Global Editions

امریکی افواج مصنوعی حیاتیاتی ہتھیار کے بارے میں جاننا چاہتے ہيں

دوبارہ تخلیق کردہ وائرس اور زہریلے بیکٹیریا سرفہرست ہیں۔

امریکی ڈپارٹمنٹ آف ڈيفنس کے لیے منعقد ہونے والے ایک مطالعے کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ نئے جینیاتی انجنيئرنگ کے ٹولز کے ذریعے بائیولوجی کو پہلے سے زيادہ خطرناک طریقوں سے استعمال کیا جارہا ہے، جن کے لیے ضروری وقت میں کمی واقع ہورہی ہے۔

ان نئے ٹولز کو وسیع پیمانے پر بیماری کے خلاف مزاحمت رکھنے والے پودے اور نئی اقسام کی ادویات تخلیق کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اور یہ بذات خود خطرناک نہيں ہیں۔ تاہم 221 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کے مطابق کمپنیوں اور یونیورسٹی لیبس میں بڑی تیزی سے کام ہورہا ہے، جس سے "مصنوعی حیاتیاتی ہتھیار" کے متعلق خدشات میں اضافہ ہورہا ہے۔

نیشنل اکیڈمیز آف سائنسز کی طرف سے جاری کردہ اس رپورٹ کا شمار CRISPR جیسی جین کی ترمیم کی ٹیکنالوجیز کی وجہ قومی سے سلامتی کو لاحق خطرات کی درجہ بندی کی پہلی کوششوں میں ہوتا ہے۔

جانز ہاپکنس کے پبلک ہیلتھ کے ریسرچر گیگی گرون وال، جو اس رپورٹ کے 13 مصنفوں میں سے ایک ہیں، کہتے ہيں "مصنوعی بائیولوجی سے خطرے میں اضافہ ہوتا ہے، اور یہ بہت پریشانی کی بات ہے۔ اس رپورٹ کے ذریعے غلط استعمال کے خطرے کا باقاعدہ طور پر تخمینہ لگانا ممکن ہوگا۔"

مصنوعی بائیولوجی ان تکنیکس کو کہا جاتا ہے جن کی مدد سے جینیاتی انجنیئرنگ کی رفتار میں اضافہ ممکن ہے، اور ماہرین اب تک اس کے خطرات کے متعلق اتفاق رائے قائم نہيں کر پائے ہیں۔ 2016ء میں مصنوعی بائیولوجی کو امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی نے جین کی ترمیم کی ٹیکنالوجی کو ممکنہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار کی فہرست میں شامل کرلیا گيا۔

ڈپٹی اسسٹنٹ برائے وزارت دفاع برائے کیمیائی اور حیاتیاتی دفاع ڈی کرسچن ہیسل (D. Christian Hassell) نے یہ رپورٹ شعبے کے نمایاں مفکروں اور سربراہوں کے اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے لکھوائی تھی، لیکن ان کے مطابق اس موضوع کے متعلق بہت کچھ لکھے اور کہے جانے کے باوجود بھی یہ مقصد پورا نہيں ہوسکا ہے۔

ہیسل کے مطابق فوج کا کہنا ہےکہ مصنوعی حیاتیات اس وقت تو بہت بڑا خطرہ نہيں ہے، لیکن اس کے لیے تیار رہنا بہت ضروری ہے کیونکہ، ٹیکوں کی طرح، دفاع تیار کرنے میں بھی کئی سال لگ جاتے ہيں۔

اس رپورٹ میں عملدرآمدگی کی راہ میں تکنیکی رکاوٹوں، متاثر ہونے والے افراد کے پیمانے، اور حملے کی نشاندہی جیسے امکانات کو زیرغور لا کر ممکنہ خطرات کا موازنہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس کے ذریعے معلوم ہوا کہ "اس وقت تو مصنوعی بائیولوجی کو نقصان دہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت محدود ہے، لیکن یہ آگے چل کر ممکن ہوسکتا ہے۔"

مصنفین کے مطابق ایک بات جو نہایت پریشان کن ہے، وہ یہ ہے کہ کسی بھی ملک یا کسی بھی دہشت گرد کے لیے چیچک جیسے وائرس کو دوبارہ تخلیق کرنا بہت آسان ہوجائے گا۔ کسی وائرس کو اس کے ڈی این اے سے تخلیق کرنے کی صلاحیت کا ثبوت سامنے آچکا ہے، اور اس خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔

اس تخمینے کے عمل سے ایسے بھی خطرات سامنے آئے ہیں جن کی مصنفین کو توقع نہيں تھی۔ اس میں انسان کے پیٹ میں موجود بیکٹیریا سے زہریلا مواد بنانے کے طریقہ کار کی ایک مثال پیش کی گئی تھی، جسے اس وجہ سے نہایت پریشان کن سمجھا گیا کیونکہ کمپیوٹر وائرس کی طرح اس قسم کے حملے کی نشاندہی کرنا یا اس کے ذریعے کا پتا لگانا بہت مشکل ثابت ہوگا۔

اس رپورٹ میں شامل ہونے والے تصوراتی ہتھیار میں سے کئی میں صرف چھ سال پہلے ایجاد ہونے والے CRISPR نامی جین کی ترمیم کے طریقہ کار سے فائدہ اٹھایا گیا تھا۔ اس رپورٹ کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی مدد سے انسانی ڈی این اے کو چیر کر انسانی جسم میں کینسر متعارف کروانا ممکن ہوسکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر سائنسدان جانوروں کی جینز تو تبدیل کرکے ان کے جسم میں بیماریاں پیدا کرسکتے ہيں، تو انسانی جینومز کو بھی اسی طرح تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ، دیگر خطرات کی شدت میں کمی سامنے آئی۔ مثال کے طور پر، اس وقت سائنس کے میدان میں ایسے کئی عناصر ہيں جن کے متعلق مکمل طور پر معلومات موجود نہيں ہے، اور اس وجہ سے بالکل نئے مصنوعی وائرسز تخلیق کرنے کی صلاحیت کو محدود سمجھا جارہا ہے۔

امریکی افواج پہلی ہی مصنوعی بائیولوجی پر سب سے زيادہ رقم خرچ کررہے ہيں۔ ان کی تحقیق دفاعی نوعیت کی ہے، لیکن لندن کے کنگز کالج میں بائیوسیکورٹی کے سینیئر ریسرچ فیلو فیلیپا لینٹزوز (Filippa Lentzos) کے مطابق اس رپورٹ میں بیان کردہ فرضی صورتحالوں سے کئی دوسرے ممالک کی نیندیں حرام ہوسکتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں "ہم حیاتیاتی ہتھیاروں کی دوڑ شروع نہيں کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سوال اٹھانا بہت ضروری ہے کہ اس ایجنڈا کے پیچھے کون ہے، اور دوسروں کو کیا تاثر دیا جارہے ہے۔ مصنوعی بائیولوجی کا بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی فنڈنگ کے پیچھے مسلح افواج ہیں۔"

ماضی میں امریکہ اور دوسرے ممالک کو چیچک جیسے جراثیم کے بارے میں زيادہ فکر نہيں تھی، اور انہیں ان ایجنٹس کی فہرست میں ڈال دیا گيا تھا جنہیں بہت سختی سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ لیکن، جیسے جیسے بائیوٹیک کی صلاحیتوں میں اضافہ ہورہا ہے، یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ ان خطرات کی محض فہرست بنانا کافی نہيں ہوگا۔

اس رپورٹ کے مطابق امریکہ کو "ان حملوں کو ممکن بنانے کی پیش رفت" پر بھی نظر رکھنی ہوگی، جس میں ڈی این اے کے سٹرینڈز کو تخلیق کرکے جینیاتی پے لوڈ موصول کرنے کے لیے تیار کیے جانے والے کیریئر آرگانزمز کی تیاری شامل ہيں۔

Biodefense in the Age of Synthetic Biology نامی اس رپورٹ کی کمیٹی کے چیئر اور یونیورسٹی آف میشگن کے مائیکروبائیولوجسٹ مائیکل امپیریل (Michael Imperiale) کہتے ہيں "جس طرح امریکی حکومت نے سرد جنگ کے دوران کیمیاتی اور فزکس کے شعبوں میں پیش رفت پر نظر رکھی تھی، اسی طرح اس شعبے کی پیش رفت پر نظر رکھنا ضروری ہے"۔

تحریر: انٹونیو ریگالاڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors
Top