Global Editions

اس پر بھی توجہ دیجیے

ویئر ایبل ڈیوائسز کے بارے میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ یہ ہمیں زیادہ سمارٹ اور صحت مند بنانے کے لیے مفیدثابت ہو سکتی ہیں۔ ان ڈیوائسز کے بارے میں یہ بھی تصور کیا جاتا ہے کہ ان کی مدد سے انسانی صحت کے بارے میں وہ معلومات بھی حاصل ہو جاتی ہیں جنہیں اس سے پہلے حاصل کرنا مشکل یا ناممکن خیال کیا جاتا تھا تاہم ویئر ایبل دور کا ہراول دستہ جسے ایکٹویٹی ٹریکر کہتے ہیں اپنی افادیت ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ ان ڈیوائسز کو اس وقت لاکھوں افراد استعمال کر رہے ہیں تاہم اس کی مدد سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ آپ روزانہ کتنے قدم چلے ہیں لیکن یہ آپ کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔

اس کے باوجود بھی یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ سال 2020ء تک دنیا بھر میں ایک دوسرے سے ڈیجیٹلی کونیکٹڈ ڈیوائسز کی تعداد ایک ٹریلین تک پہنچ جائے گی۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں؟

اب ہم لائف سٹائل ایپلی کیشنز کے بجائے میڈیکل ایپلی کیشنز کی جانب بڑھ رہے ہیں جو ہر طرح بیماری کو مانیٹر کر سکتی ہیں۔ ایک کم قیمت کا فنگر ٹپ سینسر نہ صرف آپ کی ای سی جی کر سکتا ہے بلکہ اس ای سی جی کی مکمل جانچ یا تجزیہ بھی کر سکتا ہے۔ حال ہی میں ایف ڈی اے نے اس چھوٹی سی کنزیومر ڈیوائس کواجازت نامہ جاری کر دیا ہے۔ اس آلے کی مدد سے صرف امریکہ بھر میں عارضہ قلب میں مبتلا بیس لاکھ سے زائد افراد کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ ایسی ڈیوائسز بھی دستیاب ہیں جنھیں آسانی کے ساتھ انسانی جلد پر چپکایا جا سکتا ہے اور اس کی مدد سے دل کی دھڑکن، خون میں آکسیجن کی مقدار اور تنفس کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ مارکیٹ میں ایسی گھڑیاں بھی دستیاب ہیں جن کی مدد سے صارف کا بلڈ پریشر مسلسل ریکارڈ کیا جا سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے جسم میں شوگر لیولز کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ ایسے سینسرز کا کلسٹر بھی تیار کیا جا رہا ہے جس کی مدد سے دمہ، ڈیپریشن، ہارٹ فیلیئر، حرکت پزیری میں کمی، بے خوابی سمیت کئی امراض کو مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔

معروف کمپنی ایپل کی جانب سے متعارف کی جانے والی سمارٹ واچ کے بارے میں بھی کئی افراد اس کی کارکردگی کے حوالے سے شکوک کا شکار ہیں تاہم میں نے اسے بہت مفید پایا۔ خاص طور پر شوگر کے مریضوں کے لیے یہ گھڑی بہت ہی مفید ہے جس میں موجود سینسر جسم میں شوگر لیول کو مسلسل چیک کرتے رہتے ہیں اور اس بارے میں صارف کو نوٹیفکیشن ارسال کرتے رہتے ہیں۔

تاہم یہ ضرور ہے کہ ویئر ایبل ڈیوائسز ریئل ورلڈ میں ریئل ٹائم میڈیکل ڈیٹا فراہم کرتی ہیں۔ میڈیکل ریکارڈز کے حصول کے روایتی طریقہ کے تحت ہم جب ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو بلڈ پریشر یا دیگر ٹیسٹ تجویز کیے جاتے ہیں ۔اس ضمن میں دباؤ کے دوران میڈیکل ریکارڈز حاصل نہیں ہو پاتے یا شدید تکلیف کے لمحات میں طبی صورت حال واضح نہیں ہوتی لیکن وئیر ایبل ڈیوائسز کی مدد سے اب ہر وقت کا ڈیٹا تجزیہ کے لیے دستیاب ہو جاتا ہے۔اب معاملہ یہ ہے کہ ایسا طریقہ وضع کیا جائے کہ جس کی مدد سے اس وسیع ڈیٹا کا تجزیہ جلد از جلد ممکن ہو سکے۔ اب یہ معلوم ہوا ہے کہ ایپل کی ورچوئل اسسٹنٹ ‘‘ڈاکٹر سری’’ اس ڈیٹا کے تجزیہ کی صلاحیت رکھتی ہیں جس کی مدد سے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

اس کے باوجود ویئر ایبل ڈیوائسز کو چند چیلنجز درپیش ہیں۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ کلینیکل تجربات میں اپنی کارکردگی ثابت کریں۔ ضروری ہے کہ ان کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے باہر نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسا طریقہ وضع کیا جائے جس کی مدد سے ڈیٹا کو درپیش میڈیکل حالت کے ساتھ ہی دستیاب ہو اور اس طرح کہ صارف کی پرائیویسی متاثر نہ ہو سکے۔

میرے خیال میں ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اگر تمام غریب افراد کے لیے ایسے نظام کا بندوبست کر لیا جائے جس کے تحت انہیں سمارٹ فونز میں ایسی تمام ایپلی کیشنز اور ڈیٹا سہولیات حاصل ہوں تو علاج میں آسانی ہو گی اور میرے خیال میں یہ مہنگے ترین ہسپتالوں میں علاج کرانے کی نسبت زیادہ سستا سودا ہے۔

یہ وہ طریقہ کار ہے جسے دنیا بھر میں اپنایا جا سکتا ہے۔ جہاں بھی موبائل سگنلز دستیاب ہیں وہاں صحت کی سہولیات پہنچائی جا سکتی ہیں۔

فنگر ٹپ سینسر نہ صرف آپ کی ای سی جی کر سکتا ہے بلکہ اس ای سی جی کی مکمل جانچ یا تجزیہ بھی کر سکتا ہے

تحریر : ایرک ٹوپول

(ایرک ٹوپول سکرپس ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں جینومکس کے پروفیسر ہیں۔ وہ ایک کتاب The Patient Will See You Now کے مصنف بھی ہیں)۔

Read in English

Authors
Top