Global Editions

ورچول رئیلٹی میں ابھی بھی دوسرے لوگوں کی کمی ہے

اگر ورچول رئیلٹی لوگوں کو ایک دوسرے سے میل جول بڑھانے میں مدد کرے، تو یہ ایک نئی مواصلتی صنعت کی بنیاد ثابت ہوسکتی ہے۔

میرے پاس ایک ورچول رئیلٹی کا ہیڈسیٹ ہے۔ میرے علاوہ ایسا ہیڈسیٹ صرف میری ایک دوست کے پاس ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ میں ورچول رئیلٹی کی دنیا میں زيادہ تر اکیلی ہی ہوتی ہوں۔

اس ٹیکنالوجی کی ایک بات بہت عجیب ہے۔ دیکھنے میں تو لگتا ہے کہ اس کا ہیڈسیٹ لگا کر آپ پوری دنیا سے الگ ہوجائيں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سے دوسرے لوگوں کے ساتھ زيادہ وقت گزارنے کا موقع مل سکتا ہے۔ 2014ء میں فیس بک کے سی ای او مارک زوکربرگ نے 3 ارب ڈالر کے عوض وی آر ہیڈسیٹ بنانے والی کمپنی آکولس (Oculus) خریدی تھی، اور اس وقت اس کی سب سے وجہ دوسرے لوگوں کے ساتھ میل جول بتائی تھی۔ اور ان کی بات غلط نہیں ہے۔ ورچول رئیلٹی آپ کو دوسرے کے ساتھ ہونے کا جو احساس دلاتی ہے، وہ کسی دوسری ایپ کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔ ورچول رئیلٹی سے آپ کو دور رہنے والے دوستوں اور گھر والوں سے بات کرتے ہوئے احساس ہوگا کہ وہ آپ کے بالکل سامنے کھڑے ہیں۔

عجیب بات یہ ہے کہ اس سوشل نیٹورک نے اب تک 2016ء میں لانچ ہونے والے آکولس رفٹ (Oculus Rift) ہیڈسیٹ کے لیے ایپلی کیشنز پر توجہ نہیں دی ہے۔ اسے اب بھی گیمز کھیلنے اور فلمیں دیکھنے کے لیے ہی استعمال کیا جارہا ہے۔ اپریل میں فیس بک نے آکولس رفٹ کے لیے سپیسز (Spaces) نامی ایک ایپ لانچ کی تھی جس کے ذریعے آپ ورچول رئیلٹی میں اپنے فیس بک کے دوستوں کے ساتھ وقت گزار سکتے ہیں۔ لیکن یہ کافی بے زار کن ہے۔ آپ اپنے دوستوں کے ساتھ ورچول سیلفیز لے سکتے ہیں، اپنی فیس بک کی تصویروں کے ساتھ کسٹمائزڈ اوتار بناسکتے ہیں، 360 ڈگری ویڈيوز دیکھ سکتے ہیں اور ایک بڑے سے مارکر سے تھری ڈی میں ڈرائینگ کرسکتے ہیں۔ آپ صرف ان ہی دوستوں کے ساتھ بات کرسکتے ہیں جو پہلے سے آپ کے فیس بک کے دوست ہوں، لہذا اگر آپ کے دوستوں کے پاس ورچول رئیلٹی ہیڈسیٹ نہ ہو تو آپ بالکل اکیلے ہی ہوں گے۔ اگر آپ کے دوست سپیسز استعمال کرنے بھی لگ جائيں، تو پھر بھی بڑی جلدی اکتاہٹ ہو جائے گی کیونکہ آپ ایک ورچول میز کے گرد ہی کھڑے رہیں گے۔ فیس بک نے اس ایپ کو بہت آسان بنانے کی کوشش کی ہے، جس کی وجہ سے اس کا مزہ ختم ہوگیا ہے۔

حال ہی میں مجھے ایک مزیدار ورچول سوشل نیٹورک ملا ہے. ریک روم نامی یہ ایپ رفٹ اور ایچ ٹی سی کے وائیو (Vive) کے ہیڈسیٹ کے لیے بالکل مفت دستیاب ہے۔ اس کی ورچول دنیا ہائی اسکول کے جم کے کارٹون ورژن کی طرح ہے جہاں آپ حقیقی زندگی میں اپنے جسم کو حرکت دے کر پینٹ بال جیسے گیمز کھیل سکتے ہیں۔ آپ کو ایک لاکر بھی دیا گیا ہے، جہاں آپ اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزار سکتے ہیں یا ٹیبل ٹینس کھیل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ہوسٹل کا کمرہ بھی ہے، جہاں آپ کپڑے تبدیل کرسکتے ہیں۔

ریک روم کی خامیوں کے باوجود یہ آج کل کے ورچول رئیلٹی ٹیکنالوجی کی ایک بہت اچھی مثال ہے، جس میں آپ پوری طرح خود کو محو کرسکتے ہیں۔ ماضی میں سیکنڈ لائف (Second Life) جیسی ورچول طور پر دوسروں سے تعلقات بڑھانے کی ایپس اس قسم کا تجربہ فراہم کرنے میں کامیاب ثابت نہیں ہوسکی تھیں۔ ریک روم میں عام زندگی کی طرح ہی دوسروں سے میل جول بڑھایا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر، کسی سے دوستی کرنے کے لیے آپ ان سے ہاتھ ملاتے ہیں، جس کے بعد ہینڈہیلڈ کنٹرولر میں بزر بجتا ہے۔

مارکیٹ ریسرچ کی کمپنی آئی ڈی سی کے مطابق پچھلے سال ایک کروڑ ورچول رئیلٹی ہیڈسیٹ فروخت ہوئے تھے، لیکن سمارٹ فون مارکیٹ کی مارکیٹ کے مقابلے میں یہ تعداد کافی کم ہے، جس میں 2016ء میں 1.5 ارب ہینڈسیٹ فروخت ہوئے تھے۔ میرے خیال میں جب تک ورچول رئیلٹی کی ٹیکنالوجی سوشل نیٹورکنگ پر کام نہیں کرے گی، وہ صارفین کا دل جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گی، جس کا مطلب ہے کہ اس کی قیمت 800 ڈالر فی ہیڈسیٹ سے کم نہیں ہوپائے گی۔ اپنی آنکھوں اور کانوں پر ہيڈسیٹ اور ہیڈفون رکھ کر کسی دوسری دنیا میں کھو جانے میں مزہ تو بڑا آتا ہے، لیکن اگر اس دوسری دنیا میں کوئی آپ کے ساتھ نہ ہو تو ایک وقت ایسا آئے گا جب آپ کو تنہائی محسوس ہونے لگی گی۔ اگر ریک روم کامیاب ہوجائے تو ورچول رئیلٹی کے ایک سوشل پلاٹ فارم کی حیثیت اختیار کرنے کے امکانات میں اضافہ ہوجائے گا۔

سٹرکچرڈ قسم کی سوشل ایپ

اگینسٹ گریویٹی (Against Gravity) نامی کمپنی کی بنائی گئی ریک روم کے وژول نتائج بہت اعلی قسم کے نہیں ہیں۔ جب میں ایپ کھولتی ہوں تو میری شکل صورت سب ہی بگڑ جاتے ہیں۔ لیکن اس اوتار کی سادگی کے باوجود مجھے اس میں گیمز کھیلنے میں بہت مزہ آتا ہے۔

ایک روز اس ایپ کے لاکر روم میں میری ملاقات اگینسٹ گریوٹی کے شریک بانی اور چیف کریٹیو افسر کیمرون براؤن (Cameron Brown) سے ہوئی۔ انھوں نے اپنے اوتار میں جامنی رنگ کی چوکور عینک لگائی ہوئی تھی، اور ایک کالی بیس بال کی ٹوپی اور ایک سفید ٹی شارٹ پہن رکھی تھی، جس پر سامنے ریک روم کا لوگو بنا ہوا تھا۔ نیٹورک میں خرابی کی وجہ سے ان کا ہاتھ زمین کی طرف چلاگیا۔ وہ مجھے ایک بڑے سے خالی لاؤنج میں لے گئے جس میں لکڑی کی زمین پر ایک ٹیبل ٹینس کا ٹیبل اور چند صوفے رکھے ہوئے تھے۔ مجھے معلوم ہوا کہ ریک روم میں ایسی خاموش جگہیں بہت کم ہیں۔ کیمرون براؤن نے مجھے یہ بھی بتایا کہ لوگ اس جگہ کو میٹنگز کے لیے بھی استعمال کرنے لگے ہیں اور وہاں ایک کانفرنس ٹیبل اور وہائٹ بورڈز رکھے ہوئے ہیں۔

وی آر ٹیکنالوجی ابھی نئی ہے، اور ہمارے دوست بھی اس کا زيادہ استعمال نہیں کررہے ہیں۔ نئے دوست بنانا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ حقیقی زندگی میں ہے۔ ریک روم میں آپ کو زبردستی بالکل انجان لوگوں کے ساتھ گیمز کھیلنے کی ضرورت ہے۔ براؤن نے اسے "سٹرکچرڈ سوشل میل جول" کا نام دیا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ جم میں داخل ہوتے ہیں تو ریک روم کا سافٹ ویئر خود ہی ٹیمس بنا کر زبردستی گیم شروع کردے گا۔ بقول براؤن کے، کوئی بھی کسی بھی کمرے میں داخل ہو کر انجان لوگوں سے بات کرنا شروع نہیں کرتا ہے، لہذا یہ جان پہچان بڑھانے کا بہترین طریقہ ہے۔

ان کی بات تو صحیح ہے، لیکن میری طرح کچھ لوگوں کو یہ تھوڑا عجیب سا بھی لگ سکتا ہے۔ مجھے بھی صرف ان ہی لوگوں سے میل جول بڑھانا زیادہ اچھا لگتا ہے، جن کے مشاغل مجھ سے ملتے جلتے ہیں۔ ریک روم میں آپ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی گیمز کھیل سکتے ہیں، لیکن زبردستی انجان لوگوں کے ساتھ کھیلنے کا بھی اپنا الگ مزہ ہے۔ براؤن کہتے ہیں "اگر آپ کوئی بے کار سا بھی کام کریں، تب بھی آپ کو مزہ آتا ہے، اور وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا ہے۔"

آپ کو مزہ آئے یا نہ آئے، ریک روم میں ہزاروں میل دور رہنے والوں سے ملنے کا جو احساس ہوتا ہے، اس کا اپنا الگ مزہ ہے۔ اس کے برعکس فیس بک سپیسز میں آپ زيادہ کچھ نہیں کرسکتے ہیں، اور آلٹ سپیس وی آر (AltspaceVR) میں کرنے کو بہت کچھ ہے، لیکن کوئی بھی چیز مزے کی نہیں ہے۔

اوتار کے مسائل

ورچول رئیلٹی میں آپ کو ایک اوتار چاہیے، اور اس اوتار کا انحصار آپ کے ماحول پر ہے۔ اوتار کو حقیقی روپ دینا بہت مشکل ہے، اور اسی وجہ سے ابھی بھی کارٹون کے شکل کے اوتار زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ (سب سے زيادہ حقیقی اوتار سیکنڈ لائف کے تخلیق کار فلپ روز ڈیل (Philip Rosedale) کا ان کی سوشل وی آر ایپ ہائی فڈیلٹی (High Fidelity) میں ان کے خود کا ہی ہے، لیکن وہ بھی 100 فیصد ان سے ملتا جلتا نہیں ہے)۔

وی آر میں آپ کا اوتار کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، حقیقی دنیا کی طرح آپ کے میل جول کا انحصار آپ کی جنس پر ہے۔ ریک روم کے علاوہ آلٹ سپیس وی آر اور فیس بک اسپیسز میں میں اپنی طرح کا بھورے بالوں اور چشمے پہننے والا ایک زنانہ اوتار استعمال کرنا پسند کرتی ہوں۔ اپنی ہی طرح کا ملتا جلتا اوتار رکھنے سے آپ کو اپنا ورچول رئیلٹی کا تجربہ زيادہ حقیقی لگے گا، لیکن زنانے اوتار کے ہراس اور دھونس کا نشانہ بننے کا زیادہ امکان ہے۔

میرے ساتھ اب تک تو کچھ ایسا نہیں ہوا ہے۔ زیادہ سے زيادہ صرف ایک نوجوان لڑکے سے گیمز نہ کھیلنے کی وجہ سے طعنے ہی سنے کو ملے ہیں۔ مجھے غصہ بھی آیا اور دکھ بھی ہوا، لیکن اس کی بات غلط نہيں تھی - مجھے واقعی وہ گیمز کھیلنا نہيں آرہے تھے۔ براؤن اس ہراس کا اعتراف کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ریک روم کے ایک صارف کی منگیتر نے لاکر روم میں داخل ہونے کی کوشش کی تو کئی لوگ اسے چھیڑنے لگ گئے۔

اس قسم کی حرکتوں کو روکنے کے لیے اقدام کرنے کی اشد ضرورت ہے، لیکن وی آر کی طرح ان میں زیادہ ترقی نہیں ہو پائی ہے۔ ریک روم اور آلٹ سپیس وی آر میں آپ تنگ کرنے والے صارفین کو خاموش کرسکتے ہیں یا اپنے اوتار کے گرد ایک غیبی دیوار کھڑی کری سکتے ہیں۔ ریک روم میں آپ کسی کو گیم سے نکال باہر کرنے کے لیے ووٹ بھی کرسکتے ہیں۔ ان اقدام میں ابھی مزید ترقی کی ضرورت ہے۔

وی آر کے ٹی وی، پی سی اور سمارٹ فون کی طرح لوگوں کے دل جیتنے میں کامیاب ہونے کے لیے ہیڈسیٹ کی قیمتوں کا کم ہونا اور ایپس میں اضافہ ہونا بہت ضروری ہے، اور اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ ریک روم کئی لوگوں کے دل پر چھانے نہیں والی ہے۔ لیکن مخصوص سرگرمیوں اور سوشل میل جول کے معاملے میں اپنا دماغ لڑانے کی وجہ سے یہ دوسری ایپس کے لیے ایک بہت اچھی مثال ہے۔ امید ہے کہ یہ اس وقت تک قائم رہے گی جب تک صارفین کی تعداد اس وقت تک بڑھ جائے کہ مزہ آنے لگے۔

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top