Global Editions

وائی فائی نے بند دروازے سے دیکھنا ممکن بنا دیا

سمارٹ فون اور کچھ کمپوٹیشن سے محققین لوگوں کو ان کےگھروں میںٹریک کر سکتے ہیں۔

وائی ​​فائی ریڈیو لہروں کے ساتھ ہماری دنیا بھرتی ہے۔گھر میں، دفتر میں اور شہر کی بڑی گلیوں میں انسان دواعشاریہ چار سے پانچ گیگاہرٹز کے ریڈیو سگنلز کے بیک گرائونڈ فیلڈمیں نہاتے ہیں۔اور جب لوگ حرکت کرتے ہیں،وہ اس فیلڈ کو خراب کرتے ہیں اور ان لہروںکی ریفلیکشن اورری فریکشن جاری رہتی ہے۔

اس چیز نے محققین کے ایک گروپ کو ایک دلچسپ آئیڈیا دیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ تھیوری میں یہ ممکن ہونا چاہیے کہ تبدیل ہوتے الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ کے استعمال سے لوگوں کی پوزیشن، عمل اور نقل وحمل کاپتہ چلے۔ درحقیقت بہت سارے گروپس نے تصوراتی نظام تخلیق کیے ہیں جو وائی فائی کو دیوار کے ذریعہ ـ"دیکھنےـ" میں استعمال کرتے ہیں۔

لیکن ان سارےنظاموں میں نقائص ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ وائی فائی ٹرانسفارمرز کی صحیح پو زیشن کو جاننے پر زور دیتے ہیں اور ان کو نیٹ ورک میں لاگ ان کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ سگنل کو آگے پیچھے بھیج سکیں۔

یہ عام جاسوس کے لئے ممکن نہیں ہے جو روایتی پر صرف آف دی شیلف وائی فائی تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں جیسےسمارٹ فونز میں بنائے گئے وائی فائی۔ اس قسم کا سیٹ اپ صرف بنیادی ہے اور نیٹ ورک کی موجودگی کے سوا بند دروازوں کے بارے میں کوئی مفید معلومات ظاہر نہیں کر سکتا۔ اس کے بارے میں یہ خیال سب محقیقین کا ہے۔آج یہ خیال کیلیفورنیا یونیورسٹی کےیانزی زہو ، سانتا باربرا اور اس کے ساتھیوں کے کام کی وجہ سے تبدیل ہو چکا ہے۔ ان لوگوں نے وسیع پیمانے پر وائی فائی سگنل اور ایک عام اسمارٹ فون کا استعمال کرتے ہوئے دیواروں کے ذریعے دیکھنے کا ایک راستہ ڈھونڈھ لیاہے۔
وہ کہتے ہیں کہ نئی تکنیک رازداری پر غیر معمولی حملے کی اجازت دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں ،"اسمارٹ فونز کا استعمال کرتے ہوئے برے اداکار مقامی وائی فائی ٹرانسمیشن کے ذریعے بیرونی دیواروں سے آپ کو آپ کے گھر یا دفتر میں ٹریک کر سکتے ہیں۔"

پہلے کچھ پس منظر۔ اگر انسان دنیا کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے وائی فائی دیکھتا ہے تو یہ ایک عجیب زمین کی تزئین لگے گی۔ دروازے اور دیواریں تقریبا ًشفاف ہوں گی اور تقریباً ہر گھر اور دفتروائی فائی بلب کے ٹرانسمیٹر کے ذریعے اندر اندر سے روشن ہوجائیں گے۔

لیکن وسیع پیمانے پر شفاف ہونے کے باوجود، اس دنیا کی بمشکل کوئی بات بنے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دیوار، دروازے اور فرنیچر اسی طرح کی روشنی کی عکاسی کرتے ہیں اور اس کو موڑنے کے ساتھ ساتھ ٹرانسمٹ کرتے ہیں۔ لہٰذا کسی بھی تصویر کی ریفلیکشن ناممکن ہو گی۔

لیکن یہ لوگوں کی نقل و حرکت میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ پہلا مسئلہ نہیں ہے ۔انسان بھی اس وائی فائی کی روشنی کی عکاسی کرتے ہیں اور اس میں خلل ڈالتے ہیں۔ اگرچہ باقی تفصیلات خراب ہو جائیں گی تاہم خلل اور اس کے چلنےکے انداز سے وائی فائی کی آنکھوں سے واضح نظر آئیں گے۔یہ وائی فائی کا
پاگل پن واضح طور پر ظاہر کرے گا کہ دیوار کے پیچھے کون تھا اور اگر ایسا ہے، تو کیا وہ شخص چل رہا ہے۔

یہ زہو اور اس کےشریک ساتھیوںکی وائی فائی کی بنیاد پر تحقیق کا نچوڑ ہے۔یہ عام وائی فائی سگنلز میں تبدیلی کا خواہاں ہے جو انسانوں کی موجودگی کے بارے میں بتاتے ہیں۔
چیلنج دراصل بیان کیے گئے معاملات سے کہیں مشکل ہے کیونکہ وائی فائی کے سنیفرز ( sniffers )بالکل ایک تصویر پیدا نہیں کرتے ہیں۔زہو اور اس کے ساتھی جو ڈیٹا استعمال کرتے ہیں، وہ کسی خاص مقام پر صرف سگنل کی طاقت کی پیمائش ہے۔ یہ آپ کو ٹرانسمیٹر کے مقام کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا۔ اور یہ جانے بغیر، یہ کہنا ناممکن ہے کہ کوئی انسان کیسے یہاں خلل ڈال سکتا ہے۔

لہٰذا محققین کے نقطہ نظر میں پہلا قدم وائی فائی ٹرانسمیٹر کا پتہ لگانا ہے۔ وہ سگنل کی طاقت میں تبدیلی کی پیمائش ٹارگٹ بلڈنگ یا کمرہ سے باہر ہو کر کرتے ہیں۔ دراصل، انہوں نے ایسی ایپ تخلیق کی ہے جو ان حرکات کو ریکارڈ کرنے کے لئے سمارٹ فون کی بلٹ ان تیز رفتار میٹر کا استعمال کرتی ہے اور پھر چلتے ہوئے سگنل کی طاقت میں تبدیلی کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس طریقے سے بے شمارریفلیکشن اور خلل کے باوجود ٹرانسمیٹرکی پوزیشن کے نمبر کا پتہ لگانا ممکن ہو جاتا ہے۔

اس چیز یہ بھی ممکن ہے کہ پتہ لگایا جائے کہ ٹرانسمیٹرکوکسی بھی گھر میں کونسی جگہ رکھا جاتا ہے کیونکہ امریکہ میں زیادہ تر گھر اوردفاترکی منزلیں رئیل اسٹیٹ کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ کمرے یا عمارت کےکچھ آگے پیچھے چلنے کے بعد، وہ ٹرانسمیٹرکو قابل اعتماد طریقے سے تلاش کرسکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں :"ہم نے محسوس کیا کہ کمرہ کی لوکلائزیشن کی اوسط 92.6%فی صد درستگی حاصل کرنے کے لئے چار راؤنڈ کی پیمائش کافی ہے۔
ایسا کرنے کے بعد، یہ صرف انتظار کا ایک سوال ہے۔اگر ہدف کی گئی عمارت کے اندر کچھ بھی نہیں چلتا تو وائی فائی سگنل کے سگنل مستقل ہو جائیں گے۔ لیکن کوئی چھوٹی سی حرکت اس طریقے سے سگنل کوتبدیل کرتی ہے جس سے درست پیمائش ہو سکتی ہے۔

ز ہو اور اس کے ساتھی ظاہر کرتے ہیں کہ مختلف طریقوں سے سگنلز کو کس طرح تبدیل کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، دروازے کا کھلنا دو متصل کمروں میں فیلڈ کو تبدیل کرتا ہے اور اس طرح اس کی جگہ کا پتا لگانا آسان کام ہے۔ اس کے ارد گرد گھومنے سے بڑا خلل پڑتا ہے اور ٹائپنگ کی طرح جیسی کارروائی بھی چھوٹی تبدیلیاں لاتی ہےجو ایک سمارٹ فون وائی فائی کا رسیور اٹھا سکتا ہے۔

ٹیم کا یہ کہنا ہےکہ انہوں نے اس اپروچ کو چیک کرنے کے لئے Nexus 5 اور Nexus 6 کا استعمال کرکےسمارٹ فونز کو 11 مختلف دفاتروں اور اپارٹمنٹوںسے منسلک کرکے مشاہدہ کیا ہے ۔ ان سب میں بہت سارے وائی فائی ٹرانسمیٹرشامل تھے۔

اضافی ٹرانسمیٹر اس اپروچ کی درستگی کو بہتر بناتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے :"ہم دیکھتے ہیں کہ ایک باقاعدہ کمرے میں دو سے زائد وائی فائی ہمارے حملے کی میں صورت میں ہر ایک کمرہ میں 99فیصدصارفین کی موجودگی اور حرکت کا پتا چلاسکتے ہیں۔"

یہ تصور کرنا مشکل نہیں ہے کہ کسی عمارت میں افراد کی موجودگی یا خالی ہونے کے بارے میں کوئی غلط نیت والا آدمی پتا چلا سکتا ہے۔

ٹیم کا کہنا ہے کہ اس قسم کے حملے کے خلاف مختلف دفاع ہیں جیسے وائی فائی سگنلز کی جیو فنسنگ لیکن ان پر عمل درآمد مشکل ہے اور یہ کم حد تک موثر ہیں۔ اس کا سب سے بڑا دفاع ان میں شور والے سگنلز ڈالنا ہے۔ محققین اس حل کو مستقبل میں مزید تفصیل سے تیار کرنے کے لئے پر امید ہیں۔

اس دوران پتہ چلتا ہے کہ صرف وائی فائی سگنل کی زیادہ سے زیادہ موجودگی رازداری کے لئے بڑا خطرہ ہے۔ زہو اور اس کے ساتھیوں کا کہنا ہے،"ہماری روز مرہ زندگی میں بہتری کے باوجود، (وائرلیس ٹرانسمیشن) بغیر جانے ہمارے اور ہماری حرکت کے بارے میں معلومات کا انکشاف کرتی ہیں۔ اس وقت، اس خطرہ کو بہت زیادہ حد تک نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اس کو بہت جلد تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی۔

تحریر: ارزییو(arXiv)

Read in English

Authors
Top