائی کے استعمال میں اضافہ تو ہورہا ہے، لیکن ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جب دھوپ نہ نکلی ہو یا ہوا نہ چل رہی ہو تو بجلی پیدا نہيں کی جاسکتی ہے۔ لہٰذا گرڈ سے مسلسل توانائی حاصل کرنے کے لیے ایسے پاور پلانٹس پر انحصار کرنا ہوگا جن میں بجلی کی مانگ کے مطابق پیداوار میں کمی یا اضافہ کرنے کی صلاحیت موجود ہوگی۔ اس وقت یہ ذمہ داری کاربن کے اخراجات کی وجہ بننے والے قدرتی گیس کے پلانٹس کی ہے۔

محققین کے مطابق اگر گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں اضافے کے بغیر اس مسئلے سے نمٹنے لیے کاربن کو روکنے کے بہتر سسٹمز، زيادہ لچک دار جوہری توانائی کے پلانٹس، زیادہ کم قیمت توانائی کے ذخائر، اور چوٹی کے اوقات پر بجلی کے استعمال میں تبدیلی لانے پر آمادہ صارفین کی ضرورت پڑے گی۔

تاہم جو بات نوٹ کرنے والی ہے وہ یہ ہے کہ اس پیپر میں توانائی کے صرف ان نظاموں پر بات کی گئی ہے جن میں اس وقت گرین ہاؤس گیس کی آلودگی کم کرنے کے طریقہ کار موجود نہيں ہيں۔ اس کے علاوہ، ہمیں زراعت کے شعبے سے اور جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے پیدا ہونے والے اخراجات میں کمی لانے کے بارے میں بھی بات کرنی چاہیے۔ نیز، ہمیں دستیاب ٹیکنالوجیز کے استعمال میں بھی اضافہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صاف بجلی کی پیداوار کی رفتار میں اضافہ ممکن ہوسکے۔

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors
Top