Global Editions

کیا آپ اپنے مرنے کی تاریخ جاننا چاہتے ہیں؟

آپ کی زندگی کا دورانیہ آپ کے ڈی این اے میں لکھا ہے، اور ہم اس کوڈ کوپڑھنا سیکھ رہے ہیں۔

ہم سب حتمی طور پر اس سوال پر لاجواب ہو جاتے ہیں: میں کب مروں گا؟ اگر ہم جانتے ہیں تو کیا ہم مختلف رہیں گے؟ ابھی تک سائنس دس ڈالر میں قسمت کا حال بتانے کے علاوہ زیادہ زیادہ درست نہیں رہی ہے۔ لیکن یہ سب تبدیل ہونا شروع ہو گیا ہے۔

سائنس میں اقدامات کبھی بھی موت کا صیح وقت یا تاریخ کی پیش گوئی کرنے کے لئے کافی اچھا نہیں ہوں گے لیکن انشورنس کمپنیاں ہسپتالوں اور علاج مہیا کرنے والے دوسرے اداروں سے بھی پہلے اس چیز کو مفید سمجھ رہی ہیں۔ انشورنس انڈسٹری میں خدمات مہیا کرنے والی کمپنی لائف جینیٹیکس میں چیف سائنس آفیسر اور محقق برائن چن کہتے ہیں، " مجھے خوشی ہو گی کہ میں جانوں کہ میں کب مروں گا۔ اس چیز سے مجھے زندگی کو ایک نئی اپروچ سے دیکھنے کا موقع ملے گا۔"

اس کام کوزیادہ عملی بنانے کی ضرورت ہے اور کمپنیوں کو ڈیٹا کوبہترین استعمال کرنا ہوگا۔ اس دوران اخلاقیات کے فلاسفرز کو خدشہ ہے کہ لوگ زندگی کا راز جاننے کے بعد اس سے مقابلہ کیسے کریںگے۔ لیکن آپ پسند کریں یا نہ کریں، موت کی پیش گوئی آ نیوالی ہے۔

جرمنی کے شہرفرینکفرٹ میں پلنے بڑھنے والے یو سی ایل اے کے ماہر حیاتیات سٹیوہورواتھ خود کو "بالکل ٹھیک" قرار دیتے ہیں جبکہ اس کےجیسا اس کا جڑواں بھائی ہم جنس پرست ہے۔ لہٰذا کچھ سال پہلے ان کو اس کام میں ذاتی دلچسپی ہوئی جب ان کے ساتھ کام کرنے والے دفتری ساتھی نے ان سے اپنےجڑواں بھائی کے تھوک کا بائیولوجیکل ڈیٹا دیتے ہوئےان کے مخالف جنسی رحجان کے بارے میں پوچھا۔ ان کا دفتری ساتھی جنسی رحجان کے ساتھ کیمیائی تبدیلیوں کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا جو اس بات کو ظاہر کر سکیںکہ آیا کچھ جینیاتی تبدیلیاں میں جینز آن تھے یا آف تھے۔

نظریہ تھا کہ ان نام نہاد ایپی جینیٹک( epigenetic )تبدیلیاں جو ڈی این اے کی سرگرمی کو تبدیل کرتی ہیں لیکن ڈی این اے ترتیب کو خود تبدیل نہیں کرتی ہیں، شاید وضاحت کرنےمیں مدد کر سکتی ہیںکہ اس طرح کے دولوگ مختلف کیسے ہیں۔ لیکن ہورواتھ نے جڑواں بچوں کی تھوک میں " زیروسگنل" پایا۔ اس کے برعکس ان کی توجہ ایپی جینیٹک تبدیلیوں اور عمر کے درمیان تعلق نے لی۔ان کا کہنا ہے، ـــ"میں حیران رہ گیاکہ کتنا مظبوط تعلق ہے۔ میں نے لیب میں تقریباً تمام دوسرے پراجیکٹس چھوڑے اور کہا:"یہ مستقبل ہے۔"

ہورواتھ کوسائٹو سائن میںہونیوالی کیمیائی تبدیلیوں کے بارے میں خاص طور پر دلچسپی پیدا ہوئی جو جینز کو زیادہ یا کم تیز کرتی ہیں۔ سائٹو سائن ڈی این اے کے چار میں سے ایک جینٹک کوڈ یا لیٹر ہے۔کسی کی اصل عمر کو ذہن میں رکھتے ہوئے، اس بندے کے ڈی این اےمیں دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ آیااس شخص کی عمر تیزی سے بڑھ رہی ہے یا کم ہو رہی ہے۔ ان کی ٹیم نے کئی دہائیوں پہلے جمع کیے گئے خون کے 13,000نمونوں پر ایپی کلاک کا ٹیسٹ کیا جبکہ ان لوگوں کی وفات کی تاریخ کے بارے میں پتا تھا۔ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کلاک کو موت کی پیش گوئی کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کیونکہ زیادہ تر عام بیماریاں جیسا کہ کینسر، دل کی بیماری، الزائمر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہوتی ہیں، ہوراتھ کی کلاک پیش گوئی کرتی ہے کہ کون کتنا عرصہ زندہ رہے گا اور اس کی زندگی کا کتنا دورانیہ بیماریوں سے پاک ہو گا۔ (اگرچہ یہ پیش گوئی نہیں کرتا کہ بیماری کن لوگوں کو ہوگی)۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال کی تحقیق کے بعد، کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اس بات سے اختلاف کرے کہ ایپی جینیٹکس زندگی کی مدت کی پیش گوئی نہیں کرتی ہے۔

ہوراتھ کا کہنا ہے کہ آپ کا کیلنڈر کی عمر کے مقابلے میں آٹھ یا اس سے زیادہ سال تیزی سےبڑھنے کا مطلب ہے کہ آپ مرنے کے عام خطرہ پر موجود ہیں جبکہ کیلنڈر کے مقابلے میں سات سال سے کم عمر بڑھناکا مطلب ہے کہ آپ موت کےآدھے خطرے پر ہیں۔ ان کی لیب نے ایک نیا ورژن تیار کیا ہے جو اس طرح کی ایک حقیقی زندگی کے بارے میں پیش گوئی کرتا ہے۔ انہوں نے اسے گر م ریپیر کا نام دیا ہے : ڈی این اے ایم گریم ایج۔ یہ کلاک کم عمر کے افراد کے بارے میںدرست پیش گوئی کرتی ہے۔یہ بڑی عمر کے افراد کےلئےخاص طور پر غلط ہے۔

ہوراتھ کا کہنا ہے ، "اس موقع پر ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ کلینیکل طور پرمفید ہے کیونکہ وہاں بڑی غلطیوں کا امکان ہے۔" اس کے علاوہ، اثرات کو رد کرنے کے لئے کوئی گولی نہیں ہے۔ لیکن اگرچہ یہ کبھی بھی بالکل درست نہیں ہو گا،ہوراتھ اور اس کی کلاک ہم سب کے ذہن میں اٹھنے والے سوال کا جواب دیتے ہیں اور اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ ہم جواب کو تبدیل کرنے کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

کلاک کی ٹک ٹک کو کم کرنا

جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیںسائٹو سائن میں میتھائل کیمیکل گروپ (CH3) کا ہمارے جسم کے سینکڑوں مقامات پر ڈی این اے میںیا تو اضافہ ہوتا ہے یا کمی ہوتی ۔ہوراتھ نےاس اضافے اور کمی کو نوٹ کیا اور 300 سے 500 تبدیلیاں کو پایاجو کہ کلاک میں استعمال ہونے کے لئے سب سے اہم تھیں۔ ان کے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ کلاک کی رفتار بنیادی طور پر بنیادی طور پر جینز سے متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے اندازہ لگایا کہ موت کی کلاک کا 40 فیصد جینیاتی ورثہ پر منحصر ہے جبکہ باقی زندگی لائف سٹائل اور قسمت پر منحصر ہے۔

ہوراتھ کی لیب میں پوسٹ ڈاکٹریٹ مکمل کرنے والی مورگن لیوین جو اپنی لیبارٹری چلا رہی ہیں، نےانفرادی ایپی جینیٹک پروفائل کوماں کے پیٹ میں صحت مند خلیوں کی پروفائل کے ساتھ موازنہ کرنا شروع کر دیا ہے۔جتنے زیادہ لوگ اس معیار سے الگ ہو تےجاتے ہیں، ان میں بدترین تبدیلیوں کا امکان ہے۔ ان کا خیال ہے کہ وہ بالآخر ایپی جینٹک پروفائل سے کسی بھی شخص کے بچپن سے اس کی بیماریوں کے خطرات کا موازنہ کرنے میں کامیاب ہو جائیںگی ۔ وہ کہتی ہیں، "آپ کی قسمت نہیں ہیں لیکن ایپی جینیٹیکس جیسی چیزوں سے ایسا ممکن ہے۔اس بات کا یقین ضرور ہونا چاہئے کہ ہم عمر کو بڑھنے سے روکنے کے لئے چیزیں ہیں۔ہمیں صرف اس بات کا پتہ لگانا چاہیے کہ وہ چیزیں کیا ہیں۔"

کچھ ممکنہ امیدوار بالکل بھی حیران کر دینے والے نہیں ہیں۔ ایک صحت مند غذا، جس میں بہت ساری سبزیاں اور مچھلی شامل ہیں، نسبتاًعمر کو بڑھنے سے روکتے ہیں۔ جب آپ سونے سے محروم ہو جاتے ہیں تو آپ بوڑھا ہونا محسوس کرتے ہیں؟ یہ شاید اتفاق نہیں ہے۔ہوراتھ نے دکھایا ہے کہ بے خوابی کا شکارلوگوں میںتیزی سے ایپی عمر کم ہونے کازیادہ امکان ہے۔ انہوں نے کہا ، " صحت مند طرز زندگی سے وابستہ چیزیں بائیو مارکر میںبورنگ نتائج لاتی ہیں ہے، لیکن یہ چیزیں سائنس میں بہت دلچسپ ہیں۔"

مزید غیر متوقع طور پر انہوں نے پتا چلایا کہ باقاعد ہ ورزش آپ کی زندگی میں چند مہینوں سے زیادہ اضافہ نہیںکرے گی۔ لیکن یہ اقدامات خون میں صرف ڈی این اے پر ہوتے ہیں اور ہوراتھ کہتے ہیں کہ وہ پٹھوں میں تبدیلیوں کو بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا ورزش وہاںبہت بڑا فرق ڈالتی ہے۔

"پانچ سال کی تحقیق کے بعد، کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اس بات پراختلاف کرے کہ ایپی جینیٹیکس زندگی کی پیش گوئی نہیں کرتی۔"

ہوراتھ کی اپنی کلاک حوصلہ افزا نہیں ہے۔ وہ اپنے پیشاب کا تجزیہ کرنے پر حیران تھا کہ وہ اپنی حیاتیاتی عمر کے مقابلے میں پانچ برس بڑے تھے۔ چند سال بعد انہوں نے اپنے خون کا تجربہ کیا اور ان کو تسلی ہوئی کہ ان کے نتائج ٹھیک تھے لیکن اب بھی، وہ کہتے ہیں، "میں یہ کہتا ہوں کہ میں ایپی جینیٹکس کی عمر کے لحاظ سےٹھیک نہیں ہوں۔"

50 سال کی عمر میں، وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے کام میں ذ اتی دلچپی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ "میںاپنی عمر کو کم کرنے کے لئے اتنا ہی متلاشی ہوں جتنا کوئی اور ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ عمر رسیدہ آبادی کے سماجی اور مالی اخراجات کو بھی ذہن میں رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لوگوں کو صحت مند رکھنے کے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

وہ امید کرتے ہیں کہ ان کی کلاک جلد ہی طرز زندگی اور طرز عمل میں تبدیلیوں کی عکاسی کرے گی۔ سرمایہ کار اور بائیوٹیک کمپنیاں لاکھوں ڈالر ا ن ادوایات پرابھی خرچ کر رہی ہیں جو بیماریوں اور بڑھاپے کو آنے سے روکیں۔ لیکن ہم کیسے جانیں گے کہ کونسی دوا مؤثر ہے؟ادویات کی دریافت کرنے والے افراد 50 سال انتظار نہیں کرسکتے۔ہوراتھ امید کرتے ہیں کہ ان کی کلاک جواب فراہم کرے گا۔

کمپنیاں جیسے ری انشور نس گروپ آف امریکہ پہلے سے ہی لائف انشورنس کے خطرے کی تشخیص کو بہتر بنانے کے لئے ایپی جینیٹک کلاک کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس وقت، قیمتیںبڑے پیمانے پر ڈیموگرافکس پر مبنی تحقیق کر رہی ہیں یعنی لوگوں کی صنف اور عمر اور چند صحت کے میٹرکس، جیسے کہ وہ کتنا سگریٹ پیتے ہیں۔کلاک ایک اور مفید ڈیٹا میں اضافہ کرتا ہے۔

اس طرح کے معاملے میں شفافیت بارے سوال اٹھتا ہے۔ اگر آپ کی ایپی جینیٹک کلاک آپ کی کسی غلطی کے بغیر تیزی سے چل رہی ہے تو کیا آپ سے انشورنس والوں کو زیادہ قیمت وصول کرنی چاہیے؟؟ 2008 کے جینیاتی انفارمیشن نان ڈسکریمینیشن ایکٹ جو کہ جینا(GINA)کے نام سے جانا جاتا ہے، جین کی بنیاد پر تفریق سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔لیکن یہ ایپی جینیٹیکس کا مسئلہ حل نہیں کرتا۔

رازداری کا مسئلہ بھی ہے۔ آپ کی ممکنہ زندگی کا دورانیہ یا حقیقی حیاتیاتی عمر کو بہت سارے لوگ ذاتی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ اب کے لئے، قواعد و ضوابط اور رازداری کی پالیسیوں کو اس طرح کی معلومات کے امکان پر بھی غور نہیں کیا جاتا۔ لیکن جیسے جیسے سائنس تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اس ڈیٹا کے استعمال اور حفاظت کے بارے میں سوالات زیادہ اٹھیںگے۔

کیا ہوراتھ کی کلاک اور موت کی پیش گوئی والی دوسری ٹیکنالوجیز اتنی ٹھیک ہو سکتی ہیں کہ ان کا مفید استعمال کیا جا سکے۔؟ نیویارک سٹی میں آئی کہن سکول آف میڈیسن میں پروفیشنل دوا کے پروفیسر ڈین میئر کا کہنا ہے "میں نے ابھی تک موت کی بالکل صیح پیش گوئی کرنے والا آلہ الگارتھم نہیںد یکھا۔ "لوگ بہت زیادہ بیماری اوربڑھاپے کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔"

گال سلیمون ،کلیو میڈیسن کے سی ای او جو کہ ایک اسرائیلی کمپنی ہےجو ہسپتالوں میں طبی خطرات کی نشاندہی کرنے کے لئے مصنوعی انٹیلی جنس کا استعمال کرتا ہے، کا کہنا ہے میں نے ابتدائی طور پر اس نے موت کی پیش گوئی کرنے والے آلہ کو روکا اور اسے غیر اخلاقی سمجھا۔ پھرمجھے اس بات کا احساس ہوا ڈاکٹراس ٹیکنالوجی کو استعمال کر سکتے ہیں کہ انہیں کس مقام پر بیماری کا علاج کرنے پر رک جانا چاہیے۔کلیو کا بنایا ہوا الگورتھم ڈاکٹروں اور خاندان کےافراد کو جارحانہ دیکھ بھال سے نارمل دیکھ بھال پر سوئچ کرنے کا فیصلہ کرنے کی طاقت دیتا ہے۔اس وقت ہسپتالوں میں استعمال ہونے والا نظام خاندان کو بھی انتباہ کر سکتا ہے کہ موت کا وقت قریب ہے۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی ، سان فرانسسکوکے ایک پروفیسر اتل بٹے کا کہنا ہے کہ جیوری نےاب بھی اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ آیا مشین لرننگ اس طرح کی دیکھ بھال فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس سمت میں طبی دیکھ بھال ہونی ہے۔ انہوں نے کہا ، "اب سے پانچ سے 10 سال میںاس ڈیٹا کا استعمال ہو گا جو کہ اب نہیں ہو رہا۔"

تحریر:کرن ویٹراب (Karen Weintraub)

Read in English

Authors
Top