Global Editions

ہم اب بھی درجہ حرارت 1.5ڈگری سنٹی گریڈ بڑھنے سے روک سکتے ہیں

نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں قدرتی ایندھن سے چلنے گاڑیاں، ہوائی جہازوں اور فیکٹریوں کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہوگی۔

ایک نئے مطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ دنیا اب بھی پیرس میں ہونیوالے ماحولیاتی تبدیلی کے معاہدے کے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے درجہ حرارت کو 1.5ڈگری سنٹی گریڈ سے بڑھنے سے روک سکتی ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ ہم تقریبا ًیقینی طور پر ایسا نہیں کریں گے۔

نیچر کمیونیکشن میں 15جنوری کو چھپنے والا تحقیقی پیپر آکسفورڈ، یونیورسٹی آف لیڈز اور دوسرے اداروں کے محقیقین نے چھاپا۔ اس مقالے کے مطابق اگر ہم فوری طور پر اپنے قدرتی ایندھن کے انفراسٹرکچر کو اس کی زندگی کے اختتام پر ریٹائر کر دیتے ہیں یعنی تمام کوئلے سے چلنے والے پلانٹس، کاریں،ہوائی جہاز اور فیکٹریاں بند کر دیتے ہیں تو64فیصد امکان ہے کہ ہم درجہ حرارت کو 1.5ڈگری سنٹی گریڈ سے نیچے روک سکتے ہیں۔

اس تناظر میں دنیا کو تمام سہولیات اور مشینوں کو صفر کاربن والے متبادل کے ساتھ تبدیل کرنا پڑے گا جیسے شمسی پلانٹس اور برقی گاڑیاں۔

اس اثر میں اس مطالعے نے روشنی ڈالی ہے کہ ہمیں اپنی معاشرتی عادات کو تبدیل کرنا پڑیں گی کیونکہ ہم قدرتی ایندھن کےمفید استعمال کے عادی ہو گئے ہیں۔ اگر ہم 2030 تک کاربن کا اضافہ کرتے رہتے ہیں تو 1.5ڈگری سنٹی گریڈ درجہ کا امکان کافی بڑھ جاتا ہے۔ اس صورت حال میں ہم اگر پھر گاڑیوں اور پاور پلانٹس کو جلدی ریٹائر بھی کر دیں تو بھی درجہ حرارت بڑھے گا۔

اس تحقیقی مقالےنے اس سوال کا صیح جواب نہیں دیا کہ آیا کہ قدرتی ایندھن کے تمام نئے انفراسٹرکچر کو روکنا عملی طور پرممکن ہوگا جو کہ تقریباً یقینی طور پر نہیں ہے۔ اس کی بجائے ہر طرف اشارہ یہ ہے کہ دنیا کاربن والے پاور سٹیشن ، گاڑیوں اور دیگر مشینوں کی آئندہ کئی سالوں تک تعمیر جاری رکھے گی۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق چینی کمپنیاں دنیا بھر میں سینکڑوں کوئلے کے پلانٹس کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں یا تعمیر کر رہی ہیں۔ بھارت نےکوئلہ سے چلنے والی کئی فیکٹریوں کے لئے سرمایہ کاری جاری رکھی ہے۔ اور الیکٹرک گاڑیاں کا امریکہ کی آٹوموبائل کی فروخت میں صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ وہاں اب بھی گیس سے چلنے ا ولیا یس یو وی ایز (SUVs)اور ٹرکوں کی ڈیمانڈ ہے۔

ایک اضافی چیلنج یہ ہے کہ معیشت کے گرین ہائوس گیسوں پر چلنے والے کچھ بڑے سیکٹرہیں جہاں توانائی کے متبادل نہیں ہیں بشمول ایوی ایشن، زراعت، سیمنٹ اور سٹیل۔ لہٰذا جب مطالعہ بتاتا ہے کہ ہم تھیوری میں 1.5ڈگری سنٹی گریڈ درجہ حرارت بڑھنے سے روک سکتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ حقیقت میں ہم اس میں سے گزریں گے۔ ہمارے موجودہ سیاسی، اقتصادی اور تکنیکی حقائق کے تحت اس تحقیق میں دیے گئے مقاصد کو حاصل کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔(خاص طور پر، دیگر محققین نے کہا ہےکہ موجودہ انرجی کا بنیادی ڈھانچہ دنیا میں تباہی لانے کے لئے کافی ہے۔)

لیکن اگر ہم 1.5،2یا 3 سنٹی گریڈ درجہ حرارت کو مس کرتے ہیں تو پیغام بڑا ہے: جتنی جلدی ہم قدرتی ایندھن سے باہر نکلتے ہیں ،اتنا ہی ہم نقصانات اور خطرات کو محدود کرسکتے ہیں۔

تحریر:جیمز ٹیمپل

Read in English

Authors

*

Top