Global Editions

2008 سے 2018 تک امریکی انتخابی مہم کی ٹیکنالوجی

انتخابی مہم میں پہلی بار اوباما نے ٹیکنالوجیکل انقلاب برپا کر دیا۔اب یہ کہاں جا رہا ہے؟

ایک دہائی کیا فرق ڈالتی ہے؟

غور کریں: 2008 میں، آئی فون کو متعارف ہوئے ایک سال سے کم عرصہ ہواتھا۔ بلیک بیری اور ای میل نے کارپوریٹ اور سیاسی معلومات پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ سیاسی تشہیر اور مباحثے کے لئے ٹیلی ویژن غالب ذریعہ رہا۔ سوشل میڈیا ایک تجسس تھا؛ اسے استعمال کرنے والی حکومتوں اور سیاستدانوں میں بھی ایک نیاپن تھا۔ 2009 میں ایرانی الیکشن کے دوران احتجاج ہوئے اور ٹوئیٹر نےاسے ہیش ٹیگ کے ساتھ چلایا ۔ٹائم میگزین نے ٹوئیٹر کو"تحریک کا ذریعہ" قرار دیا اور بڑے صحافیوں اور سیاستدانوں کو احساس ہوا کہ اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کنکشن بنیادی طور پر بتا رہے ہیں کہ ہم کس طرح رہتے ہیں، کس طرح کام کرتے ہیں، کھیلتے ہیں،تحریک چلاتے ہیں اور حکومت چلاتے ہیں۔

اس وقت سے ہم حالیہ تاریخ میں سیاسی مہم کے سب سے تیزی سے ارتقاء کے ذریعے زندہ رہ رہے ہیں۔ ہر امریکی انتخابی سائیکل میں، ٹیکنالوجی کا استعمال جدید ہورہا ہے؛جن ٹولز نے باراک اوبامہ کو 2008 اور 2012 میں برتری دی، وہ 2016 ء میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت سے مختلف تھے۔

تو کیا اگلی چیزیں کیا ہو سکتی ہیں؟ نومبر کے وسط میں ہونیوالے مڈٹرم الیکشن کے لئے کانگریس کے امیدوار ٹرمپ کی جیت سے کیا سبق سیکھیں گے؟ کیمبرج تجزیاتی اسکینڈل کے بعد فیس بک کے الگورتھم میں تبدیلی کس طرح ووٹروں کو متاثر کرنے کے عمل کو تبدیل کرے گی؟ کیا 2020 یا 2024
اتنے ہی مختلف ہونگے2016سے جتنا2016مختلف تھا 2008سے۔؟
سب سے پہلے، یہاں ایک دہائی کی تاریخ ہے؟

2008

کلیدی ٹیکنالوجی جس نے باراک اوباما کو وائٹ ہاؤس پہنچایا وہ ان کے ٹویٹس یا اسمارٹ فون ایپلی کیشن نہیں تھی۔ ان کی انتخابی مہم میں ای میل، موبائل فون اور ویب سائٹس نے مل کر اہم کردار ادا کیا۔ جوان کے ٹیکنالوجی سے لیس عملے نے صرف امیدوار کے پیغام کو پہنچانے کے لئے ویب سائٹ کا استعمال کیا۔ انہوں نے حامیوں کو ایک دوسرے سے ملانےاور خود کو منظم کرنے کے لئے بھی فعال کیا۔ اس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر نچلی سطح تک مہم چلائی گئی۔
اوبامہ نے مائی ڈاٹ باراک اوبامہ ڈاٹ کام(My.BarackObama.com)ویب سائٹ پر سماجی نیٹ ورکنگ کی خصوصیات کو مربوط کیا، جہاں حامی گروپوں کو تشکیل دے سکتے ہیں، پیسہ جمع کر سکتے ہیں، مقامی فنکشن کر سکتے تھے اور ووٹروں کے بارے میں پڑوس سے معلومات حاصل کر سکتے تھے۔اس مہم نے آن لائن انرجی کو آف لائن انرجی میں بدلا جس سے پرائمریوں اور عام انتخابات کے دوران ووٹروں پر فرق پڑا۔

یقیناً، اس مہم سےیہ تکلیف نہیں ہوئی کہ اوباما بہت سے نوجوانون کے لئے ایک منفرد اور متاثر کن امیدوار تھا۔ وہ امریکی افریقن ہونے کے ساتھ نوجوان اور طلسماتی شخصیت کا حامل تھا۔ لیکن وہ موجودہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے میں کامیاب رہا جس نے ایک انتخابی مہم جوئی میں امریکہ کی موروثی سیاست کی رکن ہیلیری کلینٹن کو پرائمری میں شکست دی اور عام انتخابات میں ایک مقبول جنگ کے ہیرو جان مکین کو شکست دی۔

2012

2012 کی مہم میں ان ٹیکنالوجیوں کو مزید استعمال کیا گیا۔ ٹی وی مباحثوں کے لئے اہم سیاسی ذریعہ رہا لیکن اگست 2012 تک، اکثریت امریکی بالغوں کی فیس بک پر موجود تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ ووٹرز اب سوشل نیٹ ورک کے چیٹ روم یاکمپیوٹر کی سکرین پر بحث کرسکتے ہیں۔ اس چیز سے مہم کے بارے میں حقیقی وقت میں فیڈ بیک دینا ، فنڈ ریزنگ کرنا،اپیل کرنا یا پیغامات کو پھیلانا آسان ہو گیا۔

ایک مرتبہ پھر اوباما نے مہم جوئی مہم کےلئے سافٹ ویئر بنائے کے لئے ایک بہترین ٹیم بنائی۔ پیغامات پھیلانے سے فنڈ ریزنگ سے مختلف ذرائع کو ٹارگٹ کرنا، ری الیکشن میںڈیٹا سائنس نے غیر معمولی بلندیوں کو چھوا۔ اوبامہ کی ٹیم نے جدید تجزیاتی ماڈل بنائے جنہوں نے ذاتی سماجی ،ای میل اور سوشل میڈیا کی سرگرمی کا استعمال کرتے ہوئے ذاتی سطح تک پہنچایا۔

ریپبلکن پارٹی کی سائیڈ نے بھی زبردست سمارٹ ٹولز بنانے کی کوشش کی لیکن بری طرح ناکام ہوئے۔ رومنی کی مہم "اورکا(Orca)" جس کا کام رضاکاروں کے پلیٹ فارم سےانتخابات والے دن ووٹرز کو نکالنے کاتھا، سخت تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے یہ سبق ملاکہ بڑےآئی ٹی کے پروجیکٹ کو منظم انداز میں نہ کرنے سےکس طرح مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس وقت ڈیموکریٹس اور ریپبلکن کے درمیان ٹیکنالوجی کے استعمال میں وسیع فرق رہا۔

2016

کئی طریقوں سے، ہیلیری کلنٹن کی صدارتی مہم کا آغاز اوبامہ کی طرح ہی تھا۔

سابق گوگلر سٹیفنی ہنن(Stephanie Hannon) کی قیادت میں انجینئرز کی ایک بڑی ٹیم نے ووٹرز کے رجسٹریشن اور ٹرن آؤٹ پر خصوصی توجہ کے ساتھ کئی ٹولز بنائے اور مہم کے فیصلوں سے آگاہی کے ایک تجزیاتی یونٹ بنایا۔ کلنٹن کی ٹیم نے ڈیموکریٹک پارٹی کے بارے میں ادارہ کے طور پر مطلع کیا اور قاتل ایپ بنانے کی بجائے چھوٹی چیزوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی ۔

اس کے برعکس ٹرمپ کی مہم ٹوئیٹر پر مہارت اور جارحیت سے جواب دینے پر مبنی تھی۔جب اوباما اور کلنٹن کی ٹیموں نے 2012 اور 2016 میں اپنے سسٹمز بنانے کے لئے وسائل خرچ کیے، ٹرمپ کی مہم نے شیلف ٹولز اور روزمرہ لوگوں کا انتخاب کیا۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور نسبتاً آسان ویب سائٹس کے ذریعے ووٹروں کو ٹارگٹ کیا۔ انہوں نے فیس بک ایپس سےڈیٹا حاصل کیا اور تجارتی مشتہرین سے ٹارگٹ کے ٹولز حاصل کیے۔

اس کوشش میں کیمبرج اینالیٹیکا(Cambridge Analytica) نے اس کوشش میں کتنی مدد کی، ابھی تک اس بات کا فیصلہ ہونا ہے۔جس فرم نے ٹرمپ مہم کے لئے کام کیا، اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے 5,000ڈیٹا پوائنٹس سے 220 ملین امریکیوں کا نفسیاتی پروفائل لیا۔

ابھی تک براڈ پارسکیل Brad Parscale))،جنہوں نے ٹرمپ کے ڈیجیٹل آپریشن کو چلایا تھا اور 2020 کے مہم مینیجر میں اس کا نام دیا گیا ہے، نے زور دیا ہے کہ مہم نے ان کی پروفائلز کو استعمال نہیں کیا، بلکہ ریپبلکن پارٹی کے ڈیٹا کو استعمال کیا گیا۔

ابھی تک 100,000ڈالر یااس سے زائد کے سیاہ اشتہارات Dark ads)) کے اثرات کا حساب لگانا مشکل ہے جن کی فیس بک نے تصدیق کی کہ یہ روس نے اپنے پلیٹ فارم سے چلائے تھے۔ یہ لاگت فیس بک پر کلنٹن اور ٹرمپ کے مقابلے میں لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے سے کم تھی۔یہ رقم اوپن سیکرٹس(OpenSecrets) کے اندا زے کے مطابق 2016میں 6.5بلین ڈالر کے مقابلے میں بھی بہت چھوٹی تھی جو پورے صدارتی انتخابی کے سائیکل پر لگے۔
جبکہ ٹرمپ کی مہم میں درجنوں انجنیئروں اورتجربہ یہ کار سٹاف شامل نہیں تھا، تاہم اس کے علاوہ کچھ اور تھا جس نے اس ٹیکنالوجی کے خلا کو پورا کرنے میں مدد دی۔ یہ فیس بک، ٹویٹر، اور گوگل کے ملازمین تھے جن کو ریپلیکن ہمدروں نے اپنے ساتھ ملایا ہوا تھا۔ ان ملازمین نے براہ راست کمپین دفاتر میں سٹاف کو بتایا کہ ان پلیٹ فارمز سے زیادہ سے زیادہ فائدہ کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کلنٹن کی مہم کو اس اجتماعی سروس کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ کلنٹن کی مہم نے فیس بک پر لاکھوں ڈالر اشتہارات پر بھی خرچ کیے ہیں لیکن یہ کام منظم انداز میں نہیں ہوا۔

اس کے لئےہمارے پاس فیس بک کے اپنے الفاظ ہیں۔کمپنی کے اندرونی وائٹ پیپر، جسے بلوم برگ نیوز نے اس سال کے شروع میںحاصل کر کے رپورٹ کیا تھا، کے مطابق کلنٹن نے جون سے نومبر تک66,000 مختلف اشتہارات کا تجزیہ کیا جبکہ ٹرمپ نے 5.9 ملین اشتہارات کا تجزیہ کیا۔پارسکیل نے سی بی ایس کے پروگرام 60 منٹ کو بتایا کہ انہوں نے وہ روزانہ50,000 سے 60,000 اشتہارات ٹیسٹ کیے۔یہ، میمو کے الفاظ میں، "نتائج کے لئے فیس بک کی صلاحیت کو بہتراستعمال کیا گیا"۔

ان سب سے اوپر، ٹرمپ مہم میں ٹرمپ کے خود کی بولنے کی صلاحیت دونوں سوشل میڈیا اور سیاسی نازک وقت کے لیےبالکل مناسب تھی۔ تجزیہ کار فرم میڈیا کوانٹMediaQuant)) کے مطابق ٹرمپ کی باقاعدگی سےغصہ دلانے والی تقاریر کی صلاحیت نے ان کے لئے مین میڈیا پر 5.9بلین ڈالرکی مفت توجہ حاصل کی جو کہ کلنٹن کے بارے میں دوگنا تھی۔

اور یہ ایک غلطی ہو گی کہ اگر ہم میڈیا کی توجہ اور اس کو چلانے والی خبر کو بھول جائیں جو کہ فیس بک کی اشتھاری مہم سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ہیلری کلنٹن کے نجی ای میل سرور اور ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی اور اس کے مہم کے انچارج کے ای میلز کے لیک سیکنڈل ،جو روسی ہیکزر کا کام لگتے تھے، نےٹرمپ کے حق میں وسیع کوریج حاصل کی۔

2018

اس سال مہم پھر سے کئی ٹیکنالوجی کے ٹولز کے ذریعے ووٹروں کو تلاش کرنے اور ان کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے فوکس کر ے گی کہ وہ کس طرح ذاتی اشتہارات بنا سکتے ہیں، رضاکارانہ کال پر آسکتے ہیں اور عطیہ کی درخواستیں کریں گے۔ لیکن اب ٹارگٹ زیادہ موثر ہو گیا ہےکیونکہ ووٹروں کے زیادہ اعداد و شمار دستیاب ہوتے ہیں اور اس کو استعمال کرنے کے اوزار بہتر اور زیادہ سے زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔

ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی نے پارٹی کے امیدواروں کے لئے وینڈرز کی مارکیٹ قائم کی ہے۔ بائیں بازو کی طرف جھکائو رکھنے والی ہائی گراؤنڈ لیبز میں پولنگ، سستےاشتہارات، "حوصلہ افزائی کی سائنس،" اور فنڈ ریزنگ ٹولز جیسا کہ کال ٹائم ڈاٹ اےائی CallTime.ai)) کو استعمال کیا جاتا ہے ۔ کال ٹائم ڈاٹ اےائی مصنوعی ذہانت کے ذریعے عطیات کی اپیل کرتی ہے۔ دائیں بازو کی طرف جھکائو رکھنے لنکن نیٹ ورک ایپ مارکیٹ قدامت پسند مہم کے لئے دستیاب ہیں جو کہ زیادہ تر ان ہی وینڈر کی ہیں۔

مڈ ٹرم الیکشن میں ٹرمپ انتظامیہ کو ووٹرز نے دیکھ کر بتانا ہے۔ ٹیکنالوجی کا زبردست استعمال سخت مقابلوں میں فرق ڈال سکتا ہے۔ اگر نوزائیدہ امیدوار مین میڈیا کی طرف سے نظر انداز ہوتے ہیں لیکن ان کے پیغامات لوگوں تک پہنچ رہے ہوتے ہیں تو دستیاب اوزار نوزائیدہ سیاسی لوگوں کوتیزی سے توجہ اور فنڈزبڑھانے کی براہ راست اجازت دیتے ہیں۔ اگرچہ وہ ذرائع ابلاغ کے ذریعہ نظر انداز نہیں ہوتے ہیں۔ ایک 28 سالہ کمیونٹی کے ایک کارکن الیگزینڈریہ نے 20 سال سے نیویارک کے ڈیموکریٹک پرائمری کو ایک وائرل ویڈیو کی وجہ سے شکست دی۔

روس کے "سیاہ اشتہارات" اور کیمبرج تجزیاتی اسکینڈل کے بعد، کیا آن لائن مہم کم جائے گا؟ جی ہاں، لیکن زیادہ نہیں۔ ٹویٹر اور فیس بک نے سیاسی اشتہارات کو زیادہ شفاف بنایا ہے اور عوام کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ دیکھ سکیں کہ ان اشتہارات کو کون لایا ہے اور مشتہرین کو ایک جانچ پڑتال کےعمل میں ڈال دیا ہے؛ گوگل سے امید ہے کہ وہ اس معاملے میں فیس بک کی پیروی کر یگا۔ لیکن صیح شفافیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام ادا شدہ سیاسی اشتہارات کی فائل ایک عوامی ویب سائٹ پر کھل سکے گی جسے لوگ ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے اور ایک ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (API) کے ذریعے لوگ خود کو ٹویٹر یا فیس بک پر لاگ ان کیے بغیر ڈیٹا حاصل کرسکیں گے۔اس چیز کو قانونی حیثیت دی جائے گی نہ کہ ضاکارانہ طور پر ۔ ( رازافشاء: میں اس حوالے سے ایک پوزیشن پر ہوں تب سے جب میں نے سن لائٹ فائونڈیشن میں سینٹروں کی ایماندار اشتہارات ایکٹ (Honest Ads Act) کامسودہ تیار کرنے میں مدد کی۔ اگر اس کو لاگو کیا گیا تو یہ نہ صرف راز افشاں کر یگا بلکہ الیکشن مہم کی بھی تعریف کریگا تاکہ آن لائن پلیٹ فارمز کو شامل کیا جا سکے۔

کسی بھی صورت میں یہ چیزیں صرف مسئلہ کا ایک چھوٹا سا حصہ حل پیش کرتی ہے۔ یاسی تنظیموں اور غیر ملکی ریاستیں طویل عرصے سے غیر منافع والے ذرائع کے ذریعے کالا دھن( Dark Money) بغیر شناخت کے سیاسی مہموں میں میں کامیابی ڈالتی ہیں اور اس سال جولائی میں، امریکی محکمہ خزانہ نے ان قوانین کو مزید آسان کر دیا۔ سوشل میڈیا پر اشتھارات کو ریگولیٹ کرنا غیر ملکی ریاستوں کو غلط معلومات پھیلانے سے نہیں روکے گایا سپریم کورٹ کے فیصلوں کو واپس نہیں کروائے گا جس نے پچھلی دہائی میں امریکی کمپین- فنانس قوانین کو کمزورکیا ہے۔

2020 اور اس کے بعد

اگلی صدارتی مقابلے میں نہ صرف زیادہ نئے ٹولز استعمال کیے جائیں گے بلکہ پرانی ٹکنیکس بھی استعمال ہونگی: زیادہ ڈیٹا، بہتر الگورتھم اور اس کے نتیجے میں، زیادہ اچھے طریقے سےووٹروں کو ٹارگٹ بنانا ، خاص طور پر ان کو جو ایک ضلع یا ریاست میںایک امیدوار کے حق میں زیادہ اہم کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔

شاید جس چیز کا زیادہ ارتقا ہو گا، وہ ہے پیغامات کس طرح بنائے جاتے ہیں اور پھر ان کو ووٹروں میں پھیلایا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لئےورچوئل رئیلٹی ٹائون ہال میٹنگ یا جیوٹارگٹنگ کی شعبدہ بازی ہو سکتی ہے جس میں وٹرز کو اشتہارات مثال کے طور پر اس وقت بھیجے جائیں جب وہ پولنگ سٹیشن کے قریب ہوں۔

بہت سارے لوگ اب اپنے موبائل پر اچھی قسم کا براڈ بینڈ انٹرنیٹ رکھتے ہیں جو کہ ہائی کوالٹی کی ویڈیو ویڈیو چلا سکتے ہیں۔ کچھ سال پہلے ایسا ممکن نہیں تھا۔ اس وجہ سے بہت سارے نامعلوم امیدوار تھوڑے بجٹ میں راتوں رات مشہور ہو جاتے ہیں جیسا کہ اوکاسا-کارٹیز۔
اگرچہ موبائل ویڈیو کے غلط معلومات پھیلانے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے، لکین یہ بہت جلدی مشہور ہو جاتی ہے۔ ڈیپ فیکس (Deepfakes) بنانے والے سافٹ وئیر آسانی سے دستیاب ہیں جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک بندے کےجسم پر دوسرے بندے کا سرلگا دیتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے ٹولز جنریٹو ایڈورسیل نیٹ ورکس (GANs) جو ایک دوسرے کے خلاف دو الگورتھم کو لڑاتے ہیں، ایک مکمل مصنوعی تصویر بناتے ہیں جو کہ بالکل حقیقی لگتی ہے۔

اگر 2016 کے صدارتی مقابلے جھوٹی خبریں لائے ،تو 2020 میں اس کو حقیقی سے فرق کرنے کی جدوجہد ایک نیا سطح تک پہنچ جائے گی۔ فیس بک جیسی کمپنیاں پہلے ہی سازشیں اور نفرت انگیز تقاریر پھیلانے کی وجہ سے محاصرے میں ہیں۔ معاشرہ بھی ان کو ٹھیک ہونے کا کہہ رہا ہے اور قانون ساز اور ریگولیٹرز بھی تاکہ یہ دنیا کے سب سے بڑے معلومات پھیلانے والے پلیٹ فارم کسی قسم کی ذاتی غلط معلومات نہ پھیلائیں۔

تحریر: الیکس ہاورڈ Alez Howard))

Read in English

Authors
Top