Global Editions

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے انتخابی عمل میں تبدیلی

اوپن سورس سے لے کر جی آئی ایس اور بلاک چین تک، کئی اقسام کی انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز ووٹر کی رازداری اور تحفظ میں خلل ڈالے بغیر انتخابی عمل کو زيادہ قابل اعتماد بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔

بھارت میں 2019ء میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں ووٹر ویری فائيڈ پیپر آڈٹ ٹریل (Voter Verified Paper Audit Trail – VVPAT) ٹیکنالوجی کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا گيا۔ اس نئے سسٹم میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینز (Electronic Voting Machines – EVMs) کی مدد سے ایک پرچی پرنٹ کی جاتی ہے جس پر ووٹرکی منتخب کردہ پارٹی اور امیدوار کے نام درج ہوتے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے 2000ء کی دہائی کی ابتداء سے ہی ای وی ایم کے ذریعے انتخابی عمل کو خود کار بنانا شروع کردیا تھا اور اب وی وی پی اے ٹی کے متعارف ہونے کے بعد سیاسی پارٹیوں، امیدواران، مبصرین اور عام شہریوں کے لیے نتائج کی تصدیق کرنا زیادہ آسان ہوگیا ہے جس سے شفافیت میں اضافے کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی ٹیکنالوجیز کے استعمال کی وجہ سے اس سال بھارت میں ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے انتخابات کے اختتام پذیر ہونے کے بعد، اب ہم مختلف انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز سے وابستہ فوائد اور نقصانات پر روشنی ڈال سکتے ہيں۔

ان ٹیکنالوجیز سے انتخابی عمل کی درستی اور تحفظ میں اضافہ اور اخراجات میں کمی ممکن ہیں، جن سے ووٹر کا تجربہ بہتر ہوگا۔ انتخابات سے پہلے، انتخابات کے دوران، اور انتخابات کے بعد، تمام مراحل کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے پورے عمل کو زیادہ موثر بنایا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر، جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) ٹیکنالوجیز کی مدد سے حلقوں کی حدود کا تعین ممکن ہے۔ اسی طرح، اب انتخابات کے روز ووٹر رجسٹریشن، انتخابی مہموں اور انتخابی عمل کو زیادہ آسان بنایا جاسکتا ہے۔ 2019ء کے عام انتخابات میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے جس وی وی پی اے ٹی کا استعمال کیا تھا، اسے اس آخری زمرے میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

اوپن سورس ٹیکنالوجی سے معتبریت اور سائبرسیکورٹی کے مسائل کا حل ممکن ہے

بھارت میں منعقد ہونے والے تمام انتخابات میں سٹرانگ کمروں میں (یعنی ان کمروں میں جہاں بیلٹ مکمل ہونے کے بعد ای وی ایمز کو رکھا جاتا ہے) توڑ پھوڑ سے لے کر ای وی ایمز کے حصول اور تحفظ کی خلاف ورزی کے قصے عام ہیں۔

انتخابی عمل کے معتبریت میں اضافہ کرنے کے لیے اوپن سورس الیکشن ٹیکنالوجی یا او ایس ای ٹی (Open Source Election Technology – OSET) پر غور کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک نیا تصور نہيں ہے۔ بلکہ اوپن سورس کا انقلاب دنیا بھر میں مارکیٹ میں دستیاب ٹیکنالوجی کے جواب میں 2000ء کی دہائی میں شروع ہوا تھا اور اب امریکہ میں ٹیکسس کی ٹریوس کاؤنٹی کے علاوہ لاس اینجیلس اور سان فرانسسکو کی کاؤنٹیوں اور ڈیفینس ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹس ایجنسی (Defence Advanced Research Projects Agency – DARPA) جیسی وفاقی ایجنسیاں بھی او ایس ای ٹی استعمال کرنے والے ووٹنگ سسٹمز پر کام کررہی ہیں۔

جمہوری انتخابات کی کامیابی شفافیت، اعتماد اور تحفظ پر منحصر ہے۔ اگر ان میں استعمال ہونے والے آلات قابل اعتماد ہوں گے تو بڑی تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے آئيں گے۔ اوپن سورس ٹیکنالوجی کے عوامی معائنے اور لائسنسنگ کے لیے دستیاب ہونے اور کسی مخصوص وینڈر کے ہاتھ میں نہ ہونے کی وجہ سے یہ سب کچھ ممکن ہے۔ بھارت میں یہ وینڈرز بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ یا بی ای ایل (Bharat Electronics Limited – BEL) اور الیکٹرانکس کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ یا ای سی آئی ایل (Electronics Corporation of India Ltd. – ECIL) ہیں۔ اوپن سورس ٹیکنالوجی کم قیمت ہونے کے علاہ اپنی مرضی کے سند یافتہ سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کے استعمال کو ممکن بناتی ہے۔ بھارتی حکومت کے پاس پہلے ہی سے اوپن سورس سافٹ ویئر پالیسی (Open Source Software Policy) موجود ہے، اور اسے کم از کم سات ریاستوں میں مختلف ترقیاتی سکیموں میں استعمال کیا جارہا ہے۔

سائبرسیکورٹی ایک بہت حساس مسئلہ ہے اور امریکہ کے 2016ء کے صدارتی انتخابات میں روس کی ممکنہ مداخلت کے متعلق روبرٹ مویلر کی رپورٹ کے بعد اس کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ او ایس ای ٹی ٹولز کی مدد سے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر ہیکرز کا مقابلہ کرنے کے علاوہ ووٹرز کی تفصیلات کی تصدیق کرنے اور آزادانہ فیصلہ کرکے باخبر انتخابات کرنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ اس کے برعکس کلوزڈ سورس ٹولز میں خامیوں کی نشاندہی کرنا زيادہ مشکل ثابت ہوتا ہے جس کی وجہ سے حملوں کو کم کرنا ناممکن ہے۔

سائبرسیکورٹی کے فروغ کے دوران ریورس انجنیئرنگ کا پراسیس وائرس کے تجزیہ کار اور سائبر انٹیلی جنس کے ریسرچرز دونوں ہی کے لیے نہایت اہم ہے۔ خلاف ورزی کی روک تھام کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ وائرس کس طرح کام کرتا ہے، اسے کس نے کوڈ کیا تھا، وہ کہاں سے آیا تھا، اور وہ کیا کیا کرسکتا ہے۔ اوپن سورس ٹیکنالوجی پورے پراسیس کے کسی بھی مرحلے میں خامیوں کی نشاندہی کے سلسلے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر، امریکی نیشنل سیکورٹی ایجنسی نے سائبرسیکورٹی کا دفاع کرنے والے افراد کے لیے اوپن سورس استعمال کرنے والا ریورس انجنیئرنگ ٹول متعارف کیا ہے جس کا نام گھدرا (Ghidra) ہے۔

رسائی میں اضافہ کرنے والی ٹیکنالوجی

بھارتی انتخابات میں استعمال ہونے والی ای ایم ویز (EMVs) میں پارٹی کی علامات اور امیدواروں کے نام آمنے سامنے لکھے ہیں اور ہر صف میں ایک بٹن موجود ہے جسے دبا کر ووٹ ڈالا جاسکتا ہے۔ اس وقت معذور ووٹرز کے لیے ایک غیرپیچیدہ الیکٹرانک انٹرفیس کی ضرورت ہے، جیسا کہ امریکہ میں انتخابات کے قوانین کے مطابق ہر پولنگ سٹیشن میں شامل کرنا ضروری ہے۔

آگے چل کر ڈیجیٹل عمل میں آواز کی پہچان اور متعدد ٹچ استعمال کرنے والے پراسیسز بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ اس انٹرفیس میں امیدواروں کی تصویروں کا اضافہ کیا جاسکتا ہے جن کی مدد سے غیرخواندہ ووٹرز اپنے مطلوبہ امیدوار کی شناخت کرکے ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ اسی طرح یہ ٹیکنالوجی معذور افراد کو بھی ووٹ ڈالنے میں معاونت فراہم کرسکتی ہے۔ یہ سہولیات خاص طور پر ان افراد کے لیے کارآمد ثابت ہوسکتی ہیں جو ٹانگوں یا بازوؤں سے محروم ہيں۔

لمبی قطاروں کے لیے بگ ڈیٹا

ابھرتی ہوئی جمہوریتوں میں پولنگ سٹیشنز میں لمبی قطاروں کو اکثر عوام کے جمہوریت میں اعتماد کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ اہم دوسری طرف ان سے ووٹروں کو تکلیف بھی ہوتی ہے اور ان کا وقت بھی ضائع ہوتا ہے جس کی وجہ سے کئی لوگ ووٹ ڈالنے نہيں نکلتے۔

کیلٹیک اور ایم آئی ٹی ووٹنگ ٹیکنالوجی پراجیکٹس کی تحقیق کے نتیجے میں قطاروں میں انتظار کرنے کے متعلق ایک پوری سائنس ایجاد ہوئی ہے جسے ‘‘کیوئینگ تھیوری’’ (Queueing Theory) کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہوتا ہے، اس تھیوری کا تعلق قطاروں کے بہتر انتظام سے ہے۔ متعدد یورپی ممالک اور امریکہ میں بائی پارٹیسن پالیسی سینٹر جیسے کئی اداروں نے قطاروں کے متعلق کافی تحقیق کی ہے، جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پولنگ سٹیشنز کے وسائل کے بہتر انتظام سے وقت کے ضیاع میں کمی لائی جاسکتی ہے۔

بگ ڈیٹا اینالیٹکس (جو پہلے سے ہی ڈیٹا کے حصول کے لیے استعمال کیے جارہے ہيں) اور مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے ویب بیسڈ سافٹ ویئر ٹولز سے ووٹروں کی تعداد میں قابل قدر اضافہ ممکن ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے سافٹ ویئر ٹول میں ووٹر کی آمد کا دورانیہ، قطار میں انتظار کرنے والے ووٹروں کی تعداد، ووٹ ڈالنے والے ووٹرز، اور پولنگ بوتھ سے نکلنے والے ووٹروں کا ریئل ٹائم تجزیہ شامل ہونا چاہیے۔ اس کے بعد اس ڈيٹا کا سٹیفن گریوز (Stephen Graves) اور رونگ یوان (Rong Yuan) کے بنائے گئے ڈیٹابیس (جسے گریوز یوان ٹول کہا جاتا ہے) سے ملتے جلتے ڈیٹابیس میں ڈالا جاسکتا ہے۔ یہ نیا سیمولیشن ماڈل کا طریقہ کار پہلے ہی صنعتی سسٹمز میں زیراستعمال ہے، اور اس سے ایک زیادہ تیز انتخابی عمل کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے جس پر ووٹروں کو زيادہ اعتماد ہو۔

بلاک چین کو بھی آزمایا جاسکتا ہے

انتخابات میں بلاک چین ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔ موبائل ووٹنگ کے دوران ایک محفوظ اور آزمودہ انٹرفیس کی مدد سے فریب دہی میں کمی اور ووٹروں کی تعداد میں اضافہ ممکن ہیں۔ اس سے ان شہریوں کے لیے بھی ووٹ ڈالنا ممکن ہوگا جو اپنے شہر یا ملک سے دور رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس ٹول سے الیکشن کمیشنز کے لیے شفافیت برقرار رکھنا، انتخابات منعقد کروانے کے اخراجات میں کمی لانا، ووٹ گننے کے عمل کو زيادہ آسان بنانا اور تمام ووٹس کی گنتی کو یقینی بنانا ممکن ہے۔

یہاں مغربی ورجینیا کے انتخابات کی مثال دینا مناسب ہوگا۔ ریاستی انتخابات کی باڈی میں ووٹروں کو موبائل آلے کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی اجازت دینے سے پہلے انگوٹھے کے سکینز جیسے بائیومیٹرک ٹولز کی مدد سے ان کی تصدیق کرنے کی سہولت موجود ہے۔ ہر ووٹ کو ایک ووٹنگ کی چین میں شامل کیا جاتا ہے، جس کے بعد ایک تیسرا فریق ریاضی کے اصولوں کے تحت اس کی تصدیق کرتا ہے۔ بلاک چین کی مدد سے ووٹرز کی شناخت افشا کیے بغیر انتخابی عمل کے تمام ڈيٹا کو ایک عوامی طور پر قابل تصدیق لیجر میں ریکارڈ کیا جاسکتا ہے تاکہ نتائج فوری طور پر دستیاب ہوسکیں۔

پولنگ کا مستقبل

مستقبل میں پولنگ کے مقام کی ٹیکنالوجیز بھی اہم فیصلوں کے لیے ضروری ڈیٹا کو اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ انتخابات کے دوران سیاسی ماحول گرم ہونے کی وجہ سے جذبات کا عمل دخل بہت زیادہ ہوتا ہے۔ لہٰذا ثبوت پر مشتمل فیصلے معتبریت اور اعتماد میں اضافے کے لیے بہت اہم ہیں۔ سیاسی پارٹیاں، سول سوسائٹی، اور آزادانہ انتخابی ادارے سب ہی کو جائز اور قابل اعتماد انتخابات کے متعدد معیارات قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ جب کوئی حکومت پہلی دفعہ یا پرانے سسٹم تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آنے کی وجہ سے جدید ووٹنگ سسٹمز پر غور کرتی ہے تو وہ دنیا بھر میں اس جیسے دوسرے سسٹمز کے استعمال سے اہم واضح اہداف اور توقعات متعین کرنے کے متعلق بہت کچھ سیکھ سکتی ہے۔

اس حوالے سے منصوبہ بندی میں مستقبل کا خواب دیکھنا اور ہر نسل کی توقعات پر غور کرنا ضروری ہے۔ دنیا بھر میں بزرگوں اور معذور افراد کو سہولت پہنچانے کے متعلق آگاہی بڑھ رہی ہے، لہٰذا الیکشن ٹیکنالوجی کے لیے ان افراد کے تجربے کی بہتری بہت اہم ثابت ہو گی۔ اسی طرح عالمی اور قومی معیشت میں تبدیلیوں کی وجہ سے دوسرے ممالک میں رہنے والے ٍافراد کی وجہ سے بھی جدید ترین ٹیکنالوجیز کی مدد سے انتخابی عمل میں انقلاب لانے کی رورت پیش آئے گی۔

اگر نوجوان انتخابات کی ٹیکنالوجی کو فرسودہ تصور کریں گے تو کیا وہ انتخابی عمل میں شرکت نہيں کریں گے؟ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نوجوان نسل کی زندگیوں کا بہت اہم حصہ ہیں اور وہ انتخابی عمل میں بھی ٹیکنالوجی کے استعمال کی توقع رکھتے ہيں۔

کاظم رضوی ٹیکنالوجی، معاشرہ اور پبلک پالیسی کے انضمام پر کام کرنے والی بھارتی تھنک ٹینک دی ڈائیلاگ (The Dialogue) کے بانی ڈائریکٹر ہيں۔

ہرش باجپائی دی ڈائیلاگ کے پروگرام مینیجر ہيں اور ٹیکنالوجی پالیسی پر کام کرتے ہيں۔

تحریر: کاظم رضوی، ہرش باجپائی (Harsh Bajpai and Kazim Rizvi)

Read in English

Authors

*

Top