Global Editions

کرونا کی دین: آن لائن انصاف

کرونا وائرس کی بدولت پاکستان میں آن لائن عدالتوں اور ای فائلنگ کے سسٹمز کی عملدرآمد میں پُھرتی ممکن ہے، جس سے پاکستان میں زیرالتوا کیسز کی تعداد میں کمی آئے گی۔

ایک سال قبل، سپریم کورٹ نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے عوام کو ایک ای کورٹ کے سسٹم کے متعلق مطلع کیا تھا، جس کی مدد سے وکلاء کراچی، پشاور ، لاہور اور کوئٹہ میں واقع سپریم کورٹ برانچ رجسٹریز میں بیٹھ کر ویڈیو لنک کنیکٹویٹی استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد میں بیٹھے ججز کے سامنے مقدمے پیش کرسکتے تھے۔ جب یہ اعلان منظرعام پر آیا تو کئی لوگوں نے اس کوشش کو بہت سراہا۔

اس سسٹم کے فوائد کے باوجود، کئی لوگوں نے پاکستانی عدالتی نظام کو درپیش مسائل کے باعث اسے بہت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم اب کرونا وائرس کے بعد، دوسرے شعبوں کی طرح عدالتی نظام کو بھی آن لائن لے جانے کی اہمیت اجاگر ہوگئی ہے۔

کرونا وائرس کی وبا کے باعث پاکستان کی کئی صنعتوں کو بہت نقصان پہنچا ہے، اور اسے دیگر ممالک کی طرح موجودہ نظام اور ان کی اثراندازی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے۔ کچھ شعبہ جات میں یہ تبدیلی بہت مشکل سے ہی سہی، لیکن آخرکار عملدرآمد ہو ہی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسے علاقہ جات میں ملازمین گھر بیٹھے دفتری ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں اور ریموٹ تعلیم کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جہاں اس رجحان کو کبھی ممکن تصور نہيں کیا جاتا تھا۔

تاہم پاکستان کا عدالتی نظام ابھی بھی بہت پیچھے ہے۔ کرونا وائرس شروع ہونے کے بعد سے عدالتیں جزوی طور پر بند ہیں، اور صرف ضروری کیسز ہی کی سنوائی ہورہی ہے۔

دنیا بھر کے مختلف ممالک میں covid-19 کی وبا کی وجہ سے عدالتی نظام میں تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ برطانیہ، جنوبی کوریا اور امریکہ میں جزوی یا مکمل حد تک عدالتی اور قانونی معاملات کے لیے ورچول عدالتیں اور ای فائلنگ کے نظام کئی سالوں سے زيراستعمال ہيں۔

دوسرے ممالک میں عدالتی کارروائیاں بند، ملتوی، یا صرف ضروری عملے کے ساتھ جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کا ترقیابی فنڈ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس نے عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالتوں کے عملیات جاری رکھنے کے لیے وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کو کم سے کم رکھنے کے حوالے سے ہدایات جاری کردی ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم اور ترقیاتی فنڈ کی ایک مشترکہ رپورٹ میں covid-19 کے باعث عدالتی معاملات میں تاخیر کا مسئلہ اٹھایا گيا ہے اور ممالک کو اپنے نظاموں کو بہتر بنانے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کی تجاویز میں کیسز کی ترجیح کے معیارات کا تعین، ریموٹ رسائی، قانونی حقوق کے متعلق آگاہی، محکموں کے درمیان تعاون میں اضافہ، اور عدالتی نظرثانی شامل ہيں۔ پاکستان میں شہریوں کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ترقیاتی فنڈ نے پیشاور ہائی کورٹ کے ساتھ مل کر 14 ورچول عدالتیں قائم کی ہیں۔

قانونی چارہ جوئی

ورچول کورٹس کی بدولت وکیلوں اور عوام کے لیے الیکٹرانک سسٹمز کے ذریعے مقدمے دائر کرنا، ضروری دستاویزات اور ثبوت جمع کروانا، اور پیشیوں کی تاریخ اور دیگر اطلاعات موصول کرنا ممکن ہوتا ہے۔ اس قسم کے سسٹم میں ویڈیو کانفرنسنگ سافٹ ویئر کے ذریعے سماعتوں کے علاوہ، گواہان کے بیانات اور ثبوت کی نمائش بھی ممکن ہيں۔

covid-19 کے کیسز کی تعداد میں اضافے کے باوجود، وکلاء، ججز اور مقدمہ دائر کرنے والے افراد باقاعدگی سے عدالتوں کے چکر لگارہے ہيں اور سماجی دوری کے قواعد کو نظرانداز کررہے ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان جیسے ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے جہاں کرونا وائرس نہایت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ورچول عدالت کے قیام کے مطالبہ جات میں اضافہ بھی نظر آرہا ہے۔

تاہم لاہور ہائی کورٹ کے وکیل عبدل ناصر جاسرہ کے مطابق اس قسم کا سسٹم صرف اسی صورت میں کامیاب ہوسکتا ہے اگر اس سے عوام کو فوری انصاف مل سکے اور مقدموں کے نتائج کے لیے کئی سالوں تک انتظار کرنے کی ضرورت ختم ہوجائے۔

پاکستان کا عدالتی نظام پہلے ہی زیرالتوا کیسز کی بہت بڑی تعداد، اور ججز کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہے۔ ورچول عدالتیں اور ڈیجٹل سسٹمز متعارف کرکے اس صورتحال میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔

عدالت میں روزانہ آنے اور جانے والوں کو درپیش خطرات کے مدنظر ورچول سسٹم کا مطالبہ تو کیا جارہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا نظام عملدرآمد کرنے سے پہلے کئی رکاوٹوں کو پار کرنا ہوگا۔

نیو یارک کی فوجداری عدالت میں ورچول شیشن جاری ہے۔ کریڈٹ: نیو یارک یونیفائيڈ کورٹ کا سسٹم بذریعہ اے پی

سپریم کورٹ آف پاکستان کے وکیل ظفر کالانوری ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتے ہيں کہ جب تک لوگوں کے بنیادی مسائل حل نہيں ہوجاتے، اس قسم کا سسٹم بے کار ہوگا۔ وہ کہتے ہيں کہ ”لوگ یہ سمجھتے ہيں کہ کمپیوٹرز یا الیکٹرانک سسٹمز جادو کی چھڑی کی طرح ہيں، جنہيں گھمانے سے سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ یہ بالکل غلط ہے۔ کمپیوٹرز کے پاس اپنا خود کا دماغ نہيں ہوتا۔“ کالانوری مزید بتاتے ہيں کہ لاہور ہائی کورٹ نے مارچ 2020ء میں ایک آن لائن نظام متعارف کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا تھا۔ اس سسٹم میں ججز کو ضمانت کی درخواستیں بذریعہ ای میل بھجوائی جاتی تھیں، جس کے بعد ویڈیو لنک کی مدد سے کیس کی سنوائی ہوتی تھی، لیکن روزانہ فائل ہونے والے 700 سے 800 کیسز میں سے صرف 10 سے 20 کی سنوائی ممکن تھی۔

اپریل میں لاہور ہائی کورٹ کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے جسٹس علی باقر نقوی کی ہدایات پر ایک ”ماڈل عدالت“ قائم کی، جس میں سماجی دوری کا خیال رکھتے ہوئے، وکلاء اور گواہان کو ریموٹ طور پر حاضری لگانے اور دلائل اور ثبوت کو بذریعہ ای میل پیش کرنے کی اجازت دی گئی۔ کمرہ عدالت میں اس مقصد کے لیے بہت بڑی ایل سی ڈی سکرین بھی لگائی گئی ہے۔ تاہم کالانوری کے مطابق قواعد کے ناقص نفاذ، سافٹ ویئر کے نقائص، تربیت کی کمی اور سٹیک ہولڈرز اور اداروں کے درمیان مواصلت میں کمی کے باعث یہ سسٹم بری طرح ناکام ثابت ہوگیا۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت کی انتظامی کمیٹی نے اس سسٹم کو ”وقت کا ضیاع“ قرار دے دیا اور ناقص ڈیزائن کے باعث لاکھوں روپے بھی برباد ہوئے۔

سنوائی کا مساوی حق

کئی وکلاء کا کہنا ہے کہ عدالتی نظام کے لیے کوئی موجودہ سافٹ ویئر موزوں ثابت نہيں ہوگا۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان کے قانونی نظام کے لیے نئے سرے سے نیا سافٹ وئیر تیار کرنا ہوگا۔

ظفر کالانوری، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان، کریڈٹ: ظفر کالانوری

کھٹانا لاء چیمبر کی ایسوسی ایٹ قرات العین نصیر بتاتی ہیں کہ ان کی کمپنی نے اسی مقصد کے لیے ایک جامع سافٹ ویئر تیار کیا تھا اور اب عدالت عظمیٰ اسے عملدرآمد کرنے پر غور کررہی ہے۔ یہ سافٹ ویئر عدالت عظمیٰ کے ججز، آئی ٹی کے عملے، اور وکلاء کے لیے بنایا گیا ہے اور اس میں ای فائلنگ، ای نوٹس، اور ای سماعت کی خصوصیات شامل ہے۔ اس وقت اس سافٹ ویئر میں ضمانت کی درخواستوں اور رٹ پٹیشن (writ petition) کی سہولیات موجود ہیں، لیکن آگے چل کر اس کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے سینیئر وکلاء کی مدد سے اس کی لاہور میں تین ماہ تک ٹیسٹنگ بھی کی گئی۔ تاہم اسے وسیع پیمانے پر متعارف کرنے سے پہلے مختلف سٹیک ہولڈرز سے اس کے بارے میں بات کرنی ہوگی، جس کے باعث عملدرآمد میں تاخیر ممکن ہے۔

اگر یہ سافٹ ویئر عملدرآمد ہوجائے تو عام شہری اور وکلاء اس کی مدد سے بذریعہ انٹرنیٹ ایک آن لائن پورٹل پر مقدمے دائر کرسکیں گے۔ اس کے علاوہ، شکایت درج کرنے والوں کو بذریعہ ای میل الیکٹرانک نوٹسز بھی جاری کی جاسکيں گے۔ سماعت کے روز، تمام فریقین پورٹل کی مدد سے سنوائی میں شرکت کرسکیں گے۔

نصیر بتاتی ہيں کہ ان کی کمپنی کا تجویز کردہ سسٹم پچھلے سال لاہور ہائی کورٹ میں متعارف ہونے والے سسٹم سے، جس میں صرف اور صرف ای میلز بھیجی جاتی ہيں، زيادہ موثر ثابت ہوگا۔

ایک ڈیجیٹل سسٹم کی عملدرآمدگی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ الیکٹرانک آلات اور ایک قابل اعتماد انٹرنیٹ کنیکشن کی عدم دستیابی ہے۔ ڈیٹا ریپورٹل (Data Reportal) کی ڈیجیٹل 2020ء کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی 76 فیصد آبادی موبال فون استعمال کرتی ہے، لیکن صرف 35 فیصد افراد کو انٹرنیٹ سہولیات تک رسائی حاصل ہے۔

پاکستان کے کئی حصوں میں انٹرنیٹ کی سہولیات دستیاب نہيں ہیں، اور جن علاقہ جات میں یہ سہولت میسر ہے، وہاں اکثر کنکشنز سست اور ناقابل اعتماد ہوتے ہيں۔ اس کے علاوہ، کئی پاکستانی ہموار ویڈیو کانفرنسنگ کے لیے درکار آلات تو کیا، سمارٹ فونز یا کمپیوٹرز تک خریدنے کی سکت نہيں رکھتے۔

اسی مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے ظفر کالانوری عوام کی سہولت کے لیے ملک بھر میں ایسے تسلیم شدہ مراکز قائم کرنے کا مشورہ دیتے ہيں جہاں حکومت کی طرف سے ویڈیو کانفرنسنگ اور دیگر الیکٹرانک آلات اور ایک تیزرفتار انٹرنیٹ کنیکشن فراہم کیے گئے ہوں۔ ان سسٹمز کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے وکلاء کو تربیتی مواد بھی فراہم کیے جائيں گے۔ اس طرح وکلاء اور عوام کو عدالت جانے کی مزید ضرورت نہيں پیش آئے گی اور وہ اپنے تمام کام ان مراکز میں بیٹھ کر ہی کرسکیں گے۔ ان کا دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ لاک ڈاؤنز کے دوران نقل و حمل پر پابندی عائد ہونے کے باوجود عدالتی نظام جاری رہ سکتا ہے۔

اس قسم کے سسٹمز کئی دوسرے ممالک میں متعارف کیے جاچکے ہیں۔ برطانیہ میں سول عدالتوں نے پہلے ہی ریموٹ سنوائیوں کی اجازت دے دی تھی، لیکن اب ان سنوائیوں کے لیے اضافی قواعد و ضوابط جاری کیے جاچکے ہيں۔ مارچ میں برطانوی سپریم کورٹ نے تمام کیسز کے لیے ریموٹ سنوائی کا سلسلہ شروع کردیا۔ متحدہ عرب امارات میں بھی عدالتی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی، خصوصی طور پر ویڈیو کانفرنسنگ، پر انحصار کیا جارہا ہے۔ اس کے برعکس، امریکہ، ترکی اور فرانس میں عدالتی کارروائیوں کو عارضی طور پر معطل کردیا گیا ہے اور صرف ضروری کیسز کی سنوائی جاری ہے۔ سنگاپور میں covid-19 سے قبل کئی پروٹوکولز متعارف کیے گئے تھے، جن میں وبا کے باعث توسیع کی گئی ہے۔

قرات العین نصیر کا خیال ہے کہ اگر کوئی ڈیجیٹل سسٹم متعارف کردیا جائے گا تو تیز رفتار انٹرنیٹ کی ضرورت پیش آئے گی، اور انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیاں اس کمی کو پورا کرنے میں لگ جائيں گے۔

کرونا وائرس کی وبا کے باعث پاکستان کی کئی صنعتوں کو بہت نقصان پہنچا ہے، اور اسے دیگر ممالک کی طرح موجودہ نظام اور اس کی اثراندازی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے۔

فوجداری کارروائیاں

اس وقت سول پروسیجر (Civil Procedure) کی عدالت میں ورچول سنوائی کے لیے کسی قسم کے قواعد و ضوابط موجود نہيں ہیں۔ لہٰذا ڈیجٹل سسٹمز کی کامیای کے لیے سب سے پہلے نئے قواعد یا موجودہ ضوابط میں ترامیم متعارف کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو کمرہ عدالت میں متعدد بے ضابطگیاں سامنے آسکتی ہيں۔

سب سے بڑا مسئلہ پاکستان کی ناقص سائبرسیکورٹی کا ہے۔ الیکٹرانک فائلنگ سسٹم اور کمرہ عدالت کے ساتھ ریموٹ کنیکٹیوٹی فراہم کرنے کے بعد دستاویزات اور سماعتوں کی رازداری اور پرائیوسی کے لیے اقدام کرنا ضروری ہوں گے۔

دوسری طرف، اگر عوام محفوظ آن لائن پورٹلز کے ذریعے مقدمے دائر کرنا شروع کردے تو زدپزید یا جرائم پیشہ افراد کو عدالت میں پیش کرنے کی ضرورت ختم ہوسکتی ہے، جس سے لوگوں کو تحفظ کا احساس ہوگا۔ اس کے علاوہ، ان خواتین کو بھی حفاظت فراہم کی جاسکتی ہے جو عدالت کے چکر کاٹنے سے قاصر ہیں۔ اقوام متحدہ وومین (UN Women) اور دیگر ادارہ جات کی ایک رپورٹ کے مطابق، covid-19 کے باعث خواتین کے لیے انصاف کے حصول کی راہ میں رکاوٹوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی گھریلو تشدد، اقتصادی مسائل اور کرونا وائرس کے مقابلے کے لیے کام کرنے والے افراد کو درپیش خطرات کے باعث بھی کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ ایک ریموٹ سنوائی کے سسٹمز سے ان تمام افراد کی مشکلات آسان ہوسکتی ہیں۔

ورچول عدالتی نظام کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ عوام کو تکنیکی آگاہی میں کمی کے باعث دستاویزات جمع کروانے کے سلسلے میں وکلاء کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ تاہم انہیں زيادہ تحفظ اور کم قیمت میں قانون تک رسائی فراہم ہو گی۔

دستاویزات کی الیکٹرانک جمع کاری اور کیسز کی الیکٹرانک ٹریکنگ سے انتظامی عملے کی فیس اور رشوت دینے کی ضرورت بھی ختم ہوجائے گی۔ نصیر بتاتی ہيں کہ لاہور ہائی کورٹ کو تجویز کردہ سافٹ ویئر کے دو بنیادی مقاصد ہیں: اخراجات میں کمی اور انصاف تک زیادہ جلدی رسائی۔

سوال در سوال

کسی بھی ورچول نظام کی عملدرآمدگی کے لیے ججز، وکلاء اور کمرہ عدالت کے انتظامی عملے کو تربیت فراہم کرنا ضروری ہوگا۔ اس کے بغیر، ان سسٹمز کا فائدہ کم اور نقصان کہیں زيادہ ہوگا۔

کھٹانا لاء چیمبر پاکستان کا پہلا قانونی ادارہ ہے جہاں covid-19 کے دوران وکلاء کو ریموٹ تربیت فراہم کی جارہی ہے اور وکلاء کو ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے لیے ضروری صلاحیتیں سکھائی جارہے ہیں۔ نصیر کہتی ہیں کہ اگر ورچول عدالتی نظام متعارف کیا جائے تو وکلاء کو تربیت فراہم کرنا انتہائی ضروری ہوجائے گا۔

ورچول عدالتوں کا ایک اور پہلو ثبوت کا معائنہ اور گواہان کی تفتیش ہے۔ یہ کسی بھی وکیل کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن ورچول کارروائیوں کے دوران یہ کام بہت مشکل ثابت ہوگا۔

کالانوری کہتے ہيں کہ اسی مشکل کے باعث کسی بھی ورچول نظام کی فوری عملدرآمدگی ممکن نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں ورچول عدالتیں نافذ کی جاچکی ہیں، وہاں بھی کئی سال لگے تھے۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان کو پہلے صرف محدود حد تک اس قسم کے سسٹمز کا استعمال کرنا چاہیے اور پھر آہستہ آہستہ ان کا پیمانہ وسیع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

عبدل ناصر جاسرہ کا خیال ہے کہ ورچول عدالتیں عملدرآمد کرنے سے نئے وکلاء کی پیشہ ورانہ ترقی کو بہت نقصان ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ آن لائن سسٹمز کے باعث صرف وہی لوگ سماعت میں حصہ لیں گے جن کا اس کیس سے براہ راست تعلق ہوگا، جس کی وجہ سے نئے وکلاء کو عملی عدالتی کارروائی دیکھنے کا موقع نہيں ملے گا۔ تاہم وہ اعتراف کرتے ہيں کہ موجودہ صورتحال میں آن لائن سسٹمز متعارف کرنا بہت ضروری ہے اور عدالت کو اس میں دیر نہيں کرنی چاہیے۔

اگر ورچول عدالتی نظام کی عملدرآمدگی کے دوران ان تمام مسائل کو زیرغور رکھا جائے تو سٹیک ہولڈرز اس قسم کی ٹیکنالوجی کی بھرپور حمایت کریں گے۔ عبدل ناصر جاسرہ کہتے ہيں کہ ”جب تک اس سسٹم کو بروئے کار نہيں لایا جائے گا، ہم اس کے فوائد یا نقصانات کے متعلق کچھ نہيں کہہ سکتے۔“

جاسرہ اور ان کے رفقاء کار اس بات پر متفق ہیں کہ ورچول عدالتی سسٹمز مختلف محکموں کے درمیان تعاون اور مجموعی اثرات کو زیرغور لائے بغیر استعمال نہيں کیے جاسکتے۔ تاہم کسی بھی قسم کی ٹیکنالوجی پاکستانی عدالتی نظام کی خامیوں کی اصلاح کے لیے کافی نہیں ہوگی۔ انہيں زیرالتوا کیسز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد اور عدالتی کارروائیوں کے طویل دورانیے میں کمی لانے کے علاوہ تمام افراد کو انصاف دلانے کے لیے کوششیں کرنی ہوں گی۔ اگر ایسا نہيں کیا گيا تو عدالتی نظام اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی فوری انصاف کو یقینی بنانے میں ناکام ثابت ہوجائے گا۔


عروج خالد  لاہور میں رہائش پذیر فری لانس نامہ نگار ہیں۔

تحریر: عروج خالد

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top