Global Editions

بٹ کوائن نے کیا کرڈالا؟

یہ ڈیجیٹل کرنسی دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ اس کے بعد کیا ہونے والا ہے؟ اس کا انحصار بٹ کوائن کے مائنرز پر ہے۔

بٹ کوائن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے سافٹ ویئرمیں کیا تبدیلی لانی چاہئیے؟ اس پر پچھلے کئی سالوں سے بٹ کوائن کی کمیونٹی میں زبردست بحث و مباحثہ چل رہا ہے۔ اور اب آخرکار اس کمیونٹی کا ایک حصہ الگ ہوگیا ہے۔

بٹ کوائن اور اس کے صارفین پر اس کے طویل المیعاد اثرات کیا ہوں گے؟ یہ تو ابھی تک یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے۔ تاہم اگر اس نئی کرنسی کو، جس کا نام بٹ کوائن کیش ہے، اپنے قدم جمانے ہیں تو اسے بڑی تعداد میں مائنرز حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

مائنرز سے کیا مراد ہے؟ مائنرز ان افراد کو کہا جاتا ہے جن کے دم سے بٹ کوائن چل رہا ہے۔ مائنرز اپنے کمپیوٹرز پر بٹ کوائن کی ٹرانزيکشنز پراسیس کرنے کے بعد انھیں ایک لیجر میں درج کرتے ہيں، جس کا نام بلاک چین ہے۔ ان مائنرز کو معاوضے کے طور پر بٹ کوائنز دیے جاتے ہيں۔

اس بٹوارے کے پیچھے ان مائنرز کا نہیں بلکہ بٹ کوائن کے سرمایہ داروں کا ہاتھ ہے، جن کی اکثریت ایشیاء میں رہائش پذیر ہے۔ اس وقت بٹ کوائن کے سسٹمز میں فی سیکنڈ سات ٹرانزیکشنز پراسیس کرنے کی گنجائش ہے، جبکہ ویزا جیسے دوسرے سسٹمز ہزاروں ٹرانزيکشنز پراسیس کرسکتے ہیں، اور اس صورتحال میں بہتری لانے کے لیے کچھ خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اس سے ناخوش سرمایہ داروں نے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کی ٹھانی اور بٹ کوائن کیش لانچ کرڈالا۔ یہ بالکل بٹ کوائن ہی کی طرح کام کرے گا، لیکن کیا مائنرز اسے خریدنے پر آمادہ ہوں گے؟ اس کے بارے میں اس وقت یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے۔

بٹ کوائن کی کمیونٹی میں کافی عرصے سے ٹرانزیکشنز کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نبٹنے کے لیے سافٹ ويئر میں تبدیلی لانے کے متعلق بحث چھڑی ہوئی ہے۔ لیکن يہ مسئلہ حل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ بٹ کوائن کے کوڈ میں تجدید کرنے والے پروگرامرز "بلاک کے سائز" یعنی ہر دس منٹ میں پراسیس ہونے والے ٹرانزیکشنز کی تعداد میں اضافہ کرنے کے بارے میں ہچکچا رہے ہيں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بلاک کا سائز بڑھانے سے چند بڑے پلیئرز کے لیے پورے نیٹورک پر قابو پالینا زيادہ آسان ہو جائے گا، اور چھوٹے پلیئرز کے لیے، جن کے پاس بڑے بلاکس کو پراسیس کرنے کے لیے درکار ہارڈویئر خریدنے کی سکت نہیں ہے، بٹ کوائنز خریدنا زیادہ مشکل ہوجائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کیش سے بٹ کوائن کی گنجائش کے اس مسئلے کا حل ممکن ہے۔ لیکن یہ اس کے کامیاب ہونے کی ضمانت نہیں ہے۔ بٹ کوائن اس وجہ سے کامیاب نہيں ہوا ہے کیونکہ اس کا ڈیزائن بہت اچھا ہے۔ اس کی کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ اس کا نیٹورک سب سے بڑا ہے، اور وہ کئی سالوں سے قائم ہے۔ بٹ کوائن کیش کی قیمت اس وقت 220 ڈالر ہے، جبکہ بٹ کوائن کی قیمت 2،771 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ بٹ کوائن کیش کو اپنے قدم جمانے کے لیے اپنے مائنرز کی ایک کمیونٹی بنانی ہو گی۔ کورنیل یونیورسٹی (Cornell University) کے پروفیسر اور کرپٹوکرنسی کے ماہر ایمن گون سائرر (Emin Gün Sirer) وائرڈ کو بتاتے ہیں کہ اس کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ مائنرز بٹ کوائن کیش کے ابتدائی مراحل ہی سے اسے مائن کرنا شروع کردیں، جس طرح انھوں نے بٹ کوائن کو مائن کرنا شروع کردیا تھا۔

اگر ایسا ہوجائے تو یا تو بٹ کوائن کیش بازی لے جائے گا، یا بٹ کوائن کی کمیونٹی مقابلے کے لیے اٹھ کھڑی ہوجائے گی، اور دونوں طریقوں سے بٹ کوائن کی گنجائش میں اضافہ ہوجائے گا۔ لیکن آگے کیا ہوگا؟ یہ ابھی تک ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

تحریر: مائیک آرکٹ (Mike Orcutt)

Read in English

Authors
Top