Global Editions

ہم سب ہی مختلف جینز پر مشتمل ہيں

ایم پی آئی امیونوبائیولوجی اینڈ ایپی جینیٹکس، فرائبرگ
ایکس کروموسوم کی خصوصیات میں ایپی جینیٹک ریگولیشن کا مطالعہ کرنے کا بہترین ماڈل مل سکتا ہے۔

پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہونے والی آصفہ اختر 2020ء میں میکس پلینک (Max Planck) سوسائیٹی کے بائیولوجی اور میڈیسین (Biology and Medicine) محکمے کی پہلی خاتون بین الاقوامی نائب صدر منتخب ہوئیں۔ اختر کو 2008ء میں اپنے شعبے میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے یورپین لائف سائنس آرگنائزیشن (European Life Science Organization) کے ایوارڈ اور 2017ء میں ولہیلم فیلڈبرگ پرائز (Wilhelm Feldberg Price) سے نوازا جا چکا ہے۔

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کی مینیجنگ ایڈیٹر اریج مہدی نے آصفہ کے کام اور ایپی جینیٹکس (epigenetics) کے مستقبل کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے ان کے ساتھ ایک نشست کی۔

 آپ کی سائنس میں دلچسپی کب پیدا ہوئی؟

مجھے سکول کے زمانے سے ہی سائنس کا بہت شوق تھا۔ مجھے خاص طور پر بائیولوجی میں دلچسپی تھی۔ ہمارا جسم کس طرح کام کرتا ہے؟ کیا ہم اس کے کام کو سمجھ سکتے ہيں؟ جیسے جیسے میری تعلیم میں اضافہ ہوتا گیا، مجھے کروموسومز اور خلیوں اور جینز اور ان کے نظاموں کے متعلق زيادہ معلوم ہوتا گیا اور میری تعلیمی ریسرچ کے شعبے میں دلچسپی بڑھتی گئی۔

 آپ نے خاص طور پر ایکس کروموسوم کا ہی انتخاب کیوں کیا؟

ایکس کروموسوم کی خصوصیات میں ایپی جینیٹک ریگولیشن کا مطالعہ کرنے کا بہترین ماڈل مل سکتا ہے۔ اگر ہم کروموسومز کی تعداد کی بات کریں تو ہم سب ہی 46 کروموسومز رکھتے ہيں، جو 22 آٹوسومز کے جوڑوں اور ایک جنس کا تعین کرنے والے کروموسومز کے جوڑے پر مشتمل ہیں۔ خواتین کے پاس دو ایکس کروموسومز جبکہ مردوں کے پاس ایک ایکس اور ایک پائی کروموسوم ہوتے ہیں۔ باقی تمام کروموسومز مردوں اور عورتوں میں ایک جیسے ہی ہوتے ہيں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خواتین کے پاس مردوں کے مقابلے میں ایک ایکس کروموسوم زيادہ ہوتا ہے۔ تو کیا وجہ ہے کہ اس فرق کے باوجود مردوں اور عورتوں کے طور طریقے ایک ہی جیسے ہیں؟ ہم مردوں سے سو فیصد مشابہت تو نہيں رکھتے، لیکن ہم عام طور پر ان کی طرح ہی سوچتے ہيں، کام کرتے ہيں، احساسات رکھتے ہیں، اور چیزوں کو ایک ہی طرح سے دیکھتے ہيں۔ یہ سب کچھ کس طرح ہوتا ہے؟ ایکس کروموسوم اس وجہ سے بہت دلچسپ ہے کیونکہ خواتین میں دو ایک جیسے ایکس کروموسومز ہونے کے باوجود، وہ اپنی نشونما کے ابتدائی مراحل میں بظاہر بغیر کسی وجہ کے ان میں سے ایک ایکس کروموسوم کو بند کر دیتی ہیں۔

 ہم سب ہی مختلف قسم کے جینز سے مل کر بنے ہيں۔ مثال کے طور پر، ممکن ہے کہ ہمارے دماغ کے ایک حصے میں ایک کروموسوم فعال ہو لیکن دوسرے حصے میں اسی کروموسوم کو غیرفعال کردیا گيا ہو۔ ہمارے پورے جسم میں اس قسم کے پیٹرنز نظر آتے ہیں۔

کیلیکو بلیوں کی مثال لے لیں۔ ان کے بال نارنجی اور کالے رنگ کے ہوتے ہيں۔ یہ رنگ متعین کرنے والا جین ان کے ایکس کروموسوم میں واقع ہے، اور اس کے متعلق فیصلہ بلی کے بچپن میں ہی ہوگیا تھا، اور اب یہ فیصلہ کئی نسلوں تک یاد رکھا جائے گا۔ ایپی جینیاتی ماہرین جاننے کی کوشش کرتے ہيں کہ اس قسم کے فیصلوں کو کس طرح کئی نسلوں تک یاد رکھا جاتا ہے اور ایکس کروموسومز میں جینز کی بالکل ایک جیسی تعداد کے پیش نظر ان فیصلوں کو کس طرح ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔

 کیا جینیاتی سطح پر پھل مکھیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟

بالکل۔ ایکس کروموسومز اور خوراک کے مسائل سے انسان ہی نہيں بلکہ پھل مکھیوں جیسے آرگینازمز بھی متاثر ہوتے ہيں۔ پھل مکھیاں ہم سے بہت چھوٹی ہوتی ہیں، لیکن ان میں بھی ہماری طرح جنسی اور ایکس کروموسومز کے فرق پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک بہت غیرپیچیدہ ماڈل ہے اور اسی لیے اگر آپ اس پر عبور حاصل کرلیں تو آپ کو سمجھ آجائے گا کہ جین کی خوراکوں کو کس طرح ریگولیٹ کیا جاسکتا ہے۔ مکھیوں میں جنریشن کا وقت محض دو ہفتے ہوتا ہے اور ان کا جینیاتی ماڈل نہایت خوبصورت ہے، لِہٰذا ہم جین ریگولیشن کی مدد سے جان سکتے ہيں کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔

مکھیوں اور انسانوں کے کروموسومز میں ایک اہم فرق یہ ہوتا ہے کہ مادہ مکھیوں کے بجائے نر مکھیوں میں صرف ایک ایکس کروموسوم پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، مادہ مکھیوں کے مقابلے میں نر مکھیاں اپنے اکلوتے ایکس کروموسوم سے دو گنا زيادہ کام کرواتے ہیں۔ اس سے ایک بڑی دلچسپ صورتحال سامنے آتی ہے۔ انسانوں میں عورتیں مردوں کی برابری میں اپنا ایک ایکس کروموسوم بند کردیتی ہیں، لیکن اگر ہم مکھیوں کی بات کریں تو نر مکھیاں، جن کے پاس صرف ایک ہی ایکس کروموسوم ہوتا ہے، مادہ مکھیوں کی برابری کے لیے اس ایک کروموسوم سے دگنا کام کرواتے ہيں۔

 یہ سب کچھ کیسے ہوتا ہے؟ ہم اس کا مطالعہ کرنے کے لیے مختلف ماڈلز استعمال کرتے ہيں۔ ہم نے اس پر تحقیق کرنے کے لیے مکھیوں اور چوہے اور حال ہی میں ایک انسانی مریض پر نظر ڈالی ہے۔ اس سے ہمیں انسانی مریضوں میں جینز کی شکل بگڑنے اور کسی بھی خلاف معمول بات کی وجوہات کا مطالعہ کرنے کا بہت اچھا موقع ملتا ہے۔ مکھیوں سے حاصل کردہ اسباق اس وجہ سے اہم ہیں کیونکہ وہ انسانی سسٹمز کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے میں بہت معاون ثابت ہوتے ہیں۔

کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہيں کہ اس تحقیق سے کس طرح فائدہ اٹھایا جا رہا ہے؟ مثال کے طور پر، کیا ہم اس کی مدد سے دائمی درد کے شکار افراد کو آرام پہنچانے کے لیے سگنلز آن یا آف کرسکتے ہيں؟

دائمی درد تو صرف ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ اس جیسی کئی بیماریں ہیں۔ دائمی مرض کے شکار افراد کے اجسام میں بہت سوزش نظر آتی ہے، جس کا تعلق جین کے اظہار کے پروگرامز سے ہوتا ہے۔ اور جین کے اظہار کے پروگرامز کا تعلق ایپی جینیٹک ریگولیشن سے ہے۔ اگر ہم یہ سمجھنے میں کامیاب ہوجائيں کہ مختلف اقسام کے خلیوں میں ایپی جینیٹک عناصر کس طرح کام کرتے ہيں اور کس حد تک کردار ادا کرتے ہيں تو ہم یقیناً دائمی درد جیسے امراض کے شکار افراد کی مدد کرسکيں گے۔ ہم ایپی جینیٹک ریگولیشن کی لچک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مخصوص امراض کے شکار افراد کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے جین کے اظہار کے پروگرامز ترمیم کرسکتے ہيں اور یہی وجہ ہے کہ ایپی جینیکٹک تھیراپی بہت امید افزا ثابت ہوسکتی ہے۔ تاہم اس سب کو ممکن بنانے کے لیے ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سب ہوتا کس طرح ہے۔ اس وقت ایپی جینیٹکس کا بہت چرچا ہے، لیکن میرے خیال سے اس کی بنیادوں پر کام مکمل کرنا زیادہ ضروری ہے۔

صنفی تنوع سے صرف میکس پلینک سوسائٹی ہی نہيں بلکہ پورے معاشرے کو فائدہ پہنچے گا۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں سائنس کے شعبے میں خواتین کی شمولیت میں اضافے کے لیے ہر ممکنہ حد تک کوشش کرنی چاہیے۔ دنیا میں کئی لائق فائق خواتین ہیں۔ ہمیں بس انہيں تلاش کرنے کے لیے زيادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

اس وقت میکس پلینک سوسائيٹی میں کونسی ایسی ریسرچ ہورہی ہے جس کے بارے میں آپ سب سے زيادہ پرامید ہيں؟

مجھے ارتقاء کے موازنے میں بہت زيادہ دلچسپی ہے، خاص طور پر مکھیوں کے بنیادی ماڈلز کے حوالے سے۔ اگر آپ انسانی جینوم کا ڈروسوفیلیا (drosophilia) کے جینوم سے مقابلہ کریں تو آپ کو نظر آئے گا کہ 75 فیصد جینز محفوظ رہ جاتے ہيں۔ مکھیوں میں انسانوں کے مقابلے میں اضافی جینز کی تعداد کم ہے۔ مثال کے طور پر، انسانوں میں کوئی جین اگر تین دفعہ نظر آرہا ہو تو وہ مکھیوں میں صرف ایک دفعہ نظر آرہا ہوگا۔ اگر آپ مکھیوں کے جسم سے اس جین کو نکالیں تو آپ کو نتائج فوری طور پر نظر آجائيں گے، لیکن اگر آپ اسے کسی انسان سے کوئی جین نکال دیں تو آپ کو بہت مشکل پیش آئے گی۔

اس وقت مجھے اس چیز میں بھی بہت زيادہ دلچسپی ہے کہ ہم اپنے کام کا پیمانہ کس طرح مزيد وسیع کرسکتے ہيں اور مناسب سسٹمز کس طرح استعمال کرسکتے ہیں۔ ماڈل سسٹمز کے ساتھ کام کرنا اہم تو ہے لیکن کسی مرض کو پوری طرح سمجھنے کے لیے اس کے خلیوں پر کام کرنا بہت ضروری ہے۔ اسی لیے ہم ایسے ڈاکٹروں کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہيں جنہوں نے ان مریضوں کی نشاندہی کی ہو جن میں ہمارے مطلب کے پروٹینز موجود ہوں، تاکہ ہم اپنے کام کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ ہم مستقبل میں اسی سمت کی جانب بڑھنے والے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہماری ریسرچ اسی صورت میں سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگی اگر ہم بنیادی سمجھ بوجھ کا استعمال کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ہم اس سے عملی ریسرچ میں کس طرح مستفید ہوسکتے ہيں۔

میرا خیال ہے کہ اگر پاکستان کو آگے بڑھنا ہے تو اسے سائنس اور تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ جرمنی کی مثال لے لیں۔ یہاں سائنس کو بہتر مستقبل کے لیے سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے، اور اسی لیے جرمنی میں سائنس کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر پاکستان میں بھی ایسے فورمز ہوں جہاں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے کام کو دیکھ سکیں اور اس سے سیکھ سکیں تو یہ بہت اچھا ہوگا۔

آپ سائنس کے شعبے میں صنفی مساوات کی بہت بڑی حامی ہيں۔ بحیثیت میکس پلینک سوسائٹی کی بائیولوجی اور میڈیسن کے محکمے کی وی پی، آپ اس سلسلے میں کیا اقدام کررہی ہيں؟

صنفی تنوع سے صرف میکس پلینک سوسائٹی ہی نہيں بلکہ پورے معاشرے کو فائدہ پہنچے گا۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں سائنس کے شعبے میں خواتین کی شمولیت میں اضافے کے لیے ہر ممکنہ حد تک کوشش کرنی چاہیے۔ دنیا میں کئی لائق فائق خواتین ہیں۔ ہمیں بس انہیں تلاش کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ تعلیمی میدان میں دیکھيں تو پی ایچ ڈی لیول تک تو مردوں اور خواتین کی تعداد تقریباً برابر ہے، لیکن پیشہ ورانہ میدان میں خواتین کی تعداد کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ میں اس بات سے انکار نہيں کرتی کہ خواتین کے لیے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ گھر سنبھالنا بہت مشکل ہے۔ لیکن ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے، ان کے ہر ایک قدم کو سراہنے کی ضرورت ہے، اور انہيں یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ اگر انہيں راستے میں مشکلات کا سامنا ہو تو ان کا اعتراف کرنے میں کوئی حرج نہيں ہے۔

جب میں نے میکس پلینک سوسائٹی میں شمولیت اختیار کی، اس وقت سے اب تک خواتین کی تعداد میں بہت زيادہ اضافہ ہوا ہے۔ ہم عورتوں کی شمولیت میں اضافے کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔ پچھلے 10 سالوں کے دوران میکس پلینک سوسائٹی میں خواتین کی تعداد میں واضح اضافہ نظر آیا ہے اور ہم چاہتے ہيں کہ یہ رجحان اسی طرح جاری رہے۔ میرے طالب علمی کے زمانے میں جتنی خواتین اس شعبے میں تھیں، آج 20 سال بعد اس سے کہیں زيادہ ہيں۔ مجھے یہ بھی نظر آرہا ہے کہ لوگوں کی ذہنیت تبدیل ہورہی ہے۔ یہ ایک بہت مثبت رجحان ہے اور ہمیں اسے فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ نہ صرف ایک نائب صدر بلکہ ایک خاتون سائنسدان کی حیثیت سے میری کوشش یہی ہوگی کہ ہم اس مقصد کو آگے بڑھائيں، اور خواتین کی شمولیت میں جتنا زيادہ اضافہ ہوگا، میں خود کو اتنا زيادہ کامیاب تصور کروں گی۔

ان طلباء کو جو اس قسم کے کاموں یا اس قسم کی تحقیق کرنے والے لیبس میں دلچسپی رکھتے ہيں، آپ کونسی صلاحیتیں پیدا کرنے کا مشورہ دیں گی؟

میرا خیال ہے کہ سائنسدان بننے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے سب سے ضروری چیز ہے تجسس۔ اگر سیکھنے کی خواہش ہوگی تو آپ تکنیکی چیزیں خودبخود سیکھ جائيں گے۔ کم از کم میرے لیے سائنسدان بننا شوق کی بات ہے۔ آپ کے پاس یہ سب کچھ کرنے کی خواہش ہونا ضروری ہے۔ یہ ایسا کام نہيں ہے جسے دفتری اوقات کے بعد بند کیا جاسکتا ہے۔ میں ایک نوکری کی طرح شام کے پانچ بجے اسے دماغ سے نکال نہيں سکتی۔

بائیومیڈیکل ریسرچ کے پراجیکٹس میں ہم ایسے نئے شعبہ جات کا انکشاف کرنے کی کوشش کرتے ہيں جن میں کسی نے پہلے کوئی کام نہيں کیا اور جہاں ہمیں معلوم نہيں ہوتا کہ وہ آگے جا کر کیا شکل اختیار کريں گے۔ آپ کو اپنا ذہن کھلا رکھنے اور اپنا رخ بدلنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ اس کے لیے جدت پسندی سے کام لینے کی ضرورت ہے، جو آسان کام نہیں ہے۔ شروع میں یہ سب کچھ بہت مشکل ثابت ہوسکتا ہے، اور اسی لیے آپ کو بیک وقت جدت پسند ہونے کے علاوہ اپنا ذہن کھلا رکھنے کی ضرورت ہے۔

کیا میکس پلینک سوسائٹی پاکستان میں کسی کے ساتھ کام کررہی ہے؟

 ابھی فی الحال ہم پاکستان میں کسی کے ساتھ کام نہيں کررہے، لیکن اگر ہمیں موقع ملے گا تو ہم ضرور ایسا کریں گے۔ عام طور پر ہم مختلف ممالک پر انحصار کرتے ہيں، لیکن بعض دفعہ ہم پارٹنر پروگرامز، ایکسچینج پروگرامز وغیرہ پر بھی کام کرتے ہيں جنہيں مختلف شعبہ جات میں آگے بڑھایا جاتا ہے اور جو کسی ملک کے ساتھ جڑے نہيں ہوتے۔ تاہم سائنسدانوں کی آنے والی نسلوں کے لیے یہ یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ میکس پلینک کا بین الاقوامی پی ایچ ڈی کا پروگرام پوری دنیا کے لیے کھلا ہے، لیکن ہم صرف بہترین صلاحیت کا مظاہرہ کرنے والے سائنسدانوں کو ہی داخلہ دیتے ہيں۔

میرا خیال ہے کہ اگر پاکستان کو آگے بڑھنا ہے تو اسے سائنس اور تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ جرمنی کی مثال لے لیں۔ یہاں سائنس کو بہتر مستقل کے لیے سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے، اور اسی لیے جرمنی میں سائنس کو بہت اہمیت دیی جاتی ہے۔ اگر پاکستان میں بھی ایسے فورمز ہوں جہاں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے کام کو دیکھ سکیں اور اس سے سیکھ سکیں، تو یہ بہت اچھا ہوگا۔ لیکن سب سے پہلے تو اس کے لیے دلچسپی کے علاوہ لوگوں کو ذہنی طور پر تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں اس کے لیے انفراسٹرکچر بھی درکار ہوگا۔ اگر ہمارے پاس انفراسٹرکچر ہی نہيں ہوگا تو ہم کچھ بھی نہيں کرسکیں گے۔ پاکستان میں لائق لوگوں کی کمی نہيں ہے۔ اگر ہم چاہيں تو بہت کچھ ہوسکتا ہے۔

Read in English

Authors

*

Top