Global Editions

وینچر سرمایہ دار اب بھی بلاک چین میں کروڑوں روپے لگا رہے ہیں

کیا کرپٹو کرنسی ایک فلیش تھی؟ دو سال سے بھی پہلےکم از کم بٹ کوائن کی آسمان کو چھونے والی قیمت سے لوگ راتوں رات کرپٹو کروڑ پتی بن گئے۔ اس کے بعد کوائن کی قیمتیں گر گئیں اور کبھی بھی بحال نہیں ہوئیں۔ منصوبوں کو بند کردیا گیا ہے، روزگارختم ہو گئے اور 2017 میں اس حوالے سے جذبہ بھی ماند پڑ گیا۔ شاید ٹیکنالوجی کا یہ مستقبل تھا؟

سرمایہ داروں کا کہنا ہے کہ یہ کام بے وقوفانہ تھا۔ ان کے لئے دہائیوں پرانی ٹیکنالوجی ہمیشہ فنانس کے مستقبل پر ایک طویل مدتی جوا ہے؛کرپٹو مارکیٹوں میں مختصر مدت کے اتار چڑھاؤ سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ۔کر پٹو ریسرچ اور انوسٹمنٹ میں تحقیق فراہم کرنے والی کمپنی کوائن شئیرز کی چیف سٹریٹجی آ فیسر میلٹرن ڈیمورز کا کہنا ہے ڈیجیٹل کرنسی کی مارکیٹ کو انوسٹمنٹ مارکیٹ کے ڈیجیٹل پراجیکٹس کے ساتھ ملاناایک غلطی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ انوسٹمنٹ مارکیٹ کے ڈیجیٹل پراجیکٹس اب بھی بڑے اور بہت فعال مارکیٹ ہیں۔”

درحقیقت،وینچر کیپیٹلسٹس یا وی سی ایز اب بھی بلاک چین کمپنیوں میں بڑی رقم کی سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔  ایک مالیاتی ڈیٹا اورسافٹ ویئر کمپنی پچ بک(PitchBook) کے مطابق وی سی ایز نے اس سال کے پہلے تین مہینوں میں بلاک چین منصوبوں میں تقریباً 334 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس حوالے سے سب سے بڑی ڈیل فگر(Figure) سٹارٹ اپ میں تھی جو کہ گھروں کے لئے بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعےایکوئٹی قرضے فراہم کرتا ہے ۔ اس سٹارٹ اپ نے فروری میں اعلان کیا کہ اس نے 65 ملین ڈالر تک کی سرمایہ کاری اکٹھی کر لی ہے۔

اس سال کل سرمایہ کاری گزشتہ سال کی رفتار سے اچھی رہی ہے جس میں بلاک چین کمپنیوں میں وینچر سرمایہ 5.5 ارب ڈالرز ریکارڈ کیا گیا۔ لیکن 2019 میں مجموعی سرمایہ کاری کم از کم 2017 کی سطح پر واپس آ گئی جب صرف 1 بلین ڈالرز سے زائد کی رقم اکٹھی ہوئی تھی۔

2018 میں کیا ہوا؟ وینچر سرمایہ کاروں میں جذبہ اپنے عروج پر تھا جس سے 2017 کے آخر میں اور 2018 کے آغاز میں کوائن کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ فرق یہ ہے کہ یہ وینچر سرمایہ کاری کمپنیوں پر طویل مدتی شرائط پر تھی اور یہ مختصر مدت کی شرائط پر نہیں تھی کہ جس سے صرف ٹوکن قیمت میں اضافہ ہو۔ اور ان میں سے کچھ بہت بڑی شرط لگی تھے۔ پچ بک کے مطابق بلاک چین کمپنیوں کے آٹھ میں سے دس بڑی کمپنیوں میں وینچر سرمایہ کاری 2018میں ہوئی۔ چین کی مائننگ چپ میکر بٹ مائن نے1.3ارب ڈالر اپنے لئے اکٹھے کیے۔

کرپٹو پر توجہ مرکوز کرنے والے وینچر سرمایہ کاروں نے قیمتوں میں کمی کو پہلے ہی بھانپ لیا تھا۔وینچر کیپیٹل فرم پولی چین کیپیٹل کی پارٹنر نیراج پینٹ کا کہنا ہےکہ اب صنعت زیادہ مضبوطی سے قائم ہے۔ پینٹ کا کہنا ہے ،” 2015 میں یہ محسوس ہوا کہ سب کچھ واقعی مر گیا تھا اور ہم اس بات کا یقین نہیں کر رہے تھے کہ مارکیٹ واپس اٹھےگی۔ اب بھی ایسا لگتا ہے کہ جیسے ابھی تک بہت سارا سامان موجود ہے۔”

ایک اہم فرق نام نہادانسٹی ٹیوشنل سرمایہ کاروں جیسا کہ ہیج فنڈز اور فیملی آفس ہیں، کے درمیان کرپٹو اثاثوں میں وسیع دلچسپی ہے۔ ٹیکنالوجی کے ایڈوکیٹ یقین رکھتے ہیں ہے کہ یہ سرمایہ کار مارکیٹ پر زیادہ اعتماد لے کر آئیں گے اور کرپٹو اثاثوں کو وسیع پیمانے پر اپنائیں گے۔ دو ایکس چینجوں نےانسٹی ٹیوشنل اداروں بکٹ (Bakkt)اور کوئن بیس(Coinbase) سرمایہ کاروں کو جارحانہ ٹارگٹ کرکےاکتوبر سے لے کر اب تک تقریباً آدھا بلین ڈالر اکٹھا کر لیا ہے۔

لیکن بلاک چین ٹیکنالوجی کوابھی بھی بنیادی تکنیکی رکاوٹوں کا سامنا ہے جو اسے بڑے پیمانے پر موثر طریقے سے چلنے سے روکتی ہیں۔ لہٰذا وینچر کیپیٹل کی فرموں نے نئے بلا ک چین سسٹم پر بڑی شرط لگائی ہے جن کے تخلیق کاروں کا دعویٰ ہے کہ وہ مسائل حل کرسکتی ہے۔ گزشتہ اگست میں، سمارٹ کنٹریکٹ پلیٹ فارم ڈفینیٹی اور ہیڈرہ ہیشگراف میں سے ہر ایک نے 100ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم اکٹھی کی۔ اکتوبر میں ایم آئی ٹی کے پروفیسر سلویو میککالی کی طرف سے بنائے گئے بلاک چین سسٹم الگورانڈ نے62ملین ڈالر اکٹھے کیے۔

شاید وینچر کیپیٹل کے لئے نام نہاد ڈی سنٹرلائزڈ سے زیادہ کوئی ایریا آسان نہیں ہے ۔یہ کیٹگری وسیع ہے اور اس میں مالی سروس بھی شامل ہے جو روایتی مالیاتی اداروں پر بھروسہ نہیں کرتی ہے ۔بعد ہی میں ہم نے شرح سود میں اضافہ بھی دیکھا ہے جس کی وجہ ایتھریم کی بنیاد پر چلنے والی قرض دینے والی کمپنیوں میں اضافہ ہے۔

حال ہی میں یونین اسکوائر وینچرز کے فریڈ ولسن نے لکھا تھا کہ ان ایپلی کیشنز کو بڑی ٹرانزیکشن کی ضرورت نہیں ہے لہٰذا وہ جلد ہی شروع ہو سکتی ہیں۔ ولسن نے کہا کہ “مجھے لگتا ہے کہ اگلے چند برسوں میں ہم بلاک چین میں اضافہ دیکھیں گے جو مین سٹریم کنزیومر کو ایپلی کیشن کی اجازت دیں گے۔”لیکن تب تک ( ڈی سنٹرلائزڈ فنانس) ایک اچھی جگہ ہے۔”

تحریر: مائیک آرکٹ

Read in English

Authors

*

Top