Global Editions

ڈرون جوپچاس میل کی رفتار سے چلنے والے ٹرک پر بھی اتر سکتا ہے

ڈرونز کے کارناموں سے اب تو ہر کوئی آگاہ ہے۔ ڈرونز اب کئی ممالک میں بچوں کے کھلونوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں تاہم ان ڈرونز کو کاروباری مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ امریکہ میں اس حوالے سے چند اصول وضوابط تیار کئے گئے ہیں تاہم ان کے باوجود ڈلیوری ڈرونز عمل میں نہیں لائے جا سکے۔ ڈلیوری ڈرونز کے لئے محدود حیطہ عمل ان کی اس شعبہ میں کارکردگی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں ایک اور سوچ کو روبہ عمل لانے پر غور کیا گیا کہ ڈلیوری ڈرونز کو اس وقت استعمال میں لایا جائے کہ جب مطلوبہ مقام نصف میل کے قریب رہ جائے اور ڈرون کو ڈلیوری ٹرک سے ہی اڑایا جائے، سامان کی ڈلیوری کے بعد ڈرون واپس ٹرک پر آئے اور اس کو دوبارہ چارج کیا جائے۔ اس طرح چلتے ہوئے ٹرک سے ڈرون کی پرواز اور چلتے ٹرک پر ڈرون کی لینڈنگ نے اس آئیڈیا کو قابل پزیرائی بنا دیا ہے۔ اسی طریقے سےڈلیوری ٹرک کو سامان کی ترسیل کے لئے کسی بھی مقام پر رکنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی۔ چلتی ہوئی گاڑی سے اڑان بھرنا ایک سادہ سا عمل ہے تاہم چلتی ہوئی گاڑی پر لینڈ کرنا اتنا سادہ اور آسان عمل نہیں ہے۔ اس ضمن میں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈرون کو چلتی گاڑی پر اترنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے؟ آج اس سوال کا جواب موجود ہے۔ کینڈا کے شہر مانٹریال کے موبائل روبوٹکس اینڈ آٹونومس سسٹم لیبارٹری کے Alexandre Borowczyk اور ان کے چند ساتھیوں نے اس مقصد کے لئے کم لاگت والے سینسرز کو استعمال کرتے ہوئے ایک سادہ سا نظام وضع کیا ہے جو خودکار ڈرونز کو چلتی ہوئی گاڑی پر اترنے کے قابل بناتا ہے۔ اس نظام کے تحت لینڈنگ پیڈ کو ٹو ڈی بار کوڈ کی مدد سے مارک کیا جاتا ہے جسے AprilTag کا نام دیا گیا ہے اور اس کو موبائل فون سے منسلک کیا گیا ہے جو جی پی ایس کی مدد سے حرکت میں ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی اور کوارڈینیشن کرتا ہے۔ کواڈکوپٹر میں بھی اس اپنا جی پی ایس نظام اور اندرونی پیمائشی نظام موجود ہوتا ہے اور تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے جگہ کا تعین کرتا ہے۔ ان میں کیمرے بھی نصب ہوتے ہیں اور اس میں چپ بھی موجود ہوتی ہے جو تصاویر کی پراسیسنگ اور خط پرواز کی نشاندہی کرتی ہے۔ خودکار ڈرونز کی لینڈنگ دو مراحل میں ہوتی ہے اس کے لئے طیارے میں موجود کیمرے کی مدد سے بار کوڈ کی نشاندہی کی جاتی ہےاور اس کو استعمال کرتے ہوئے مقررہ مقام کی نیویگیشن ممکن ہوتی ہے اور پھر گاڑی کی چھت پر مقررہ مقام پر لینڈنگ کی جاتی ہے۔ اس حوالے سے الیگزینڈر اور ان کی ٹیم کی جانب سے کئے جانیوالے تجربات کے نتائج واضح ہیں۔ تحقیق کاروں نے اس نظام کے تحت مختلف رفتار سے چلنے والے گاڑی پر کواڈکوپٹر کی لینڈنگ کرائی۔ اس حوالے سے انکا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے تجربات میں تیس میل فی گھنٹہ سے پچاس میل فی گھنٹہ تک کی رفتار سے چلنے والی گاڑیوں پر کواڈکوپٹر کی لینڈنگ کے تجربات کئے جو بہت کامیاب رہے۔ ہمارے مرتب کئے جانیوالے نتائج ہماری کامیابی کے بارے خود بول رہے ہیں۔ ان تجربات کی کامیابی سے ڈرونز کو سامان کی ترسیل کے لئے استعمال کئے جانے کے حوالے سے دیکھے گئے خواب کی تکمیل ممکن ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ اب جلد ہی ڈرونز کے ذریعے سامان کی ترسیل ہوتی دیکھ سکیں۔

Emerging Technology from the arXiv

Read in English

Authors
Top