Global Editions

ویمو کی خودکارگاڑیوں کومحفوظ بنانے کی ایک غیر معمولی کوشش

ایک تخروپن خود کار گاڑیوں کی حالتوں کا تجربہ کرتا ہے جسے حقیقت میں کرنا بہت خطرناک ہے۔

آپ بحث کر سکتے ہیں کہ ویمو،جو الفابٹ کی سیلف ڈرائیونگ گاڑیوں کی سبسڈری ہے، کے پاس سب سے محفوظ خودکار کاریں ہیں۔ اس نے یقینی طور پر سب سے زیادہ میل طے کیے ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں اوبراور ٹیسلا کےابتدائی نظام میں پیش آنے والے سنگین حادثات نے جدید ٹیکنالوجی پرعوامی اعتماد کو کچل دیا ہے۔ اس عوامی اعتماد کو بحال کرنے کے لئے ان کو حقیقی سڑکوں پر ڈالنا کافی نہیں ہے۔

لہٰذا آج ویمو نے صرف یہ اعلان نہیں کیا کہ اس کی گاڑیوں نے سنہ 2009 سے لیکر اب تک 10ملین میل طے کر لیا ہے۔ اس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اب اس کےسافٹ ویئر ایک حقیقی دنیا کے تخروورژن میں 24گھنٹےاتنا فاصلہ طے کر لیتے ہیں جو کہ 2,5000کاروں کے24گھنٹے اور سات دنوں کے مساوی چلنے کے برابر ہے۔ ویمو نے مجموعی طور پر 6 ارب میل سے زائد مجازی فاصلہ طے کر لیا ہے۔

فرم کے سی ٹی او دمتری ڈالگوو کا کہنا ہے کہ یہ مجازی ٹیسٹ ٹریک ویمو کی گاڑیوں کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں ناقابل یقین حد تک اہم ہے۔ یہ چیزیں انجینئروں کو جدید ترین سافٹ ویئر ز کو نئے حالات میں ٹیسٹ کرنے کی اجازت دیتی ہیں بشمول ان کے جو کہ حقیقی سڑکوں پر رونما نہیں ہوتے۔ اس سے یہ بھی ممکن ہوتا ہے کہ ان حالات کا بھی جائزہ لیں جن کو حقیقی طور پر چیک کرنا بہت خطرناک ہو گا جیسا کہ بہت زیادہ رفتار میں چلتی بے ہنگم گاڑیاں۔
ڈالگوو کا کہنا ہے کہ " ،فٖرض کر لیں کہ آپ ایک صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں جس میں ایک شخص گاڑی سے چھلانگ لگا کر بھری ٹریفک میں سڑک پر چلنا شروع کر دیتا ہے۔ اس چیز کو حقیقی دنیا میں ٹیسٹ کرنا خطرناک ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں سمیلیٹرز ناقابل یقین حد تک طاقتور ہیں۔ "

انسانی ڈرائیوروں کے برعکس، خود کار کاریں دنیا کے حقیقی علم کی بجائے تربیت والے ڈیٹاپر انحصار کرتی ہیں۔ لہٰذا وہ آسانی سےان واقف صورتحالوں میں الجھن کا شکار ہو سکتی ہیں۔

لیکن مشین لرننگ کے نظام کو ٹیسٹ کرنا آسان نہیں ہے جو کہ پیچیدہ ہیں اور مختلف صورتحالوں میں ان کا اندازہ لگانا مشکل ہو سکتا ہے۔ گاڑیوں کے لئے مجازی دنیا میں وسیع پیمانے پر قابل استعمال ڈیٹا جمع کرنا ان نظاموں کی تربیت میں مدد دیتا ہے۔

خودکار گاڑیوں میں سپشلائزیشن کرنے والے مشی گن یونیورسٹی کےاسسٹنٹ پروفیسر رامانارین ویسوڈین کہتے ہیں، "سوال یہ ہے کہ آیا تخروپن پر مبنی ٹیسٹنگ سچ میں تمام مشکل کو حل کرنے والے معاملات پر مشتمل ہے جوڈرائیونگ کے چیلنج میں درپیش آتے ہیں۔"

ڈرائیونگ میں درپیش نایاب چیلنجز کوتلاش کرنے کے لئے ویمو ٹیم ایک ایسے نقطہ نظر کا استعمال کرتی ہے جس کو "فزنگـ " کہا جاتا ہے۔  یہ اصطلاح کمپیوٹر سیکورٹی سے مستعار لی گئی ہے۔ فزنگ ایک ہی تخروپن کے ذریعے چل رہا ہوتا ہے جس میں ہر وقت بے ترتیب مختلف حالتیں شامل کی جاتی ہیں تاکہ حادثات کا سبب بنے والے معاملات کو چیک کیا جا سکے۔ ویمو نےایسے بھی سافٹ ویئر تیار کیے ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ گاڑیوں کے تخروپن آرام دہ اور پرسکون رویے سےمثال کے طور پر دور نہ ہوں۔

اصلی اور تخروپن ڈرائیونگ کےڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے علاوہ، ویمو اپنی گاڑیوں کو غیر معمولی اور عجیب ڈرائیونگ کی صورتحال میں چیک کرتا ہے۔مرکزی کیلی فورنیا میں کیسل ایئر فورس بیس میں ایک ٹریک پر ٹیسٹ کرنے والے افراد گاڑیوں پر ہر قسم کی چیزوں کو پھینک دیتے ہیں تاکہ انہیں الجھن کا شکار کیا جا سکے: جنگلی ہالووین کے کپڑوں میں ملبوس سڑک کو پار کرنے والے افراد سے لیکر ٹرکوں کے پیچھے سے گرنے والے اشیا تک ۔ان کے انجینئروں نےمرکزی کنٹرول سسٹم میں پاور لائنوں سے تاریں کاٹ کران کاروں کو چیک کیا ہے تاکہ وہ اس بات کو یقینی بنا سکیں کہ اس صورتحال میں یہ ٹھیک حالت میں گرتی ہیں۔

ویمو ترقی کر رہی ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں یہ پہلی ایسی کمپنی بنی جس نےحفاظتی ڈرائیوروں کو خود کار گاڑیوں سے ہٹا دیا۔. فینکس، ایروزینا میں تقریباً 400 افراد اپنی روزمرہ ڈرائیو کے لئے ان کی حقیقی خودکار روبوٹیکسیوں کو استعمال کررہے ہیں۔تاہم فینکس خود کار گاڑیاں کے لئے ایک کافی سیدھا ماحول ہے۔ بکھری ہوئی جگہوں اور برف سے ڈھکےمضافاتی علاقے جیسا کہ بوسٹن ٹیکنالوجی کے لئے بہت بڑا قدم ہونگے۔

ویسوڈیوان کا کہنا ہے،"میں یہ کہتا ہوں کہ فینکس میں ویمو کو چلانا مشی گان یا ساں فرانسکو کے برعکس زیادہ سپوتنک کی طرح لگتا ہے جو کہ میرے خیال میں ایک اپالو مشن کے قریب ہے۔"

ویمو اور دیگر خود کار ڈرائیونگ کی کمپنیوں کو درپیش صورتحال اصل میں حقیقی اور مصنوعی انٹیلی جنس کے درمیان موجود خلا کی صاف نشاندہی کرتی ہے۔ اصلی اور مجازی ٹیسٹنگ کے کئی بلین میلوں کے بغیر، خودکار کاریں کسی بھی غیر متوقع صورتحال میں مسائل کا شکار ہو سکتی ہیں۔ اور ویموکی طرح کمپنیاں اس قسم کی غیریقینی صورتحال کا سامنا نہیں کر سکتیں۔

تحریر: ول نائٹ (Will Knight)

Read in English

Authors
Top