Global Editions

پیک شدہ خوراک کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال

نام: ریانہ لن (Riana Lynn)

عمر:  33 سال

ادارہ: جرنی فوڈز (Journey Foods)

جائے پیدائش: امریکہ

بیالوجسٹ سے سلسلہ وار انٹر پرنیور کا راستہ اختیار کرنے والی  ریانہ لن کے خیال میں مصنوعی ذہانت سے پیک شدہ خوراک نہ صرف خوش ذائقہ بلکہ کم قیمت، غذائیت سے بھرپور اور  نباتاتی بھی ہوسکتی ہے۔ دنیا بھر کے فارمز اور خوراک کی کمپنیوں کا  دورہ کرنے کے بعد، انہیں یہ معلوم ہوا کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کا سب سے بہترین حل  خوراک کی صنعت میں ترقی اور تحقیق کو زیادہ موثر بنانا ہے۔

لائن کی شکاگو میں واقع کمپنی، جرنی فوڈز، جرنی اے آئی (JourneyAI) نامی خودکار سائنسدان کو استعمال میں لاتی ہے۔ غذائیت کے ڈیٹا بیس، بازار سے حاصل کردہ ڈیٹا اور لن کے بنائے گئے الگورتھم کی مدد سے بنایا گیا جرنی،  غذائیت کے مقرر حدف کو مدِنظر رکھ کر  کام کا آغاز کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، اسے یہ ہدف دیا جاسکتا ہے کہ وہ ایسی چیز بنائے جس میں  وٹامن سی اور پروٹین تو زیادہ ہوں مگر اس کی قیمت کم ہو۔ اس کے بعد وہ پھر ایسی غذا تیار کرتا ہے جو مطلوبہ حدف کو پورا کرسکے۔

کمنپی نے آغاز ہلکے پھلکے پھلوں کے ناشتہ سے کیا۔  یہ ناشتے جن کو جرنی بائیٹس (Journey Bites) کا نام دیا گیا، مکمل طور پر فروٹ پوری، ذائقے کے قدرتی ذرائع جیسے کے لال مرچ،  تخم ملنگا  اور غذائیت بڑھانے والے اجزاء سے مل کر بنتے ہیں جن کو  فروٹ کلچر کی جانچ پڑتال، سمندری سوار کی مختلف اقسام  اور دوسرے ذرائع استعمال کرتے ہوئے بنایا گيا ہے۔

لن کہتی ہیں کہ ان کی کمپنی اب اپنے پلیٹ فارم میں نئی اشیاء شامل کر کے اسے مزید وسیع کرہی ہے۔ “ہمیں نباتاتی پروٹین، کوکیز ، پاستہ اور دوسری اشیاء کی تیاری کے لیے ڈیٹا سیٹ بنانے  کے لیے  کہا جا رہا ہے۔  ہم جلد ہی مشروبات پر کام کرنا شروع کر دیں گے”

تحریر:   ڈین  سولومن (Dan Solomon)

مترجم: سہیندر لعل

Read in English

Authors

*

Top