Global Editions

اعصابی امراض کو سمجھنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال

نام: ارچنہ وینکاترامن (Archana Venkataraman)
عمر: 33 سال
ادارہ: جون ہاپکنز یونیورسٹی (John Hopkins University)
جائے پیدائش: امریکہ

ارچنہ وینکاترامن مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے انسانی دماغ کا بہتر نقشہ اور اعصابی امراض کے علاج اور تشخیص کے بالکل نئے طریقے تلاش کررہی ہیں۔
کئی دہائیوں کی تحقیق کے باوجود ابھی تک ہمیں مرگی (Epilepsy)،آٹزم (Autism)،الزائمرز (Alzheimer’s) اور سکیزوفرینیا (Schizophrenia) جیسے امراض کے متعلق صرف بنیادی سمجھ بوجھ ہی ہے جس کی وجہ سے  زیادہ تر علاج میں تکے لگائے جاتے ہيں اور اکثر ناکام ثابت ہوتے ہیں۔
موجودہ امیجنگ ٹیکنالوجیز (Imaging Technologies)، جیسے الیکٹرو انسفیلوگرام یا ای ای جی (Electroencephalogram – EEG) ، اور فنکشنل میگنیٹک ریزونانس امیجنگ یا ایف ایم ار آئی (Functional Magnetic Resonance Imaging – FMRI)، کے اعداد و شمار کے ذریعے وینکاترامن ایسے ریاضی کے نمونے بناتی ہیں جو دماغی عملیات کے راز کھول کر ایسے علاج کی بنیاد فراہم کرتے ہیں جو کم متصرف اور بہت زیادہ مخصوص ہوں۔ ان کا سب سے بہترین کام مرگی کے علاج کی کوشش ہے جو عالمی سطح پر پانچ کروڑ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ مرگی کے قریب 30 فیصد مریضوں پر دوا اثر نہیں کرتی لہٰذا ان کو سرجری کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا صرف اسی صورت میں فائدہ ہوگا اگر دوروں کے آغاز کی جگہ کو دماغ کے کسی مخصوص حصے تک کامیابی سے محدود کی جا چکی ہو۔
وینکاترامن کا خیال ہے کہ ایسے ڈیٹا استعمال کرنے والے نمونے جو دوروں کے آغاز کی نشاندہی کریں، متصرف نگرانی کو محدود اور جراحی نتیجوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے دوروں کی نشاندہی کرنے والا ایلگورتھم (algorithm) تیار کیا ہے جس کی جون ہاپکنز کے طبی اعداد و شمار پر ٹیسٹنگ کی جا رہی ہے۔ یہ ایلگورتھم ای ای جی ڈیٹا اور ڈیپ لرننگ کے طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے مریض کے دماغ میں دورے کے آغاز کے وقت اور جگہ کا سراغ لگاتے ہیں۔

تحریر: جوناتھن ڈبلیو روزن (Jonathan W. Rosen)
مترجم: ماہم مقصود

Read in English

Authors

*

Top