Global Editions

وال مارٹ کے نئے روبوٹس عملے کو تو بہت پسند آرہے ہيں، لیکن خریدار انہیں نظرانداز کررہے ہيں

بوسا نووا (Bossa Nova) نامی کمپنی ریٹیل کی صنعت کے لیے روبوٹ ہیلپر تخلیق کررہی ہے۔

وال مارٹ جدید ترین ٹیکنالوجی اپنانے کی وجہ سے سرخیوں میں رہتا ہےلیکن ان تبدیلیوں کے پیچھے دراصل بوسا نووا اور اس جیسی دوسری کمپنیوں کار فرما ہیں۔ سان فرانسیسکو میں واقع اس کمپنی نے روبوٹ بنائے جوامریکہ بھر میں وال مارٹ کے 50 سٹوروں میں گھوم پھر رہے ہیں۔

بوسا نووا کے روبوٹس کئی مختلف کام کرسکتے ہيں جن میں ختم ہونے والے سامان، غلط قیمتوں کی نشاندہی، اورغلط اور غیرموجود لیبلز کی نشاندہی شامل ہيں۔ ہم نے ان مشینوں میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی اور خریداروں اور ملازمین میں ان کی مقبولیت کے بارے میں بوسا نووا کے چیف بزنس افسر مارٹن ہچ (Martin Hitch) سے بات کی۔

ایرن: ان روبوٹس کے متعلق ملازمین کے کیا تاثرات ہیں؟ کیا آپ کو لوگوں کی ملازمتیں ختم ہوجانے کے خدشے کی وجہ سے کبھی قسم کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے؟

مارٹن:جب ہم نےپہلی دفعہ کسی دکان میں روبوٹ تعینات کیے،تواس وقت ایسوسی ایٹس نے سب سے پہلےان کو سمجھا۔ شیلفس پر لگے سامان کو سکین کرنے کا کام بہت بیزارکن ہے اور مجھے اب تک کوئی ایسا شخص نہيں ملا ہے جسے یہ کام پسند آیا ہو۔ ملازمین فورا ہی روبوٹس کے حمایت کرنے لگ جاتے ہيں۔

اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ روبوٹ کو نام دیا جائے۔ وال مارٹ کے تمام روبوٹس کو بیجز پہنائے گئے ہیں جن پر ان کے نام درج ہیں۔ کس روبوٹ کے لیے کیا نام صحیح رہے گا، اس کے لیے باقاعدہ مقابلے بھی ہوتے ہیں۔ اب ملازمین خریداروں کے سامنے بھی روبوٹ کی وکالت کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہيں۔ ہمارا عملہ دوسروں کو بتارہا ہے کہ اس روبوٹ سے ان کو کتنا فائدہ ہورہا ہے۔ اب وہ روبوٹس کی حمایت کرتے ہوا نظر آتے ہیں۔

اور خریداروں کی کیا رائے ہے؟

عام طور پر دو مختلف اقسام کا ردعمل سامنے آتا ہے۔ ایک طرف تو تجسس ہے۔ لوگ اس کے بارے میں پوچھتے ہيں کہ یہ کیا کرتا ہے، اور کیوں؟ جب بھی کوئی روبوٹ پہلی دفعہ تعینات جاتا ہے، اس وقت ان سوالات کا جواب دینے کے لیے ایک نگران مقرر کیا جاتا ہے۔ تاہم، 50 فیصد افراد اسے دوسری ڈيوائسز کی طرح مکمل طور پر نظر انداز کردیتے ہيں، اور ہمیں یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی۔

نگرانی کے لیے مقرر شخص کے چلے جانے کے بعد روبوٹس خریداروں اور اپنے انسانی رفقاء کار سے کس طرح رابطہ کرتے ہيں؟

ہم نے انسانوں اور روبوٹس کے درمیان رابطے کا بہترین طریقہ تلاش کرنے کے لیے بہت تحقیق کی ہے۔ ایک ابتدائی ٹیسٹ میں ہم نے لوگوں کو سمجھانے کے لیے کہ روبوٹ اب کیا کرنے والا ہے، گاڑی کے اشاروں کے طریقہ کار کو نمونے کے طور پر استعمال کیا۔ ہم نے ریڈیو سے کنٹرول ہونے والی کھلونا گاڑی پر فوم کا ماڈل رکھ کر اسے دکان میں گھمایا۔ لوگوں کو سمجھ نہيں آیا۔ انہیں کسی دکان میں چلتی ہوئی گاڑی کی توقع نہیں تھی، بلکہ انہيں غیرواضح اشارے چاہیے تھے۔ لہذا اب جب ہمارا روبوٹ حرکت کرتا ہے، وہ ایک آواز نکالتا ہے تاکہ لوگوں کو زیادہ حیرانی نہ ہو، اور جب کوئی شخص بہت قریب آجائے تو وہ روشنی سے اشارہ کردے گا۔

اس گفتگو میں وضاحت اور لمبائی کی وجوہات کی بناء پر ترمیم کی گئی ہے۔

تحریر: ایرن وینک (Erin Winick)

Read in English

Authors
Top